Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ہند۔پاک کشیدگی کو کم کرنے سرتاج عزیز کا دورہ ایک شاندار موقع

ہند۔پاک کشیدگی کو کم کرنے سرتاج عزیز کا دورہ ایک شاندار موقع

امرتسر میں 3 ، 4 ڈسمبر کو ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس، وزیراعظم نریندر مودی اور صدر افغانستان خطاب کریں گے
نئی دہلی۔23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج ہندوستان کو واقف کروایا کہ 3 اور 4 ڈسمبر کو امرتسر میں منعقد شدنی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز شرکت کریں گے۔ وزارت خارجہ ہند کے ترجمان وکاس سروپ نے آج اس بات کی توثیق کی کہ ہم کو پاکستان کی جانب سے یہ سرکاری تصدیق مل چکی ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز افغانستان پر منعقد ہونے والی اس ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس سے وزیراعظم نریندر مودی اور صدر افغانستان اشرف غنی خطاب کریں گے جس میں تقریباً 40 ممالک کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کے باعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے خاص کر گزشتہ سال ڈسمبر میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد جامع باہمی مذاکرات منعقد ہونے والے تھے۔ انہیں منسوخ کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں جانب کوئی ملاقات اور بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ اس ایک سال میں پاکستان کی جانب سے اعلی سطح کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ اس  سال جنوری میں اکستان کے دہشت گرد گروپس نے پٹھان کوٹ ایربیس پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والے کئی واقعات رونما ہوئے تھے۔

کہا جارہا ہے کہ سرتاج عزیز کے اس دورہ کے اعلان نے دونوں ملکوں میں قربت پیدا کرنے کا ایک شاندار موقع ہے۔ دونوں ممالک سے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے یہ دورہ معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بھی توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مذاکرات کا جلد آغاز ہوگا۔ تاہم اس سلسلہ میں سرکاری طور پر کوئی توثیق نہیں کی گئی ہے۔ ہندوستانی عہدیدار اس خصوص میں لب کشائی سے گریز کررہے ہیں اور یہ بنتانے سے انکار کررہے ہیں کہ آیا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس سہ رخی کانفرنس کے موقع پر باہمی ملاقات بھی ہوگی یا نہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کا خیال یہ ہے کہ ہندوستان کو ہی اس طرح کی تجویز رکھنی چاہئے، یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا سرتاج عزیز کی ہندوستانی ہم منصب سشما سوراج امرتسر تک سفر کرپائیں گے یا نہیں کیوں کہ وہ علیل ہیں اور اس کانفرنس میں شرکت سے قاصر ہوں گی۔ ایسی صورت میںان کے جونیئر وزراء کو روانہ کیا جاسکتا ہے یا کابینی وزراء میں سے کسی کو کانفرنس میں شرکت کے لئے بھیجا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کو پاکستان کی جانب سے منعقد کیا گیاتھااور اس کانفرنس میں سشما سوراج نے شرکت کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے سرتاج عزیز سے باہمی بات چیت بھی کی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر جامع باہمی مذاکرات کا بھی اعلان کیا تھا۔ ہندوستان نے حال ہی میں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ جو اسلام آباد میں منعقد ہورہی تھی۔ اروسی رویہ کے باعث ہندوستان نے سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس موقع پر ستاج عزیز کے حوالے سے کہا گیا کہ ہندوستان کے برعکس جس نے پاکستان میں سارک چوٹی کانفرنس کا سبوتاج کی تھا۔ پاکستان اور ہارٹ آف ایشیاء میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے ہندوستان کے لئے ایک مثبت ردعمل ظاہر کرے گا۔ یہ کانفرنس ہندوستان میں منعقد ہورہی ہے اور یہ کشیدگی کم کرنے کا اچھا موقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT