Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ہند۔ پاک کے مابین بات چیت کی منسوخی بدبختانہ : راجناتھ سنگھ

ہند۔ پاک کے مابین بات چیت کی منسوخی بدبختانہ : راجناتھ سنگھ

LUCKNOW, AUG 23 (UNI):- Union Home Minister Rajnath Singh (C) attending a function at Rashtriya Sanskriti Sansthan in Lucknow on Sunday. UNI PHOTO-21U

مستقبل میں مذاکرات کا امکان پڑوسی ملک کی مرضی پر منحصر ، اوفا میں مسئلہ کشمیر کیوں نہیں اٹھایا گیا ، وزیر داخلہ کا استفسار

لکھنؤ۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے قومی سلامتی مشیران کی بات چیت کو منسوخ کردینا بدبختانہ عمل ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ مستقبل میں کسی بھی مذاکرات کا امکان پڑوسی ملک کی مرضی پر منحصر ہے۔ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے مضبوط موقف رکھتا ہے اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو مسئلہ کشمیر پیش کرنے میں اس قدر دلچسپی تھی تو اوفا میں وزیراعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے دوران اس نے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا ۔ انہوں نے پاکستان پر اوفا میں نریندر مودی اور نواز شریف کے مابین طئے پائے ایجنڈہ سے انحراف کا الزام عائد کیا ۔

قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور پاکستان کے ہم منصب سرتاج عزیز سے یہ بات چیت آج مقرر تھی جس کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے یہاں سنسکرت ودیاینتی تقریب کے موقع پر کہا کہ پاکستان میں اس بات چیت کی منسوخی کے لئے ہندوستان کو موردالزام ٹھہرا رہا ہے جبکہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے مذاکرات منسوخ کردیئے ہیں، ہندوستان نے نہیں۔ ہندوستان ہمیشہ اپنے ہمسایہ ملکوں سے اچھے اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں کوششیں جاری رہیں گی۔ پاکستان کو جولائی میں روس کے مقام اوفا میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے درمیان ملاقات کے دوران جو ایجنڈہ طئے ہوا تھا، اس سے انحراف نہیں کرنا چاہئے۔ کشمیری علیحدگی پسند قائدین کے ساتھ سرتاج عزیز کی ملاقات پر ہندوستان کے اعتراضات پر پاکستان کی تنقید کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ قومی سلامتی مشیران سطح کی بات چیت میں تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو پہلے سے ہی طئے شدہ ایجنڈہ کے مطابق بات چیت کرنی چاہئے۔ پاکستان کے اس دعویٰ پر کہ کشمیر اصل ایجنڈہ ہے، وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسا ہے تو پھر انہوں نے پہلے ہی فیصلہ کیوں نہیں کیا کہ وہ قومی سلامتی مشیران مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیران کے درمیان بات چیت میں دہشت گردی ہی واحد ایجنڈہ تھا۔ مستقبل میں کسی قسم کی بات چیت کے امکان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ بات آپ پاکستان سے پوچھ لیں، میں اس تعلق سے کیسے جواب دے سکتا ہوں۔ ہندوستان کے اگلے قدم کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اب پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے، جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کا متمنی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کل کہا تھا کہ ہندوستان اپنی اس بات پر قائم رہے گا کہ یہ مذاکرات صرف دہشت ردی پر ہوں گے۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ بات چیت کے لئے ایجنڈہ اوفا میں ہی طئے ہوا تھا لیکن پاکستان نے اس ایجنڈہ پر قائم نہیں رہا، اس ایجنڈہ کو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان بات چیت کے وقت ہی طئے کیا گیا تھا اور دونوں ملکوں نے قبول بھی کرلیا تھا۔ ہندوستان اس ایجنڈہ پر زور دے رہا تھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ سرتاج عزیز کی کشمیری علحدگی پسند قائدین سے ملاقات پر ہندوستان کے اعتراض کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی مشیر مذاکرات میں تیسرے فریق کی گنجائش نہیں۔

TOPPOPULARRECENT