Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / ہند اور جاپان کے مابین بُلٹ ٹرین ، دفاع اور نیوکلیئر توانائی پر سمجھوتہ

ہند اور جاپان کے مابین بُلٹ ٹرین ، دفاع اور نیوکلیئر توانائی پر سمجھوتہ

ممبئی تا احمدآباد 98,000 کروڑ روپئے مالیتی بُلٹ ٹرین پروجیکٹ کو قطعیت ، نریندر مودی اور شنزو ایبے چوٹی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

نئی دہلی، 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور جاپان نے اپنے باہمی تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہونچاتے ہوئے دفاع ، نیوکلیئر توانائی کے علاوہ 98,000 کروڑ روپئے کے مصارف سے ممبئی ۔ احمدآباد کے درمیان پہلی بُلٹ ٹرین نیٹ ورک کی تعمیر کے بشمول دیگر کئی کلیدی شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کے جاپانی ہم منصب شنزو نے آج یہاں ملاقاتوں کے دوران مختلف بین الاقوامی اور علاقائی مسائل کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جس کے بعد حکمت عملی کے سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔ ایبے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان کے اقتصادی خوابوں کو پورا کرنے کے معاملے میں کوئی بھی دوست جاپان سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔ مودی نے ایبے کو شخصی دوست اور ہند ۔ جاپان ساجھیداری کا عظیم چمپئن قرار دیا۔ دستخط شدہ سمجھوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ تیز رفتار، محفوظ اور بھروسہ کیلئے معروف ’’شنکانسن‘‘ کے ذریعہ ممبئی۔ احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل متعارف کرنے سے اتفاق ایک تاریخی فیصلے سے کم نہیں ہے۔ مودی نے کہا کہ اس پروجیکٹ کیلئے شنزو ایبے نے انتہائی آسان شرائط پر تکنیکی اعانت اور 12 ارب امریکی ڈالرس کا غیرمعمولی پیاکیج دیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ بلٹ ٹرین نیٹ ورک، مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد سے ملک کے تجارتی و اقتصادی صدر مقام ممبئی سے مربوط ہوگا۔ ممبئی تا احمدآباد کے درمیان 8 گھنٹوں کا سفر بُلٹ ٹرین کے آغاز کے بعد صرف تین گھنٹوں میں مکمل ہوجائے گا۔

دونوں وزرائے اعظم نے ہند ۔ جاپان ویژن 2025ء پر بھی مشترکہ بیان جاری کیا۔ مودی نے بات چیت کے بعد اعلان کیا کہ ’’جاپان کے ساتھ ہمارے خصوصی تعلقات کے پیش نظر ہندوستان مارچ 2016ء سے تمام جاپانی شہریوں کو ’’آمد پرویزا‘‘ جاری کرے گا۔ شنزو ایبے نے کہا کہ ’’ہم نے باہمی تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہونچایا اور اب اس کی کلیاں مہکنے لگی ہیں‘‘۔ہندوستان اور جاپان نے گزشتہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات مکمل کرتے ہوئے سیول نیوکلیئر توانائی کے شعبہ میں وسیع تر تعاون کے ایک جامع سمجھوتہ پر دستخط کئے ہیں، تاہم چند تکنیکی و قانونی مسائل کی یکسوئی کے بعد حتمی سمجھوتہ پر دستخط کئے جائیں گے۔ نیوکلیئر توانائی کی مارکٹ میں جاپان ایک کلیدی ملک ہے اور اس کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ سے امریکہ نیوکلیئر توانائی اداروں ویسٹنگ الیکٹرانک کارپوریشن اور جی ای انرجی اِنکارپوریشن کو ہندوستان میں ایٹمی پلانٹس کے قیام میں سہولت ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں اداروں میں جاپان کی سرمایہ کاری ہے۔ وزیراعظم مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب ایبے کے مابین آج ہند ۔ جاپان 9 ویں سالانہ چوٹی مذاکرات کے بعد اس سمجھوتہ پر دستخط کئے گئے۔ یہ سمجھوتہ نیوکلیئر شعبہ میں وسیع تر تعاون پر مبنی ہے۔ نیوکلیئر سمجھوتہ کی
اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اس کی افادیت سمجھوتہ سے کہیں زیادہ ہے جو دراصل ایک پرامن اور محفوظ دنیا کیلئے دونوں ملکوں (ہند و جاپان) کے مابین حکمت عملی کی شراکت داری اور باہمی اعتماد کی ایک نئی سطح کی تابناک علامت ہے۔ مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شنزو ایبے نے واضح کیا کہ نیوکلیئر شعبہ میں ہندوستان کے ساتھ جاپان کا تعاون صرف پرامن مقاصد تک محدود ہے، بالخصوص 2011ء کے دوران فکوشیما نیوکلیئر توانائی پلانٹ کے سانحہ کے بعد ہندوستان کے ساتھ نیوکلیئر سمجھوتہ پر پیشرفت کے خلاف جاپان میں سیاسی مزاحمت کی جارہی تھی۔ نیوکلیئر توانائی کے پرامن مقاصد کے استعمال کیلئے ہند۔جاپان حکومت کے سمجھوتہ کا دونوں وزرائے اعظم نے خیرمقدم کیا۔ مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی تفصیلات اور داخلی ضوابط کو قطعیت دینے کے بعد حتمی سمجھوتہ کیا جائے گا۔
مودی، ایبے کی گنگا آرتی میں شرکت
بعدازاں وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے جاپانی ہم منصب شنزو ایبے کے ہمراہ وارانسی میں آج قدیم دششوامیدھ گھاٹ پر غروب آفتاب کے حسین نظارے کے درمیان ’گنگا آرتی‘ میں شرکت کی، جو دونوں ملکوں کے درمیان روایتی ثقافتی روابط میں ایک نئے باب کا نقیب ہے۔ دونوں قائدین نے اس گھاٹ پر تقریباً 45 منٹ گزارے، جو مودی کے پارلیمانی حلقہ میں واقع ہے، جہاں انھوں نے گنگا آرتی کا مشاہدہ کیا جو دریا کے کناروں پر خوبصورت رقص بندی پر مبنی روزانہ انجام دی جانے والی رسم ہے۔

TOPPOPULARRECENT