Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ہند سے امریکی مفادات کی طرح چین سے پاکستانی مفادات وابستہ

ہند سے امریکی مفادات کی طرح چین سے پاکستانی مفادات وابستہ

ٹرمپ کا دور بھی پاکستان کیلئے بہتر ثابت ہوگا، سابق فوجی جنرل پرویز مشرف کا جان ہاپکنس یونیورسٹی میں کلیدی خطاب
واشنگٹن ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی  حکمراں پرویز مشرف نے آج پاک ۔ چین تعلقات کو ہند ۔ امریکہ تعلقات کے مماثل قرار دیا اور امریکہ سے خواہش کی کہ وہ اس شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرے اور خطہ میں اپنی حکمت عملی سے سمجھوتہ کرنے تیار رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے مشرف نے 1999ء تا 2008ء پاکستان پر حکمرانی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو بھی وہی اہمیت دی جانی چاہئے جس کا وہ مستحق ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے اس بدلتے ہوئے دور میں امریکہ کو بھی اپنی حکمت عملی کے مفاد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے صرف ’’میں بھلا اور میرا مفاد بھلا‘‘ والی پالیسی کارکرد ثابت نہیں ہوگی۔ آج کئی ابھرتی معیشتیں ہیں جن کے بارے میں کوئی بھی لاعلم نہیں ہے۔ مشرف کا اشارہ روس اور چین کی جانب تھا۔ ان ابھرتی معیشتوں کا ہمارے خطہ میں اپنا اپنا مفاد وابستہ ہے۔ جان ہاپکنس یونیورسٹی کے اسکول آف اڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں اپنے کلیدی خطاب کے دوران مشرف نے امریکہ کو مشورہ دیا کہ وہ فی الحال اپنے اطراف و اکناف رونما ہونے والے حالات کا جائزہ لے اور اس کے بعد فیصلہ کرے کہ اس کے مفاد میں کیا بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روس، چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کیلئے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہیکہ 1999ء میں مشرف نے نواز شریف کی منتخبہ جمہوری حکومت کا تختہ پلٹتے ہوئے پاکستان کے ڈکٹیٹر بن گئے تھے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا

اور یہ کام دورخی ہونا چاہئے۔ امریکہ کے ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں کیونکہ امریکہ اسے اپنے قومی مفاد میں سمجھتا ہے لہٰذا امریکہ کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کے قومی مفاد میں ہیں۔ مشرف نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے دیرینہ دفاعی تعلقات رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ سماجی اور معاشی شعبوں میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے حلیف رہے ہیں۔ ان تعلقات کو ختم نہیں کیا جاسکتا انہیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دورحکومت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری واقع ہوگی جس میں ضرورت اس بات کی ہیکہ ٹرمپ ہند پاک تعلقات کی پیچیدگیوں اور افغانستان، طالبان اور القاعدہ کی پیچیدگیوں کو سمجھیں۔ 9/11 کے بعد طالبان اور القاعدہ کو افغانستان میں شکست فاش دی گئی تھی۔ وہ فوج کی فتح تھی  اور اس فتح نے افغانستان میں دیڑھ سال تک ایک خلاء پیدا کردیا تھا کیونکہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ فوج کی فتح کو سیاسی فتح میں تبدیل کردیا جاتا۔ افغانستان میں پختون فرقہ کی اکثریت ہے لیکن حکومت میں انہیں کوئی خاص نمائندگی نہیں دی گئی جسے ہم فاش غلطی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ جنرل محمود درانی، عالمی بینک کے سابق نائب صدر شاہد جاوید برکی نے بھی خطاب کیا اور اپنے شخصی تجربات بتائے۔ جاوید برکی نے کہا کہ پاکستان کو مغربی ممالک میں ہمیشہ ایک ناکام ملک کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسی کہانی بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو کبھی اچھی نہیں ہوسکتی۔

TOPPOPULARRECENT