Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / ہند و پاک مذاکرات جاری رہنا ضروری

ہند و پاک مذاکرات جاری رہنا ضروری

ظفر آغا

وزیراعظم نریندر مودی کی جس طرح ان کے ہم منصب نواز شریف نے لاہور میں کچھ دن قبل مہمان نوازی کی اور پھر جس طرح اس کے چند دنوں بعد پاکستانی دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ ایربیس پر حملہ کیا اس کو آپ پیٹھ میں چھرا گھونپنا نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ ۔ قریب پچیس برس ہونے کو آئے پاکستان کسی نہ کسی طرح ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کی ایک جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کبھی پنجاب تو کبھی کشمیر اور کبھی ممبئی تو کبھی پٹھان کوٹ ۔ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔ لیکن ہندوستان صبر و تحمل سے نہ صرف سب کچھ برداشت کرتا رہا ہے بلکہ اس نے مستقل پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ کبھی واجپائی بس پر سوار ہو کر لاہور گئے تو کبھی مودی کابل سے سیدھے لاہور پہنچ گئے اور اس کا بدلا کیا ملا ، کارگل اور پٹھان کوٹ ۔ آخر پاکستان کی ہندوستان کے خلاف یہ دشمنی کب تک اور کیوں ؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ہندوستان کب تک پاکستان کی یہ ریشہ دوانیاں برداشت کرتا رہے گا ۔
یہ بات تو اب دنیا پر واضح ہے کہ پاکستانی نظام پچھلے کچھ عرصے سے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ۔ پاکستانی نظام کا سب سے اہم اور طاقتور حصہ اس کی فوج ہے جو ہندوستان کے ساتھ امن نہیں چاہتی ۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور جمہوری جماعتیں ہیں جو ہندوستان کے ساتھ امن کی خواہاں ہیں ۔ فوج کا فائدہ اس میں ہے کہ وہ ہندوستان کا خوف پیدا کرکے پاکستانی عوام کے دلوں میں یہ جذبہ پیدا کرے کہ پاکستانیوں کو ہندوستانیوں سے محض فوج ہی محفوظ رکھ سکتی ہے اور اس طرح اقتدار پر فوج کی گرفت برقرار رہے ۔
دوسری جانب نواز شریف جیسے جمہوری لیڈر ہیں جن کا مفاد اس بات میں ہے کہ ہندوستان کے ساتھ امن قائم ہو ، تاکہ پاکستانی سیاست میں وہاں کی فوج کی اہمیت کم ہو اور اس طرح پاکستان  میں جمہوری نظام قائم ہو تاکہ ان کا قد ملک کی سیاست میں اونچا ہو ۔ تب ہی تو نواز شریف کبھی واجپائی اور کبھی مودی کو گلے لگاتے ہیں ، لیکن فوج ہر بار ان کی کوشش ناکام بنادیتی ہے ۔ یعنی ہندوستان سے قیام امن کے مسئلہ پر پاکستانی نظام میں فوج اور جمہوری پارٹیوں کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے اور اس رسہ کشی کا شکار ہندوستان ہورہا ہے ۔

دانشمندی اسی بات میں ہے کہ پٹھان کوٹ کے باوجود ہندوستان کے خارجہ سکریٹری منصوبہ کے مطابق پاکستان کا دورہ کریں اور دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو بند ہونے کے بجائے امن مذاکرات جاری رہیں۔ مودی حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی ایسا بیان نہیں دیا ہے جس سے یہ اشارہ مل رہا ہو کہ پٹھان کوٹ کے بعد اب مذاکرات نہیں ہوں گے ، بلکہ وزیراعظم نے فون پر نواز شریف سے بات کی ہے اور نواز شریف نے فوج کے سربراہ کے ساتھ میٹنگ کرکے پٹھان کوٹ حملے کی مذمت کی ہے ۔ امکانات یہی نظر آرہے ہیں کہ مودی حکومت پٹھان کوٹ کے باوجود امن مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ کررہی ہے اور یہی کارگر راستہ ہے ،کیونکہ چار چھ دہشت گرد جب چاہیں آئیں اور وزیراعظم کی تمام اس کوششوںکو کچھ گولی بارود سے ناکام بنادیں ، یہ تو مناسب بات نہیں ہے ۔

نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے روز سے پاکستان کے ساتھ قیام امن کو اولیت دی ہے ۔ تب ہی تو انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیتے وقت نواز شریف کو مدعو کیا تھا ، جو ان کی دعوت پر اس وقت دہلی تشریف لائے تھے ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت دونوں وزرائے اعظم کے درمیان قیام امن کے سلسلے میں ہی عہد و پیمان ہوئے ہوں گے ۔ تب ہی تو اس کے جواب میں مودی نے نواز شریف کی سالگرہ کی مبارکباد دینے سیدھے لاہور پہنچ گئے اور امن مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا  ۔ اسی سے گھبرا کر فوج نے پٹھان کوٹ پر حملہ کردیا ۔ یعنی پاکستانی فوج مودی اور نواز شریف دونوں کو بلیک میل کررہی ہے ۔ اس بلیک میلنگ کا جواب یا تو یہ ہے کہ دونوں پاکستانی فوج کے آگے ہاتھ کھڑے کردیں یا پھر اس بلیک میلنگ کو ناکام بنانے کے لئے امن مذاکرات جاری رکھیں ۔ عقل کا تقاضہ یہی ہے کہ مذاکرات جاری رہیں ۔
یوں تو ابھی تک ہندوستان کی جانب سے یہ قطعی اعلان نہیں ہوا ہے کہ پٹھان کوٹ کے باوجود ہندوستانی خارجہ سکریٹری مذاکرات کے لئے پاکستان جائیں گے یا نہیں لیکن امکانات اسی بات کے ہیں کہ یہ دورہ ہوگا ۔ ہندوستان کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا وہ پاکستان کی دہشت گردی کے آگے ہتھیار ڈال دے گا یا پھر ہم نے جو قیام امن کا فیصلہ کیا ہے اس پر برقرار رہیں ۔ اگر ہم سرینڈر کرتے ہیں تو جیت پاکستانی فوج کی ہوگی جو ہماری اصل دشمن ہے اور اگر امن مذاکرات ہم جاری رکھتے ہیں تو پھر جیت مودی اور نواز شریف کی ہوگی جو ہندو پاک دونوں عوام کے مفاد میں ہے ۔ اسلئے پٹھان کوٹ جیسے دہشت گردانہ حملے کے باوجود ہند و پاک مذاکرات جاری رہنے چاہئیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب عوام چین کی سانس لے سکیں ۔

TOPPOPULARRECENT