Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / ہند و پاک کے درمیان دوستانہ ماحول ضروری

ہند و پاک کے درمیان دوستانہ ماحول ضروری

کلدیپ نیر
پٹھان کوٹ میں جو کچھ ہوا وہ علامت ہے نہ کہ مرض ۔ مرض ہے نفرت کا جو ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں بیٹھ چکا ہے ۔ دس سال پہلے اس نفرت کا مظاہرہ ممبئی پر حملوں کی شکل میں ہوا اور اس بار پٹھان کوٹ کے فوجی ہوائی مستقر پر حملہ کی صورت میں نمودار ہوئی ہے ۔ملک کے بٹوارہ کی لکیر جب مذہب کی بنیاد پر سرحد کھینچی گئی ، اس وقت سے تین نسلیں اس بٹوارہ کا بوجھ ڈھوتی رہی ہیں اور یہ تقریباً بڑھی چلی گئی کیونکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطہ ہی نہیں ہوپایا ۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان میں شائع ہونے والی کتابوں میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے اور ہندوستان کے ہندوؤں کی غلط تصویر پیش کی گئی ہے ۔ خود پاکستان میں اعتدال پسند افراد کی طرف سے احتجاج ہونے پر کتابوں پر نظر ثانی کی گئی ۔پھر بھی تاریخ میں محمود غزنوی جیسے افراد کی عظمت بیان کی گئی ہے جس نے گجرات کے قدیم سومناتھ مندر کو تباہ کیا ۔ بعض انتہا پسند ہندوؤں نے ہندوستان میں دوبارہ تاریخ لکھنے کی کوشش کی ہے ، لیکن اس میں انہیں برائے نام ہی کامیابی ملی کیونکہ یہاں کے سیکولر سیاسی نظام کا کردار ان کے آڑے آیا ۔ کوشش تو وہ اب بھی کررہے ہیں کیونکہ بعض لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ اعلان کہ وہ تحقیقات کرکے پٹھان کوٹ فوجی مستقر پر حملہ کے قصورواروں کو سزا دیں گے ، ہند اور پاکستان کو منقسم کرنے والی تاریک سرنگ کے سرے پر روشنی بن کرآیا ہے اور ان کی خوشگوار یقین دہانی بھی اسی پس منظر میں کی گئی ہے ۔ وہ واقعی امن کے حامی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس میں انہیں کامیابی مل پائے گی ؟
نواز شریف کو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے برطرف کیا تھا جن پر ملک سے غداری کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے ۔ یہ بات کہ جنرل مشرف ضمانت پر باہر ہیں ،اس دباؤ کا اشارہ ہے جو مسلح افواج نے  نواز شریف پر ڈالا ہے ۔ پاکستان میں حرف آخر کا حیثیت رکھنے والی فوج سابق فوجی کو پھانسی چڑھتے دیکھنا برداشت نہیں کرسکتی چاہے ان کا جرم کتنا ہی سنگین اور گھناؤنا ہو ۔ اس سے قانون کی بے بسی بھی ظاہر ہوتی ہے خصوصاً جب ملزم مسلح افواج کا رکن ہو ۔ معاملات یہیں تک محدود نہیں ۔ اگر مسلح افواج کا ان سے دور کا بھی سروکار ہو تو فوجی عدالتیں دیوانی مقدمات کی کارروائی اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں ۔ ارتداد کے مقدمات کی سنوائی کرنے والی مذہبی عدالتوں کی نگرانی میں کوئی دخیل نہیں ، یہاں تک کہ وزارت عظمی بھی نہیں ۔ نواز شریف کی ہمت ہے کہ انہوں نے ایک معقول بیان تو دیا کیونکہ ان پر ایک طرف فوج نگاہ رکھتی ہے تو دوسری طرف مذہبی عناصر۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ لاہور سے پاکستان میں نواز شریف کی شبیہ کی بہتری میں واقعی مدد کی ہے ۔ مودی نے بھانپ لیا ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ہندوستان سے مذاکرات کے مخالف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سکریٹریوں  کے مذاکرات منقطع نہیں بلکہ موخر ہوئے ہیں ۔ ہندوستان میں پکتے ہوئے پاکستان مخالف جذبات کی وجہ سے مفاہمت بہت ضروری ہے ۔ انتہا پسندوں کو دونوں ملکوں کی قربت منظور نہیں کیونکہ انہیں عداوت کے ماحول میں پھلنے پھولنے کا موقع ہاتھ آتا ہے ۔ انہوں نے تو بعض مندروں اور مسجدوں میں عورتوں کو عبادت سے بھی روکنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک طرف احمد نگر کاشنی سنگناپور مندر ہے تو دوسری طرف ممبئی کی حاجی علی درگاہ ۔ ایک عام آدمی بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہتا ہے ۔
میں نے مہاراشٹرا کے مندر میں عورتوں کو داخل ہونے سے روکنے والوں کے خلاف سرکاری کارروائی کا بلاوجہ انتظار کیا ۔ مردوں کی بالادستی قائم رکھنے کے لئے ہندو جنونی حلقے نے عورتوں کو آگے کیا ہے جس سے مسئلہ الجھ گیاہے ۔ لیکن حکومت کو جنونیوں کے کھیل پر نظر رکھنی چاہئے تھی ۔ ان میں سے بعض افراد سے بات کرکے مجھے معلوم ہوا کہ عورتوں کو داخل ہونے دیا گیا تو اس سے عبادت گاہ کا تقدس ختم ہوجائے گا ۔ بعض لوگوں نے یہ دلیل دی کہ ہم نے انہیں بہت رعایت دے دی ۔ یہ جواب سن کر میں حیرت میں پڑگیا ۔ کیونکہ میں یہ نہیں سمجھ سکاکہ عورتوں کو مندرکے اندرونی حصے میں عبادت سے روکنے کی اجازت انہیں کسی نے دی ۔ شاید تعصب زدہ مہاراشٹرا حکومت نے اسے امن وقانون کا معاملہ سمجھ کر اسے حل کرنے کی اجازت پولیس کو دے دی ۔ مرکز میں مودی حکومت نے عذر لنگ کا سہارا لیا کہ امن و قانون صوبائی حکومت کا سروکار ہے لیکن یہ امن وقانون کا کوئی نیا مسئلہ توتھا نہیں ۔ عبادت گاہوں میں خواتین کے داخلہ کا حق اتنا ہی آئینی ہے جتنا کہ مردوںکے لئے ہے ۔ انتہا پسندوں کی ہی جیت ہوئی اور اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ جب مذہبی شخصیتوں کی بات آئے تو انہی کی بات اوپر رہتی ہے ۔ خوش قسمتی سے اس معاملہ کی مخالفت میں چند شہروں میں ردعمل اور مظاہرے ہوئے لیکن اس محدود ردعمل سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کسی مندر میں عبادت کرنے کے عورتوں کے حقوق کے نفاذ سے پہلے ہندوستانی سیاسی نظام کو طویل سفر طے کرنا پڑے گا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہی طریقہ مساجد میں بھی رائج ہے مثلاً ممبئی میں حاجی علی کی درگاہ عورتوں کے لئے داخلہ ممنوع ہے ۔چند سال پہلے کی بات ہے کہ ایک کنڑ قلم اداکارہ نے کیرالا کے سبری مالا مندر میں بھگوان ایپا کی مورتی کو چھولیا تھا ۔ پھر تو آسمان ٹوٹ پڑا اور ایپا کے معتقدین نے غصہ میں آکر اپنے مذہبی جذبات کے مجروح کئے جانے پر ایک دور کی معروف اداکارہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ کیرالا ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر ہوا جو چھ سال بعد خارج ہوگیا اور فیصلہ میں عدالت نے یہ کہا کہ اداکارہ کے خلاف لگائے گئے الزامات ناقابل قبول ہیں۔
درحقیقت ہندوستان میں دیگر کئی مندر ہیں جن میں عورتوں کا داخلہ بند ہے اور ان میں ہماچل پردیش کا بابا بالک ناتھ مندر ، راجستھان کا کارتیکہ مندر اور آسام کا پت باسو ساترا مندر بھی شامل ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو ایک پارسی کے ساتھ شادی کرنے پر پوری کے جگناتھ مندر سے واپس کردیا گیا تھا ۔ اسی طرح ایک تنازعہ اس وقت کھڑا ہوگیا جب مشہور کرناٹک گلوکار کے جے یسوداس کو جو شری کرشن کے بھگت تھے گرو ویور مندر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ مجھے ایک اور واقعہ یاد ہے کہ سابق وفاقی وزیر ویلار روی کے پوتے سے متعلق ایک تقریب کے بعد مندر کی دھلائی کا حکم دیا گیا تھا اور اس کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ لڑکے کی دادی یا نانی عیسائی تھی ، حالانکہ اس کے ماں اور باپ دونوں ہندو تھے ۔ اس طرح کے واقعات عدم رواداری کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں جو ملک کی سیاست کا حصہ بن گئی ہے ۔ عوام کو اس کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT