Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / ہند ۔پاک 1965 ء کی جنگ کے کچھ تلخ انکشافات

ہند ۔پاک 1965 ء کی جنگ کے کچھ تلخ انکشافات

واشنگٹن 27 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے 1965 ء میں ہندوستان کے اس موقف کی تائید کی تھی کہ کشمیر میں استصواب رائے عامہ نہیں کروایا جائے گا۔ اس زمانے کے کچھ خفیہ امریکی دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ انکشاف ہوا۔ 1965 ء میں جس وقت ہند ۔ پاک جنگ عروج پر تھی، اُس وقت کے وزیراعظم ہند لال بہادر شاستری نے اس وقت کے صدر امریکہ لنڈن جانسن کو ایک مکتوب تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے یہ بتایا تھا کہ ہندوستان غیر مشروط جنگ بندی کے لئے آمادہ ہے۔ 16 ستمبر 1965 ء کو لال بہادر شاستری نے تحریر کیا تھا کہ کشمیر میں استصواب عامہ نہیں کروایا جاسکتا کیوں کہ اس سلسلہ میں 1948 ء کی اقوام متحدہ کی قرارداد ناقابل قبول ہے۔ لال بہادر شاستری نے بھی دراصل یہ باتیں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے تبصرہ کے ردعمل کے طور پر کہی تھی جہاں بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان خود کو ایک کمتر درجہ کا ملک کہلائے جانے کے لئے تیار ہے لیکن کشمیر پر اپنے دعوے سے پاکستان کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ جس دن ہندوستانی فوج پاکستان میں داخل ہوئی تھی اُس وقت امریکی سفیر متعینہ اسلام آباد والٹر پیٹرک میک کوناٹی نے اُس وقت کے صدر پاکستان ایوب خان اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی تھی جو امریکہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے یہ طمانیت چاہتے تھے کہ کشمیر میں استصواب عامہ کروایا جائے۔

بات چیت کے دوران مسٹر والٹر نے اُن سے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ جنگ کا ذمہ دار پاکستان ہے کیوں کہ پاکستان نے ہی کشمیر میں اپنی فوج بھیجی اور امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ امریکہ نے وہ ہتھیار پاکستان کو کمیونسٹ چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے دیئے تھے جبکہ پاکستان نے اُن کا استعمال ہندوستان کے خلاف کیا۔ اسی روز امریکی  انتظامیہ (جانسن حکومت) نے مسٹر والٹر کو ایک ٹیلی گرام روانہ کیا تھا جس میں انھیں پاکستان کے تئیں سخت موقف اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان خود کو لاچار اور بے قصور بناکر پیش نہ کرے جبکہ جنگ کا ذمہ دار واحد پاکستان ہی تھا۔ لال بہادر شاستری کو ایک امن پسند قائد قرار دیا جاتا ہے۔ اگر اُن کی زندگی وفا کی ہوتی تو وہ ہندوستان کے لئے مزید کئی کارنامے انجام دے سکتے تھے۔ اُن کے زمانے میں ہند ۔ پاک جنگ سے وہ ناخوش تھے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ تاریخ اُنھیں ایک ایسے وزیراعظم کی حیثیت سے یاد کرے جس کی میعاد کے دوران ملک جنگ سے دوچار ہوا۔

اُن کے پیشرو جواہرلال نہرو کو بھی چین کے ساتھ جنگ کا ناخوشگوار دور دیکھنا پڑا تھا۔ جئے جوان جئے کسان کا نعرہ بھلا کون فراموش کرسکتا ہے اس کے باوجود لال بہادر شاستری نے اپنے مکتوب میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ جموں و کشمیر پر فوج کشی کرتے ہوئے وہ وہاں پر قابض ہوجائے گا تو یہ پاکستان کی فاش غلطی ہوگی کیوں کہ ہندوستانی فوج ایسا کبھی ہونے نہیں دے گی۔ دوسری طرف شاستری جی نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے کسی بھی استصواب رائے عامہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پاکستان کے پاس ہتھیار اور گولہ بارود کا ذخیرہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا تھا۔ امریکہ کو یہ اندیشہ تھا کہ جنگ بندی میں تاخیر پاکستان کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کرسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ طاقتور ہندوستانی فوج پاکستانی فوج پر حاوی ہوجائے کیوں کہ اُس وقت تک ہندوستانی فوج پاکستان کے پنجاب علاقہ میں کافی اندر تک پہونچ چکی تھی۔ اس وقت بھی ایوب خان اور بھٹو بضد تھے کہ امریکہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے کہ کشمیر میں استصواب عامہ کروایا جائے ورنہ پاکستان امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT