Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ہند ۔ امریکہ، دفاعی شراکت داری کو مضبوط تر کرنے کی جانب گامزن

ہند ۔ امریکہ، دفاعی شراکت داری کو مضبوط تر کرنے کی جانب گامزن

قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کی امریکی وزیر دفاع ، وزیر ہوم لینڈ سکیورٹی اور اپنے ہم منصب سے تفصیلی بات چیت
واشنگٹن۔25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور امریکہ نے اب یہ عزم کرلیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی شراکت داری کو مضبوط سے مضبوط تر کریں گے جس کے لئے دونوں ممالک نے بعض علاقائی اُمور پر جن میں میری ٹائم سکیورٹی اور دہشت گردی سے موثر طور پر نمٹنا بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول امریکہ کے دورہ پر ہیں، جہاں انہوں نے امریکی وزیر دفاع جنرل (ریٹائرڈ) جیمس میاٹس، وزیر ہوم لینڈ سکیورٹی جنرل (ریٹائرڈ) جان کیلی اور اپنے امریکی ہم منصب لیفٹننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر سے ملاقات کی۔ ان تمام ملاقاتوں میں جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش اور ان سے موثر طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اجیت دوول نے سینیٹر جان میک کین سے جو بااختیار سینیٹ مسلح خدمات کمیٹی کے صدرنشین ہیں اور سینیٹر رچرڈبر جو سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹلیجنس کے صدرنشین ہیں، ملاقات کی۔ اس موقع پر میاٹیس نے خصوصی طور پر جنوبی ایشیا میں استحکام کے قیام کیلئے ہندوستانی مساعی کی زبردست ستائش کی۔ دونوں قائدین نے یہ عزم کیا کہ ہند۔ امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات کو اہمیت دیتے ہوئے اسے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے گا۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس سے مندرجہ بالا قائدین کی ملاقات کی تفصیلات بڑھ کر یہ بات بتائی۔ دوول اور میاٹیس کے درمیان علاقائی سیکیورٹی بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تاکہ دہشت گردی کا مکمل صفایا کیا جاسکے۔ دونوں ہی اس بات کے خواہاں ہیں کہ ہند ۔ امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات اور شراکت داری کو مزید فروغ دیا جائے۔ دوول اور میک ماسٹر کی وائیٹ ہاؤس میں جمعرات کو ملاقات ہوئی تھی اور دونوں ہی نے کچھ ایسے انداز میں بات چیت کی جس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے وہ نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ پرعزم بھی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ہند۔ امریکہ دونوں ہی آج دنیا بھر میں عظیم جمہوری ممالک کہلاتے ہیں اور اس جمہوری اقدار کو قائم و دائم رکھتا ہے۔ دوسری طرف ہندوستانی ذرائع نے بتایا کہ دوول نے جن جن امریکی اعلیٰ سطحی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ وہ بڑی ہی خوشگوار، مثبت تعمیری اور گرمجوشانہ تھیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ کے صدر امریکہ کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سے اب تک دوول کا یہ دوسرا دورۂ امریکہ ہے۔ ڈسمبر میں دوول نے اس وقت کے این ایس اے نامزد جنرل (ریٹائرڈ) مائیکل فلائن سے ملاقات کی تھی لیکن انہوں نے اندرون دو ہفتہ امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے تنازعہ کے پس منظر میں استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد فلائن کی جگہ میک ماسٹر کی تقرری عمل میں آئی تھی جو ہندوستان کے بارے میں مثبت نظریات کے حامل ہیں۔ ان تمام اجلاس میں ہندوستان  کے معاشی منصوبے اصلاحات اور ترقی و فروغ جیسے موضوعات زیربحث آئے۔
سینئر عہدیدار نے اپنی شفافیت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ یاد رہے کہ اس وقت امریکہ میں نفرت انگیز جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کو موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ ایک طرف برطانیہ میں بریگزیٹ کو لے کر وزیراعظم تھریسامے کو پے درپے شکستوں کا سامنا ہے، وہیں اوباما کیئر کو برخاست کرنے اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن عوامی طاقت کا شایہ انہیں اندازہ ہیں۔ اس وقت پورے امریکہ میں اوباما کیئر کو لے کر اتھل پتھل مچی ہوئی ہے اور اس طرح نفرت انگیز جرائم سے پائی جانے والی بے چینی اور اوباما کیر کو لے کر اتھل پتھل نے ٹرمپ انتظامیہ کی نیندیں حرام کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT