Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / ہند ۔ امریکہ تعلقات کو تن آسانی سے نہیں لیا جاسکتا : ایمی بیرا

ہند ۔ امریکہ تعلقات کو تن آسانی سے نہیں لیا جاسکتا : ایمی بیرا

نفرت انگیز جرائم اور امیگریشن پالیسی نے تعلقات کے راستہ کو ناہموار کیا ہے
واشنگٹن ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک اعلیٰ سطحی ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین نے آج ہند ۔ امریکہ تعلقات کے بارے میں مثبت پیش قیاسی کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات تو بے شک خوشگوار رہیں گے تاہم ہمیں ان تعلقات کو تن آسانی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جہاں سڑک مسطح نہ ہونے کی وجہ سے جھٹکے لگ سکتے ہیں۔ ان کا اشارہ امریکہ میں ہونے والے منافرت انگیز جرائم کی جانب تھا جہاں تقریباً ہر روز کسی نہ کسی ہندوستانی خصوصی طور پر کسی مسلمان کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منافرت انگیز جرائم اور امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی کی وجہ سے یہ سیدھا راستہ اب ٹیڑھا میڑھا اور ناہموار ہوگیا ہے۔ تین میعادوں تک کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک امریکی کانگریس مین ایمی بیرا نے کہا کہ ہند ۔ امریکہ تعلقات کے خوشگوار ہونے کیلئے ہم پُرامید ضرور ہیں تاہم ہمیں محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں حالات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر نظر ذرا بھی چوکی تو نہ  جانے کونسا ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجائے اور اس کیلئے ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ ایمی بیرا ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جس کا انعقاد یو ایس انڈیا فرینڈ شپ کونسل اور یو ایس انڈیا بزنس کونسل کی جانب سے کیپٹل ویزیٹر سنٹر پر کیا گیا تھا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ یہاں بات صرف ایک انتظامیہ کی دوسرے انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی نہیں بلکہ یہ تعلقات اکیسویں صدی کے تاریخی اور اہم ترین تعلقات ہونے چاہئے جس کا تذکرہ زبان زد خاص و عام ہو لہٰذا ہم کانگریسی ارکان اور ہندوستانی ایم پیز کے درمیان تعلقات کو مستکم کرنے کی کوشش کریں گے

کیونکہ یہی تعلقات دیرپا اور پائیدار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہند ۔ امریکہ تعلقات ہمیشہ سے ہی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ایمی بیرا نے کہا کہ ہندوستان بحیرہ ہند کے خطہ میں استقامت کیلئے اہم رول ادا کررہا ہے۔ اگر ہم امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما اور وزیراعظم ہند نریندر مودی کے درمیان شراکت داری پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں دونوں ممالک کی کیمسٹری اور ایک دوسرے کیلئے احترام کا جذبہ واضح نظر آئے گا۔ موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان بھی جو بات ہوئی ہے وہ بھی کافی حوصلہ بخش ہے اور ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم کا عنقریب ایک بار پھر دورہ امریکہ اس ات کی مثبت علامت ہے کہ ہند ۔ امریکہ تعلقات ہمیشہ کی طرح خوشگوار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکہ میں رونما ہونے والے نفرت انگیز جرائم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے سب سے پریشان کن بات یہ ہیکہ ایسے واقعات سے امریکہ کی نیک نامی داغدار ہورہی ہے۔ یاد رہیکہ نفرت انگیز جرائم کے نام پر ایشیائی شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے خصوصی طور پر ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو۔ دوسری طرف کیلیفورنیا کے ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین روکھنہ نے بھی امریکہ کے بہتر مستقبل کی پیش قیاسی کی اور یہ بھی کہا کہ کچھ ناخوشگوار واقعات کا رونما ہونا انتہائی بدبختی کی بات ضرور ہے لیکن یہ ہمیشہ رونما ہونے والے واقعات نہیں ہیں اور ان میں بتدریج کمی ہوجائے گی۔ امریکہ کو دنیا بھر میں انتہائی روادار اور شفاف جمہوری ملک سے تعبیر کیا جاتا ہے جس پر ہمیں فخر ہے اور اسی فخر کے ساتھ ہم جینا چاہتے ہیں۔ انڈیانا سینیٹر جوڈونلی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو خصوصی اور غیرمعمولی قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT