Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / ہند ۔ ایران باہمی اورعلاقائی مسائل پر تبادلہ خیال

ہند ۔ ایران باہمی اورعلاقائی مسائل پر تبادلہ خیال

دونوں ملکوں کے دفترخارجہ کے درمیان تیسرے مرحلہ کی مشاورت
نئی دہلی ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور ایران کے درمیان آج سیکوریٹی توانائی اور رابطہ کاری کے بشمول باہمی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہندوستان نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد کردہ معاشی تحدیدات کی برخاستگی کے بعد تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی جہت تک لے جانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ہند ایران دفترخارجہ کے درمیان تیسرے مرحلہ کی مشاورت کے دوران جس کی صدارت معتمدین خارجہ ایس جئے شنکر اور ابراہیم راہیم پور نے کی۔ ایران کے ڈپٹی وزیر برائے ایشیاء اور پیسیفک امور نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا۔ توانائی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کا جائزہ لینے کے علاوہ دونوں ممالک نے علاقائی سلامتی اور اس خطہ کی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان وکاس سروپ نے کہا کہ ایران ایک اہم معاشی اور سیکوریٹی شعبہ کے علاوہ توانائی پیدا کرنے کا اہم وسیلہ ہے۔ تہران کے خلاف معاشی تحدیدات ہٹا لئے جانے کے بعد ہندوستان اس ملک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو نئی بلندی پر لیجانا چاہتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ترجیحی تجارتی انتظامات کے امکان کا جائزہ لیا اور فرزاد بی گیس بلاک میں ہندوستان کی شراکت داری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی جانب سے دباؤ کے باعث ہندوستان نے تیل سربراہ کرنے والے دوسرے سب سے بڑے ملک ایران سے تیل کی خریداری میں کمی لائی تھی۔ سال 2009-10ء کے درمیان ہندوستان نے 21.2 ملین ٹن تیل خریدا تھا لیکن 2013-14ء میں صرف 11 ملین ٹن تیل خریدا گیا۔ اب تک ہندوستانی کمپنیوں نے ایران میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کیا تھا کیونکہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے معاشی تحدیدات عائد کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT