Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / ہند ۔ جاپان معاہدے

ہند ۔ جاپان معاہدے

زندگی ساتھ بھی دیگی تو کہاں تک دے گی
آپ رہبرہوں تو تکمیلِ سفر میں شک ہے
ہند ۔ جاپان معاہدے
وزیراعظم نریندر مودی نے جاپان کے ساتھ سیویلین نیوکلیئر معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔ اس معاہدہ کے ذریعہ نیوکلیئر پیداوار کیلئے ایندھن، آلات اور ٹیکنالوجی سربراہ کی جائے گی۔ ہندوستان کو اپنی تیز تر معاشی ترقی کیلئے ایٹمی توانائی کا  حصول ضروری ہے۔ جاپان کے ساتھ ہندوستان کا یہ معاہدہ تاریخی قدم سمجھا جارہا ہے۔ ہندوستان اور جاپان نے مل کر ایک صاف ستھری توانائی پیدا کرنے کی شراکت داری کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے، اسے ایک قانونی  حیثیت حاصل ہوئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہندوستان نیوکلیئر توانائی کے پرامن استعمال کیلئے ذمہ دارانہ اقدامات کرے گا۔ ہندوستان کی انفراسٹرکچر شعبہ میں تیزی سے ترقی کے حصہ کے طور پر ہائی اسپیڈ ریلوے ٹرین کی تیاری عمل میں آئے گی۔ ممبئی اور احمدآباد کے درمیان تیز رفتار ٹرین کا منصوبہ جاپان کی بلیٹ ٹرین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ جنوبی  ایشیاء میں جاپان اور چین کے درمیان تیز رفتار ٹرین سازی کی دوڑ میں شدید مسابقت پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے معاہدوں کی پیشکش سوائے ہندوستان کے کسی دوسرے ایشیائی ملک کو نہیں کی گئی ہے۔ وزیراعظم مودی نے وزیراعظم جاپان شینزوابے سے ملاقات کی۔ ان کی یہ ملاقات تقریباً ایک سال بعد ہوئی۔ جب 5 بلین امریکی ڈالر کے معاہدہ کے ذریعہ ریل لائن تیار کی جائے گی۔ چین اور جاپان کے درمیان جس طرح ’’ریل جنگ‘‘ چل رہی ہے۔ اس سے خطہ میں یہ بالادستی کی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی معاشی طاقتوں میں ہائی اسپیڈ ٹرین کنٹراکٹس کی مسابقت میں شدت نے چین کو جاپان پر سبقت لے جانے کا موقع دیا تھا۔ایسے میں جاپان کیلئے ہندوستان کی دوستی جغرافیائی اعتبار سے اہمیت اختیار کر گئی۔ وزیراعظم جاپان نے گذشتہ ماہ ہی ہندوستان کا دورہ کرتے ہوئے اس پراجکٹ پر تیسرے مرحلہ کی بات چیت کی تھی جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر توجہ دی گئی۔ اب مودی کے دورہ جاپان اور مختلف معاہدوں پر دستخط کے آنے والے دنوں میں بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے نزدیک جب تک کسی بھی پراجکٹ کی پائیداری اور سلامتی کو اہمیت نہیں دی جائے گی، اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے بارے میں دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس عالمی ادارہ کی قانونی حیثیت کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہئے۔ 21 ویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے تمام ہمخیال ملکوں کو قریب ترین ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ایک دوسرے کی امیدواری کی حمایت میں اپنے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کوشش کرتے ہیں تو اقوام متحدہ میں جاپان اور ہندوستان کو توسیع پسندانہ اقدام کے ساتھ مستقل رکنیت دی جاسکے گی۔ ایشیاء پیسیفک ریجن میں تیزی سے فروغ پائی بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے ہندوستان کو تسلیم کرلیا گیا ہے تو جاپان اپیک میں ہندوستان کی رکنیت کی بھی پرزور حمایت کو اہمیت حاصل ہوگی۔ ماحولیات میں تبدیلی پر پیرس معاہدہ کو پرزور طور پر روبہ عمل لانے کی جانب بھی مودی اور جاپانی وزیراعظم نے اپنے اپنے ممالک کے عہد کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدہ کی تکمیل کے حصہ کے طور پر ٹیکنالوجی اور مینوفکچرنگ کیلئے جاپان سے معاہدے کئے ہیں تو آنے والے دنوں میں توقع کی جاسکتی ہیکہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، ہارڈویر، الیکٹرانکس گڈس تیار کرنے کے شعبوں میں بھی روزگار کو فروغ حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
نوٹ، نمک، شکر میںاُلجھا انسان
کیا اس ملک میں عوام کا ذہن حکومت کی من مانی پر سوال اٹھانے کی صلاحیتوں سے محروم ہوتا جارہا ہے؟ یہ سوال عوامی زندگی کے تسلسل کی ضمانت دیتا ہے مگر افسوسناک حقیقت یہ ہیکہ عوام  خاموشی کے ساتھ حکومت کے ہر ستم کو برداشت کرتے جارہے ہیں۔ پرانے نوٹوں کی منسوخی کے بعد دن بھر بینکوں، اے ٹی ایم سنٹرس پر طویل قطار بنا کر ٹھہرنے کو ہی اولین ضرورت سمجھ کر الجھے ہوئے ہیں۔ روپئے کی تبدیلی اور ضروری اشیاء کی قلت جیسے نمک، شکر اور پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ایک طرف عوام کو سڑکوں پر دیوانہ وار بھٹکنے چھوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف کالابازاری کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ پولیس لا انفورسمنٹ ادارے انکم ٹیکس، انٹلیجنس بیورو وغیرہ کا وجود دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ عوام کی نظروں کے سامنے حکومت ہر دن ایک نیا المیہ تخلیق کرتے جارہی ہے اور اس اختلاج قلب بڑھانے والی حکومت کے خلاف اُف تک کرنے سے عوام گریز کررہے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری کے تئیں بظاہر لاپرواہ دکھائی دے رہی ہے۔ عوام کے حق کا احترام کرنے کا مطلب یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس نے عوام کی طاقت کو غیراہم سمجھنا شروع کیا ہے۔ اس ملک کے عوام کا وقار کسی حکمراں کی نادانیوں سے باندھا جائے تو یہ سراسر قوم کی توہین سمجھی جائے گی مگر افسوس ہیکہ عوام نے اپنی ضروریات کو ایک چالاک حکمراں کے تابع کردیا ہے۔ اس لئے ہر ستم برداشت کرتے  جارہے ہیں۔ نمک فی کیلو گرام 200 تا 500 روپئے فروخت ہونے کی افواہ ریاستی و قومی سطح پر گشت کرنے والوں نے کالا بازاروں کو لوٹنے کا موقع دیدیا۔ آخر عوام اتنے عجلت پسند ثابت ہوکر بحران کا شکار کیوں ہورہے ہیں۔ جو شئے 14 تا 15 روپئے فی کیلو مارکٹ میں دستیاب ہے اس کے حصول کیلئے کئی گنا قیمت ادا کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ حکومت کو عوام کی پریشانیوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنی بقاء کی فکر رکھنی چاہئے کیونکہ ماضی میں اس نمک اور پیاز کی قلت نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT