Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / ہند ۔ پاک این ایس اے مذاکرات کی کامیابی کیلئے امریکہ پرامید

ہند ۔ پاک این ایس اے مذاکرات کی کامیابی کیلئے امریکہ پرامید

دونوں ملکوں کے درمیان تمام باہمی مسائل کی یکسوئی کیلئے مشترکہ کوشش ضروری

واشنگٹن۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی مشیران سطح کے مذاکرات سے قبل امریکہ نے آج اُمید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیران اپنے تمام باہمی مسائل سے نمٹیں گے۔ اس میں ’’متنازعہ‘‘ کشمیر مسئلہ بھی شامل ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے دونوں جانب مشترکہ کوشش ہوگی۔ وائیٹ ہاؤز کے قومی سلامتی کونسل میں جنوبی ایشیائی اُمور کے صدر اور ڈائریکٹر پیٹر آر لیوے نے کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرامن ملاقات اور بات چیت کے حق میں ہیں تاکہ یہ دونوں ممالک اپنے کلیدی مسائل کی یکسوئی کی کوشش کریں۔ چاہے یہ مسائل علاقائی ہوں یا دیگر مسائل ہوں۔ ہم کو ان مذاکرات کی کامیابی کی پوری امید ہے۔ لیوی نے جو جنوبی ایشیائی مسائل پر وائیٹ ہاؤز کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں ، کہا کہ امریکہ کو یہ تشویش ہے کہ آخر یہ دونوں ممالک اپنے تنازعات کو کب حل کریں گے۔

تنازعات کی تشدد کے ذریعہ یکسوئی کے بجائے پرامن بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ملکوں کے قومی سلامتی مشیران کے درمیان ہونے والی بات چیت سے توقعات وابستہ کرتے ہوئے پیٹر آر لیوے نے کہا کہ دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ مل جل کر بات چیت کرنے میں ہی ان کا مفاد ملحوظ ہے۔ مل بیٹھ کر اپنے تنازعات حل کرلینے میں ہی بہتری ہے۔ دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سرحد پر فائرنگ کے تبادلے سے زیادہ بہترین ذریعہ بات چیت ہی ہے۔ قومی سلامتی مشیر اجیت دوول 23 اگست کو پہلی مرتبہ نئی دہلی میں پاکستانی قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کررہے ہیں۔ روس کے اوفا مقام پر گزشتہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات میں اس بات چیت کا فیصلہ کیا گیا تھا جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اس اہم بات چیت سے قبل پاکستانی عہدیداروں نے کشمیر کے علیحدگی پسند قائدین کو مدعو کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ ہندوستانی اور پاکستانی حکومتوں پر چھوڑتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ لیوے نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور جموں و کشمیر ایک متنازعہ جگہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان مسائل کی بات چیت کے ذریعہ ہی یکسوئی ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT