Sunday , September 24 2017
Home / Editorial News / ہند ۔ پاک بات چیت کا التواء

ہند ۔ پاک بات چیت کا التواء

بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایک طویل وقفہ اور کئی رکاوٹوں کے بعد جو بات چیت شروع ہونے والی تھی اسے اب موخر کردیا گیا ہے ۔ پٹھان کوٹ میں ائر فورس ٹھکانہ پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد سے بات چیت ہونے کے تعلق سے شبہات ظاہر کئے جا رہے تھے اور ہندوستان نے بات چیت کے التوا کا اعلان کردیا ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی بات چیت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ماہ ڈسمبر میں بنکاک میں دونوں ملکوں کے مشیران قومی سلامتی کی ملاقات اور پھر وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کے بعد جس بات چیت کے احیاء کا اعلان کیا گیا تھا اسی وقت سے بات چیت کے تعلق سے اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ یہ خیال ضرور پیدا ہوگیا تھا کہ وہ عناصر جو نہیں چاہتے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین بات چیت ہو اور تعلقات معمول پر لائے جائیں ‘ وہ اس میں رکاوٹیں پیدا کرینگے اور کوئی ایسی کارروائی کرینگے جس سے بات چیت کا عمل سبوتاج ہوجائے ۔ پٹھان کوٹ فضائی ٹھکانہ پر حملہ ایسے ہی عناصر کی کارروائی تھی ۔ یہ انتہائی بدبختانہ اور افسوسناک کارروائی تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ‘تاہم اسی کارروائی کے ذریعہ امن کے دشمن جو عناصر ہیں وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے اور ہند ۔ پاک بات چیت التوا کا شکار ہوگئی ۔ یہ فیصلہ امن کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔ حالانکہ اس فیصلے کی اچھی بات یہ ہے کہ بات چیت کو التوا کا شکار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے مابین کسی طرح کی تلخ کلامی کا آغاز نہیں ہوا ہے اور نہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ حالات کو دیکھتے ہوئے یا پھر کسی دباؤ کے تحت ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بات چیت کو قدرے موخر کیا جائے ۔ اب یہ شبہات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ ہند ۔ پاک بات چیت کسی تیسرے ملک میں ہوگی ۔ اگر واقعتا ایسا کیا جاتا ہے تو یہ درست نہیں ہوسکتا کیونکہ ہندوستان و پاکستان کے مابین جو مسائل ہیں وہ قطعی باہمی نوعیت کے ہیں اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ہندوستان کا بھی یہ معلنہ موقف رہا ہے کہ ہند ۔ پاک مسائل باہمی طور پر بات چیت کے ذریعہ حل کئے جانے چاہئیں۔

بات چیت کے التوا سے یقینی طور پر دونوں ملکوں کے مابین دوستی اور امن کی خواہش رکھنے والے عناصر کو مایوسی ہوئی ہے ۔ کئی گوشے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین بہتر رشتے ہوں۔ تعلقات معمول پر آئیں ۔ تجارت کو فروغ دیا جائے ۔ عوام تا عوام رابطوں کو بہتر بنایا جاسکے ۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کے ذریعہ اپنے باہمی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں لیکن ان سارے گوشوں کو مایوسی ہوئی ہے اور وہ مٹھی بھر عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئے جو نہیں چاہتے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے تعلقات بہتر ہوجائیں۔ فی الحال صرف ایک مثبت پہلو سامنے آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے مابین بات چیت کے التوا کے باوجود کوئی تلخ کلامی شروع نہیں ہوئی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے پٹھان کوٹ حملہ کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں جئیش محمد تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کیا گیا ہے اور ہندوستان بھی اب کسی حد تک پاکستان کے بیانات اور اقدامات پر بھروسہ کرنے لگا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ واضح کیا تھا کہ پٹھان کوٹ حملہ کے بعد درکار کارروائیوں کے معاملہ میں پاکستان پر بھروسہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ وہ اس مسئلہ میں کسی کارروائی کیلئے پاکستان کو درکار وقت دینے کے حامی ہیں۔ پاکستان کو بھی یقینی طور پر اس مسئلہ میں اپنی سنجیدگی ظاہر کرنے کی ضرورت ہے اور اسے اپنے اس دعوی کو درست ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین مخالف ہند سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا ۔

دونوں ملکوں کے مابین اعتماد کی جو فضا پیدا ہونی شروع ہوئی ہے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور اس کو تقویت ملتی اگر پروگرام کے مطابق دونوں ملکوں کے معتمدین خارجہ کی ملاقات ہوتی اور تمام مسائل و موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ۔ ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ ایسا ہونا چاہئے تھا ۔ بات چیت کو جاری رکھنے میں ہی تعلقات میں بہتری کی راہ مل سکتی ہے ۔ جب تک بات چیت کا سلسلہ جاری نہیں رکھا جاتا اس وقت تک اعتماد کی فضا کو استحکام نہیں مل سکتا اور نہ ہی مسائل کی یکسوئی کی سمت کوئی پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ بات چیت کو جاری رکھتے ہوئے دونوں ملک ‘ امن کے مخالف عناصر کو بھی منہ توڑ جواب دے سکتے اور ان کے عزائم کو ناکام کرسکتے تھے ۔ دونوںملکوں کو چاہئے کہ وہ اعتماد کی فضا کو مستحکم کریں اور بات چیت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT