Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / ہند ۔ پاک بات چیت کی راہ پر

ہند ۔ پاک بات چیت کی راہ پر

یہ تارے چمکتے جو ہیں آسماں پر
زمیں پر کبھی ان کو لانا پڑے گا
ہند ۔ پاک بات چیت کی راہ پر
تقریبا سات سال کے عرصہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا عمل ایک بار پھر بحال ہونے جا رہا ہے ۔ وزیر خارجہ ہند سشما سوراج کے دورہ پاکستان نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جمود کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ در پردہ مشاورت حالانکہ دونوں ملکوں کے مابین ہوتی رہی ہے لیکن جامع نوعیت کی بات چیت تعطل کا شکار تھی ۔ اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد دونوں ملکوں کے تعلقات میں جمود کو ختم کرنے میں معاون رہا ہے ۔ پاکستان نے وزیر خارجہ ہندوستان سشما سوراج کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کیلئے مدعو کیا ۔ ابتدائی غور و خوض کے بعد ہندوستان نے اس دعوت کو قبول کیا اور سشما سوراج ‘ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری کے مثبت پیام کے ساتھ پاکستان گئیں۔ اس دورہ سے دونوں ملکوں کے مابین ایک بار پھر ماحول میں خوشگوار اثرات پیدا ہونے کی امیدیں بن گئی ہیں۔ جس طرح سے سشما سوراج نے ایک مثبت پیام کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا اسی طرح بظاہر پاکستان نے بھی پوری گرمجوشی کے ساتھ اسلام آباد میں ان کااستقبال کیا ۔ اس سے مثبت اشارے ملے ہیں اور اب باضابطہ طور پر اعلان کردیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے معتمدین خارجہ کا آئندہ ماہ ہندوستان میں اجلاس منعقد ہوگا ۔ یہ ایک بہت اچھی پیشرفت ہے ۔ اس سے ان تمام گوشوں کو اطمینان محسوس ہو رہا ہے جو دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری اور خوشگوار مراسم کے حامی ہیں۔ اب جبکہ دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو فریقین کیلئے ضروری ہے کہ وہ بات چیت کیلئے ماحول کو سازگار بنائے رکھیں۔ ایسے عناصر پر نظر رکھی جائے جو بات چیت کا ماحول متاثر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر ایسے عناصر پر لگام کسنے کی ضرورت ہے جو اپنی کارروائیوںاور اپنے اقدامات سے دونوں ملکوں کے مابین قیام امن کی کوششوں کو متاثر کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ فریقین کو بات چیت میںسنجیدگی کا ماحول برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور بات چیت میں بھی ایسے لب و لہجہ سے گریز کیا جانا چاہئے جو دوسرے فریق کیلئے قابل قبول نہ ہو ۔دونوں ہی فریقین ایسا ماحول کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے مابین تعلقات دہشت گردی کے مسئلہ پر تعطل کا شکار رہے ہیں۔ یہ تاریخ رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین آزادی کے بعد سے درجنوں مرتبہ بات چیت ہوئی ہے ۔ کئی مراحل میں مذاکرات کا عمل منعقد ہوا ہے لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ پیشرفت باہمی تعلقات میں نہیں ہوسکی ہے ۔ دونوں ملکوں کو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ بات چیت کی ناکامی کی وجوہات کیا رہی ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پرسکون اور پرامن پاکستان ہندوستان کے مفاد میں ہے اور ہندوستان کی ترقی سے پاکستان بھی زبردست استفادہ کرسکتا ہے ۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کرتے ہوئے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ ساری دنیا پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین اختلافات کی تاریخ رہی ہے ۔ اب وقت یہ تقاضا کر رہا ہے کہ ان اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ ایسا حل ہونا چاہئے جو دونوں ہی فریقین کیلئے قابل قبول ہو ۔ یہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ فریقین پوری سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں۔ کوششوں کی کامیابی اور ناکامی پر قبل از وقت کوئی رائے قائم کئے بغیر مثبت توقعات کے ساتھ آگے بڑھنا اہمیت کا حامل ہے ۔ جب پیشرفت ہوگی تو موقف میں قدرے لچک بھی پیدا ہوگی ۔ جب تک فریقین اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کرینگے اس وقت تک دوسرے فریق کو کسی بھی سمجھوتہ کیلئے راضی کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بہتری سے جنوبی ایشیا کے ماحول کو بھی سازگار بنانے اور ترقی کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
پاکستان میں حکومت کو خاص طور پر سنجیدہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک حکومت پاکستان دہشت گردی کے مسئلہ پر سنجیدگی سے کارروائی کرنے کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک ہندوستان کو مطمئن کرنا اس کیلئے ممکن نہیں ہوگا ۔ ہندوستان کیلئے بھی پاکستان کو اعتماد میں لے کر اپنے موقف کو واضح کرنا چاہئے ۔ دونوںملکوں کی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں ٹکراؤ کی صورتحال کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی ۔ تشدد اور دہشت گردی سے انسانیت کیلئے مسائل ہی پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اب جبکہ بات چیت سے اتفاق کرلیا گیا ہے تو موقف میں لچک اور سنجیدگی پیدا کرنا ضروری ہے ۔ جب تک ایسی سنجیدگی پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک امن کی سمت پیشرفت مشکل ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT