Monday , August 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہند ۔ پاک سیریز : آئندہ ماہ تک صورتحال واضح ہونے کی توقع

ہند ۔ پاک سیریز : آئندہ ماہ تک صورتحال واضح ہونے کی توقع

دونوں بورڈس کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط آئی سی سی میٹنگ میں ہوئی تھی ، پی سی بی عہدیدار نجم سیٹھی کا استدلال

کراچی ، 26 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)سفارتی کشیدگی میں اضافہ کے باوجود ڈسمبر میں ہند ۔ پاک سیریز منعقد ہونے کے تعلق سے پُرامید پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینئر عہدیدار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ صورتحال آئندہ ماہ تک واضح ہوجائے گی ۔ ’’مجھے ہندوستان سے آنے والے سیاسی بیانات یا اس سیریز سے متعلق میڈیا میں مختلف باتوں پر فکر نہیں ہے ۔ میں اسے اس طرح دیکھتا ہوں کہ ہند ۔ پاک تعلقات میں ہمیشہ پستی اور بلندی ہوتی رہی ہے اور موجودہ صورتحال اس قدر تشویشناک نہیں ہے کہ ڈسمبر میں کرکٹ سیریز کا انعقاد ممکن نہ ہو ‘‘۔ سیٹھی نے ایک انٹرویو میں مزید کہاکہ میرے خیال میں صورتحال سپٹمبر میں زیادہ واضح ہوجائیگی جب دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم اور دونوں وزارت خارجہ کے دیگر عہدیدار نیویارک میں یو این سیشن کے موقع پر ملاقات کرنے کا امکان ہے ۔ سیٹھی اُس وقت پی سی بی سربراہ تھے جب دونوں بورڈس کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط کی گئی کہ 2015 اور 2022 ء کے درمیان چھ سیریز کھیلے جائیں گے جن میں سے 4 کی میزبانی پاکستان کرے گا ۔ سیٹھی نے کہا کہ اس دستاویز پر دستخط آئی سی سی میٹنگ میں کی گئی تھی اور یہ باضابطہ تحریر ہے کہ بی سی سی آئی نے کہا تھا کہ وہ اپنے عہد سے روگردانی نہیں کرے گا ۔ سیٹھی نے کہا کہ اس یادداشت مفاہمت میں کئی ملین ڈالر داؤ پر لگے ہیں اور ہمیں ڈسمبر میں ہندوستان کی میزبانی کے ذریعہ مالی طورپر بہت کچھ فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے ۔

اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہند ۔ پاک سیریز کرکٹ کی دنیا میں ایشز سے کہیں زیادہ بڑی ہے اور ہمیں پرسکون رہتے ہوئے غیرضروری پریشانی مول نہیں لینا چاہئے اور اس تشویش میں مبتلا ہونے سے گریز کرنا چاہئے کہ یہ سیریز منعقد نہیں ہوسکے گی ۔ بی سی سی آئی سکریٹری انوراگ ٹھاکر نے دوشنبہ کی رات جیو سوپر چینل پر کہا تھا کہ اگر سیاسی کشیدگیاں کم نہیں ہوتی ہیں تو یہ سیریز آگے نہیں بڑھے گی ۔ سیٹھی نے کہاکہ ابھی تین ماہ باقی ہیں اور یہ سیریز منعقد کی جاسکتی ہے ۔ ٹھاکر نے کہاکہ بی سی سی آئی بھی اس سیریز کا انعقاد چاہتا ہے لیکن ہمارا موقف واضح ہے کہ آپ بیک وقت گولیوں اور کرکٹ کو یکجا نہیں کرسکتے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ مسائل موجود ہیں جن کی یکسوئی کرنی پڑے گی لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنا نہیں چاہتے ۔ سیٹھی نے اعتراف کیا کہ حکومت کی اجازت اور منظوری اس سیریز کیلئے ناگزیر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس سال کے اوائل بنگلہ دیش کا دورہ کرنا تھا اور وہاں مخالف پاکستان رجحان تھا اور ہمیں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہاں کا دورہ نہ کریں۔ لیکن ہم نے ہماری حکومت کو اطمینان دلایا کہ ہماری ٹیم کو دورہ کرنا چاہئے اور وہاں جاکر کھیلنا چاہئے اور ہم نے کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر ایسا ہی کیا ۔ لہذا یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام بورڈس وہی کریں جو حکومت کیا کرتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT