Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ہند ۔ پاک قومی سلامتی مشیران کی بات چیت عملا منسوخ ؟

ہند ۔ پاک قومی سلامتی مشیران کی بات چیت عملا منسوخ ؟

٭    سرتاج عزیز کی حریت قائدین سے ملاقات نا قابل قبول : ہندوستان
٭    ملاقات قدیم روایت ‘ انحراف ممکن نہیں : پاکستان کا رد عمل

نئی دہلی 21 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان و پاکستان کے مابین قومی سلامتی مشیران کی سطح کی بات چیت ایسا لگتا ہے کہ عملا منسوخ ہوگئی ہے کیونکہ دونوں ہی ممالک کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملاقات کے مسئلہ پر لفظی تکرار میں مصروف ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ بات چیت سے قبل عملا خط فاصل کھینچتے ہوئے ہندوستان نے یہ واضح کردیا کہ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کی کشمیری علیحدگی پسند قائدین سے ملاقات ناقابل قبول ہے ۔ شیڈول کے مطابق سرتاج عزیز اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت دوول سے ملاقات کیلئے اتوار کو ہندوستان آنے والے تھے ۔ ہندوستان کے اس موقف پر پاکستان نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور زور دے کر کہا کہ وہ اس قدیم طریقہ کار سے انحراف نہیں کریگا جس کے مطابق علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے قائدین سے ملاقات ہوتی ہے ۔

پاکستان نے علیحدگی پسندوں سے ملاقات نہ کرنے ہندوستان کا مشورہ مسترد کردیا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی پر با معنی مذاکرات کے اپنے عہد سے انحراف کر رہا ہے جس سے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور نواز شریف کی اوفا میں ہوئی ملاقات میں اتفاق کیا گیا تھا ۔ ہندوستان نے کہا کہ حریت قائدین سے ملاقات پر پاکستان کا اصرار پیشگی شرط جیسا ہے اور اوفا میں ہوئے اتفاق رائے سے انحراف کی طرح ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے ہمیشہ ہی یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کشمیر پر دو ہی فریق ہیں اور تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا کہ یکطرفہ طور پر نئی شرائط مسلط کرنا اور متفقہ ایجنڈہ کو توڑنا مروڑنا آگے بڑھنے کی بنیاد نہیں ہوسکتا ۔ چونکہ دونوں ہی ممالک اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں ایسے میں اتوار کو قومی سلامتی مشیران کی اتوار اور پیر کو بات چیت کا امکان بہت کم رہ گیا ہے ۔ تاہم کسی بھی فریق نے اب تک باضابطہ طور پر بات چیت کو منسوخ کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ وکاس سواروپ نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے حریت کے تعلق سے جو بیان دیا ہے وہ حیرت کا باعث نہیں ہے کیونکہ اوفا چوٹی کانفرنس کے بعد سے پاکستان مخصوص انداز میں اقدامات کر رہا تھا اور آج کا بیان اس کا واضح اظہار ہے ۔ انہوں نے جئے پور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم نے دہشت گردی سے متعلق تمام مسائل اور سرحدات پر امن قائم کرنے کیلئے قومی سلامتی مشیران کی ملاقات سے اتفاق کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے ہم دیکھ رہے ہیں کہ سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ میں اضافہ ہوگیا ہے اور کچھ دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ آخری حملہ اودھم پور میں کیا گیا تھا جس کے بعد ایک پاکستانی دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ۔ اس مسئلہ پر مجوزہ ملاقات میں بات چیت ہونی تھی ۔ قبل ازیں پاکستان نے آج ہندوستان کے اس مشورہ کو مسترد کردیا تھا کہ سرتاج عزیز حریت قائدین سے ملاقات نہ کریں۔ پاکستان نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ ہی حریت قائدین سے ملاقاتیں کرتا رہا ہے ۔ یہ قدیم روایت ہے جس سے انحراف نہیں ہوسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT