Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ہند ۔ پاک ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن ربط ، وحشیانہ کارروائی پر احتجاج

ہند ۔ پاک ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن ربط ، وحشیانہ کارروائی پر احتجاج

پاکستان کی جانب سے تردید،ہندوستان کا انتباہ ، وزیراعظم پر قدیم حلیف شیوسینا وزیر رام داس کدم کی سخت تنقید

پاکستانی اقدام پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل

پاکستان ایک سرکش و بدمعاش ملک : وینکیا نائیڈو
مودی حکومت اب اپنی چوڑیاں اُتار دے : کپل سبل
سرجیکل حملے کے بعد 10 گنا زائد ہندوستانی فوجی ہلاک : شیوسینا
یو پی اے حکومت کے 10 سال میں صرف ایک واقعہ، مودی حکومت کے تین سال میں تین واقعات : انٹونی

نئی دہلی ؍ بنگلورو 2 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے جموں و کشمیر میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں اپنے دو سپاہیوں کے سر قلم کئے جانے کے خلاف پاکستان سے آج پرزور احتجاج کیا اور کہاکہ یہ ایک بہیمانہ، وحشیانہ اور غیر انسانی حرکت ہے جس کی سخت ترن مذمت کرنے اور اتنا ہی سخت جواب دینے کی ضرورت ہے۔ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی جانب پیش آئے بدبختانہ واقعہ نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تنقید مذمت اور الزامات و جوابی الزامات کا ایک لامتناہی سلسلہ چھیڑ دیا ہے۔ ہندوستان کے ڈائرکٹر جنرل فوجی آپریشن (ڈی جی ایم او) میجر جنرل اے کے بھٹ نے آج اپنے پاکستانی ہم منصب میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ہاٹ لائن رابطہ کیا اور جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں کرشنا گھاٹی سیکٹر پر گزشتہ روز ہندوستان کے دو سپاہیوں کے سر قلم کئے جانے کے سنگین واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ڈی جی ایم او نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے کہاکہ اس مقام پر جہاں دو ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کئے گئے تھے، پاکستانی فوجی چوکی نے اس کی خصوصی ٹیم کی ہندوستانی علاقہ میں دراندازی کے لئے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بھرپور مدد کی۔ فوج نے کہاکہ ڈی جی ایم او نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بارڈر ایکشن ٹیم (بیٹ) کی موجودگی پر ہندوستان کی گہری تشویش سے بھی پاکستان کو واقف کروایا۔ ہندوستانی فوج پہلے ہی پاکستانی فوج کی اس مذموم و ناپاک حرکت کا مناسب و مؤثر جواب دینے کے عہد کا اظہار کرچکی ہے۔ لیکن پاکستانی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ سرحد پر پیش آئے اس المناک واقعہ کے ایک دن بعد سیاسی جماعتوں نے بھی سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت کے خلاف اپنے تنقیدی حملوں میں زبردست شدت پیدا کرتے ہوئے اس (مودی حکومت) سے کہا ہے کہ اب وہ اپنی چوڑیاں اُتار دے اور ہندوستانی سپاہیوں کی شہادت کا انتقام لیا جائے۔ چوڑیاں ہندوستان میں نسوانیت کی علامت و پہچان سمجھی جاتی ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے نئی دہلی میں کہاکہ ’’یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے کہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کے پاس قومی سلامتی پر کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ ہم اس حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی چوڑیاں اُتار پھینکے اور کچھ کر دکھائے‘‘۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے پاکستان کو ایک سرکش و بدمعاش ملک قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے مودی حکومت میں سیاسی عزم و ارادہ کے فقدان کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ’’عزم و ارادہ بھی ہے اور (اُنھیں) مارا بھی جائے گا۔ اس معاملہ میں ہم بہت سخت اور ثابت قدم ہیں اور وحشیانہ حملہ کا جواب دینے کے لئے ممکنہ کارروائی کی جائے گی‘‘۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہاکہ ان کی پارٹی (کانگریس) کی قیادت میں یو پی اے حکومت کے 10 سالہ اقتدار کے دوران ہندوستانی سپاہی کا سر قلم کئے جانے کا صرف ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ مودی حکومت کے تین سال کے دوران ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کرنے کے تاحال تین واقعات پیش آچکے ہیں۔ بی جے پی کی مودی حکومت کو اپنی زعفرانی حلیف شیوسینا کی سخت مذمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ شیوسینا کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹرا کے وزیر رام داس کدم نے کہاکہ ’’ہمارے ایک سرجیکل حملے کے بعد وہ (پاکستانی) ہمارے 10 گنا زائد سپاہیوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ بیٹھ جائیں اور اس بات پر غور کریں کہ اس کا آیا کس طرح انتقام لیا جائے‘‘۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہاکہ شہید سپاہیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT