Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ہنمکنڈہ میں کانگریس لیڈر سرسلہ راجیا کے گھر حادثہ، بہو اور تین پوترے ہلاک

ہنمکنڈہ میں کانگریس لیڈر سرسلہ راجیا کے گھر حادثہ، بہو اور تین پوترے ہلاک

بہو کے کمرہ میں سلینڈر پھٹ پڑا، قتل کا الزام۔ سابق ایم پی، بیوی بیٹا کے ساتھ گرفتار۔ ہر زاویہ سے تحقیقات کی جائے گی: پولیس کمشنر
حیدرآباد۔ /4نومبر، ( سیاست نیوز) ورنگل کانگریس پارٹی ضمنی  انتخابات امیدوار و سابق ایم پی سرسلہ راجیا کے گھر میں گیس سلینڈر حادثہ میں ان کی بہو ساریکا ( سافٹ ویر انجینئر ) سمیت تین پوترے 7سالہ ابھیمنو، ایون 5 سالہ اور سریون جل کر خاکستر ہوگئے۔ تمام 4نعشیں ناقابل شناخت ہوگئی تھیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بڑے لڑکے ابھیمنو کی نعش بیڈ روم کے دروازے کے قریب پائی گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آگ لگنے کے بعد باہر جانے کی کوشش کررہا تھا لیکن دروازہ اندر سے مقفل تھا۔ یہ حادثہ ہنمکنڈہ ریونیو کالونی میں 2 منزلہ بلڈنگ کی پہلی منزل میں پیش آیا۔ حادثہ کے وقت سابق ایم پی گھر میں موجود تھے۔ بہو ساریکا کی بہن نے الزام عائد کیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل ہے۔ خواتین تنظیموں کی جانب سے راجیا کے گھر پر دھرنا دیا گیا اور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ ضلع کلکٹر وائی کرونا، پولیس کمشنر جی سدھیر بابو نے مقام حادثہ کا معائنہ کیا اور ہر زوایہ سے تحقیقات کا تیقن دیا۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح 3 بجے سابق ایم پی کانگریس پارٹی امیدوار سرسلہ راجیا کے گھر میں اچانک حادثہ پیش آیا۔ اس حادثہ میں راجیا کی بہو سمیت تین پوترے جلکر خاکستر ہوگئے۔ یہ حادثہ ہے یا قتل وقت ہی بتائے گا کیونکہ حادثہ گیس سلینڈر کی وجہ سے ہوا۔ گیس جب لیک ہوئی اس وقت سلینڈر بہو کے بیڈ روم میں پایا گیا، یا پھر بہو ساریکا نے خودکشی کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گیس سلینڈر کا ریگولیٹر کھلا تھا۔واضح رہے کہ سرسلہ راجیا کے لڑکے انیل کی ساریکا سافٹ ویر انجینئر ( کاماریڈی نظام آباد ) کے ساتھ محبت کی شادی ہوئی تھی۔ یہ شادی سال 2005ء میں حیدرآباد میں انجام پائی تھی۔ شادی کے بعد سسرال میں ساریکا اور ساس کے کسی نہ کسی بہانے جھگڑے ہوتے رہتے تھے

اور بعد میں انیل کے ساتھ بھی اس کے اختلافات کی اطلاعات ہیں۔ ساریکا کی جانب سے سسرال والوں کے خلاف اپریل 2014 میں نامپلی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی تھی۔ بیگم پیٹ ویمنس پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی تھی۔ اپنی شکایت میں ساریکا نے جو ملٹی نیشنل کمپنی میں سافٹ ویر انجینئر کی حیثیت سے ملازمت ترک کردی تھی یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ان کے شوہر کے ناجائز تعلقات ہیں۔ ساریکا نے اس مسئلہ پر راجیا کے گھر کے باہر بیٹھے رہو دھرنا بھی دیا تھا۔ریونیو کالونی ہنمکنڈہ میں واقع گھر کے اطراف واکناف کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آئے دن ساریکا کے ساتھ جھگڑا ہوا کرتا تھا اور ان لوگوں کے آپس میں جھگڑنے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ اس حادثہ کی اطلاع شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سینکڑوں کی تعداد میں عوام راجیا کے گھر کے پاس جمع ہوگئے۔ اس بات کی اطلاعات ہیں کہ ساریکا کی جانب سے اے آئی سی سی کو مکتوب لکھا کہ ان کے خسر سابق ایم پی ورنگل راجیا کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ نہ دیا جائے باوجود شکایت کے ہائی کمان کی جانب سے سابق ایم پی راجیا کو ٹکٹ دیا گیا اور راجیا اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد روزانہ انتخابی مہم میں حصہ لے رہے تھے۔ کل شام تک ضلع میں انتخابی مہم کے بعد ہی گھر پہنچ کر آرام کیا۔ اچانک صبح کی ساعتوں میں یہ حادثہ پیش آیا۔ پولیس کمشنر جی سدھیر بابو نے بتایا کہ پولیس کو مکان میں کوئی آتشیں مادہ یا شئے نہیں ملی لیکن پولیس کی جانب سے ڈاگ اسکواڈ و فارنسک ٹیم، اسپیشل کرائم ٹیم کے علاوہ ہر زوایئے سے اس حادثہ کی تحقیقات کی جائے گی۔ ساریکا کے رشتہ داروں کی جانب سے راجیا کے خاندان والوں کے خلاف کیس درج کیا گیا  اور ورنگل پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا۔ اس حادثہ کی اطلاع پر کانگریس کے بیشتر قائدین ضلع کے ارکان اسمبلی اور دیگر سیاسی قائدین نے راجیا سے ملاقات کی۔ اس حادثہ پر سابق ایم پی زار و قطار روتے ہوئے فرش پر لوٹنے لگے اور انہوں نے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کیا۔ورنگل سٹی پولیس کمشنر جی سدھیر بابو نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد اکٹھا کرنے کے بعد ہم مزید کارروائی کریں گے۔ اس حادثہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جائیں گی اور یہ پتہ چلایا جائے گا کہ یہ حادثہ ہے یا خودکشی ہے۔ تمام چار نعشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT