Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / ہنڈوارہ میں زیرحراست لڑکی کی رہائی کا مطالبہ

ہنڈوارہ میں زیرحراست لڑکی کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر میں طلبہ کا احتجاج، لڑکی اور ارکان خاندان کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کا الزام
سرینگر ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہنڈوارہ میں بدسلوکی کو دست درازی کی شکار لڑکی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سینکڑوں طلبہ نے آج احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس تنازعہ کے سبب گذشتہ ہفتہ وادی کشمیر میں پرتشدد احتجاج پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ طلبہ کی کثیر تعداد نے آج دوپہر سرینگر کے پریس انکلیو پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور الزام کیا کہ اس لڑکی کو اس کے ارکان خاندان کے ساتھ ’غیرقانونی‘ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) نے یہ احتجاجی ریالی منظم کی تھی۔ اس دوران ایک طالبہ ایثار بتول نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ہم اس لڑکی اور اس کے تمام ارکان خاندان کی پولیس تحویل سے فی الفور رہائی اور انہیں بلارکاوٹ قانونی امداد رسانی کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔

 

ہنڈوارہ ٹاؤن میں گذشتہ ہفتہ اس لڑکی پر ایک فوجی سپاہی کی مبینہ دست درازی کے الزام کے بعد پرتشدد احتجاج شروع ہوگیا تھا اور سیکوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں بشمول ایک خاتون تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس لڑکی کو احتیاطی تدابیر کے تحت پولیس حراست میں لیا گیا تھا۔ ایسے ہی احتجاج میں دیگر دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بعدازاں لڑکی نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کسی سپاہی کی جانب سے اس پر دست درازی یا بدسلوکی کی تردید کی تھی۔ طلبہ نے سرینگر میں اپنے احتجاجی مظاہرہ کے دوران پلے کارڈس لہرایا جس پر ’’کمسن لڑکی ہماری تنقید کی نہیں بلکہ مدد کی ضرورتمند ہے‘‘ کی عبارت درج تھی۔ ایک اور پلے کارڈ پر ’’اس لڑکی کو قانونی امداد سے محرومی کا خاتمہ کیا جائے‘‘، ’’اس لڑکی اور اس کے خاندان کی نقل و حرکت پر کنٹرول اور خفیہ نگرانی کا سلسلہ بند کیا جائے، اور ’’لڑکی کی کردارکشی بند کرو‘‘۔ جیسے نعرے درج تھے۔ طلبہ نے سیکوریٹی فورسیس کی فائرنگ کے دوران 5 افراد کی ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT