Wednesday , August 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہوبارٹ میں کئی بدترین ریکارڈز آسٹریلیا کے نام

ہوبارٹ میں کئی بدترین ریکارڈز آسٹریلیا کے نام

ہوبارٹ ، 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ ہفتے انٹرنیشنل کرکٹ میں دوبارہ قدم رکھنے کی 25ویں سالگرہ منانے والی جنوبی افریقی ٹیم نے اس سنگ میل کا اصل جشن پانچ دن بعد آسٹریلیا کو اننگز اور 80 رنز کی بدترین سے دوچار کرنے کے بعد کیا بلکہ ساتھ ساتھ عالی شان ریکارڈ کی حامل آسٹریلین ٹیم کے ماتھے پر کئی بدنما ریکارڈز کے دھبے بھی لگا دیئے۔ میچ کے پہلے ہی دن ٹاس ہارنے کے بعد ابر آلود موسم میں آسٹریلین وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی مانند جھڑنے لگیں اور صرف 31 رنز پر اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے جو ہوم گراؤنڈ پر پہلی اننگز میں اُن کا دوسرا بدترین آغاز تھا۔ 1978ء میں انگلینڈ کے خلاف گبا (برسبین) میں آسٹریلیا اس سے بھی بدترین صورتحال سے دوچار تھا اور صرف 26 رنز پر چھ وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔ آسٹریلین ٹیم ابتدائی نقصان کے بعد سنبھل نہ سکی اور کپتان اسٹیون اسمتھ کی مزاحمت سے بھرپور ناقابل شکست 48 رنز کی اننگز کے باوجود پوری ٹیم 85 رنز پر ڈھیر ہو گئی جو ہوم گراؤنڈ پر 1981ء کے بعد اُن کا کم ترین اسکور ہے۔ 1981ء میں ’کالی آندھی‘ کے لقب سے مشہور ویسٹ انڈیز کے خلاف پوری میزبان ٹیم 76 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ جواب میں جنوبی افریقی ٹیم کا احوال بھی کچھ اچھا نہ تھا لیکن ٹیمبا باووما اور کوئنٹن ڈی کوک نے چھٹی وکٹ کیلئے 144 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو بڑے اسکور تک رسائی دلائی۔ یہ ہوبارٹ میں جنوبی افریقہ کیلئے چھٹی وکٹ کی سب سے بڑی جبکہ اس میدان پر چھٹی وکٹ کیلئے چوتھی بڑی شراکت ہے۔ بارش سے متاثرہ اس میچ میں مجموعی طور پر صرف 193.5 اوورز کا کھیل ہوا۔ یہ آسٹریلیا میں 1950ء کے بعد نتیجے کا حامل واحد ٹسٹ ہے جس میں اتنے کم اوورز کھیلے گئے۔ 1950ء سے قبل برسبین میں ایشز ٹسٹ میں 129.2 اوورز کا کھیل ہوا تھا لیکن اس وقت ایک اوور آٹھ گیندوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہوبارٹ کے میچ میں مجموعی طور پر 16 آسٹریلین کھلاڑی دہرے ہندسے میں داخل ہوئے بغیر آؤٹ ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 1912ء اور 1896ء میں اوول اور 88-1887ء میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں بھی 16 آسٹریلین کھلاڑی ’ڈبل فیگر‘ میں داخل ہوئے بغیر آؤٹ ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT