Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ہوٹلوں کو صاف ستھرا رکھنا معیاری غذائی اشیاء کا استعمال لازمی

ہوٹلوں کو صاف ستھرا رکھنا معیاری غذائی اشیاء کا استعمال لازمی

سرکاری لائسنس یافتہ مسالخ کے گوشت کی خریدی کی پابندی ، بلدی ذمہ داریاں عوام پر منکشف
حیدرآباد۔18اپریل (سیاست نیوز) شہر میں ہوٹلوں اور طعام خانوں پر دھاوے کیوں کئے جا رہے ہیں؟ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے صفائی اور شعبہ مویشیاں کے حرکت میں آنے کے بعد شہر حیدرآباد کے عوام کو اس بات کا پتہ چلا ہے کہ حفظان صحت کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کے تحت بھی کو شعبہ کام کرتا ہے جس کی ذمہ داری ریستوراں اور طعام خانوں میں فروخت کئے جانے والے اشیائے خورد و نوش کے معیار کا جائزہ لینا ہے اور اس بات کا ممکن بنانا ہے کہ شہریوں کو فروحت کئے جانے والے اشیائے خورد و نوش کے علاوہ ریستوراں میں صفائی کے مؤثر انتظامات کو ممکن بنانا بھی ہوٹل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے اپنے گاہکوں کو معیاری غذا کی فراہمی ہی نہیں بلکہ جس جگہ یہ اشیائے تغذیہ تیار کی جاتی ہیں ان جگہوں کو بھی انتہائی صاف و شفاف رکھنا لازمی ہے اور ساتھ ہی ہوٹل کے اندر گاہکوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی جیسے صاف ستھرے بیت الخلاء اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جانا بھی ناگزیر ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر کی ہوٹلوں میں کئے جا رہے دھاوے کی دو بنیادی وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن میں ایک خانگی مسالخ میں ذبح کئے گئے جانوروں کے گوشت کے استعمال اور دوسری وجہ نامور ہوٹلوں کی جانب سے بھی گاہکوں کو بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایات شامل ہیں۔ہوٹلوں میں جو گوشت کا استعمال ہونا چاہئے قوانین کے اعتبار سے اس گوشت کو سرکاری لائسنس یافتہمسالخ میں ذبح کیا ہوا ہونا چاہئے کیونکہ ان مسالخ میں جی ایچ ایم سی کے ماہرین مویشیاں موجود ہوتے ہیں جو ذبح کئے جانے والے جانوروں کی جانچ کرتے ہیں اور ان جانوروں کو ہی ذبح کیا جاتا ہے جو صحتمند ہوں ۔جبکہ خانگی طور پر ذبح کئے گئے جانوروں کی صحت وغیرہ کے متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوتی اور نہ ہی جی ایچ ایم سی کے کسی عہدیدار کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ جانور کو ذبح کرنے سے قبل جانور زندہ بھی تھا یا نہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر کی نامور ہوٹلوں کی جانب سے غیر قانونی ذبیحہ کے استعما ل کا انکشاف ہونے کے بعد جی ایچ ایم سی نے حرکت میں آتے ہوئے ہوٹلوں میںاستعمال کئے جانے والے گوشت کی جانچ کا فیصلہ کیا اور بیشتر ہوٹلو ںمیں لائسنس یافتہ گوشت کے عدم استعمال کی بنیاد پر انہیں پہلی مرتبہ چالانات کئے گئے علاوہ ازیں ان دھاؤوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شہر میں چلائی جانے والی ہوٹلوں میں گندگی بھی پائی جاتی ہے اور جہاں تک گاہک پہنچتے ہیں ان مقامات تک ہی صفائی ہوتی ہے جبکہ باؤرچی خانوں کی گندگی کو دیکھتے ہوئے ویٹرنری شعبہ کے عہدیداروں نے شعبہ صفائی کو متحرک کیا جس پر اب محکمہ صفائی کے عہدیدار بھی ان دھاؤوں میں شامل رہنے لگے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کی جانب سے بہت جلد ٹریفک پولیس اور صارفین فورم کے عہدیداروں کو بھی ان دھاؤوں میں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے ۔ہوٹل مالکین اور اپوزیشن کا الزام ہے کہ جی ایچ ایم سی کا خزانہ خالی ہونے کے سبب عہدیداروں نے ہوٹلوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر چالانات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جی ایچ ایم سی کو درکار فنڈز چالانات کے ذریعہ جمع کئے جا سکیں۔

TOPPOPULARRECENT