Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ہوٹل وائسرائے ٹینک بینڈ کی اوقافی اراضی تحفظ کے لیے قانونی لڑائی کا آغاز

ہوٹل وائسرائے ٹینک بینڈ کی اوقافی اراضی تحفظ کے لیے قانونی لڑائی کا آغاز

بینکس قرض کی عدم ادائیگی پر ہراج کی نوٹس پر وقف بورڈ کی چوکسی
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے ہوٹل وائسرائے ٹینک بنڈ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے لیے قانونی لڑائی کا آغاز کیا ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے دو بینکوں سے قرض حاصل کیا گیا تھا جس کی عدم ادائیگی پر بینکوں نے ہوٹل کے ہراج کا فیصلہ کیا اور ای آکشن کی تاریخ 28 جولائی مقرر کی ہے۔ کینارا بینک اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے ہوٹل انتظامیہ نے قرض حاصل کیا تھا جس کے لیے ہوٹل کے 23 دستاویزات پیش کیئے گئے۔ دو سیلار، گرائونڈ فلور اور 10 منزلوں سمیت تمام مشنریز اور آلات کو رہن رکھا گیا تھا۔ قرض کی عدم ادائیگی پر دونوں بینکوں نے ہوٹل کے باہر ای سیل کی نوٹس چسپاں کردی ہے جس پر قیمت 92,43,00,000 درج کی گئی اور ای آکشن میں حصہ لینے کے لیے 9,23,40,000 روپئے بطور رقم دھڑوت جمع کرنے ہوں گے۔ 28 جولائی کو دوپہر 12 تا 1 بجے دن ای آکشن ہوگا۔ 26 جولائی شام 5 بجے تک رقم دھڑوت جمع کی جاسکتی ہے۔ ہوٹل وائسرائے جس کا موجودہ نام میریٹ ہے، دراصل وقف اراضی پر قائم ہے۔ ای آکشن کی نوٹس کے ساتھ ہی تلنگانہ وقف بورڈ حرکت میں آگیا۔ چیف ا یگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے ماہرین قانون سے مشاورت کے بعد کینارا بینک اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو نوٹس جاری کی جس میں ای آکشن روکنے کی خواہش کی گئی کیوں کہ یہ اوقاف کی ملکیت ہے۔ دونوں بینکوں کو وقف اراضی سے متعلق دستاویزات بھی روانہ کئے گئے۔ وقف بورڈ نے ہراج کو روکنے کے لیے وقف ٹربیونل سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2014ء سے ہوٹل کا یہ مقدمہ ٹربیونل میں زیردوران ہے۔ واضح رہے کہ ٹینک بنڈ کے پاس واقع مسجد حضرت دائرہ خاموشاںؒ کے تحت یہ اراضی ہے اور جملہ اوقافی اراضی 4 ایکڑ دو گنٹے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کا دعوی ہے کہ 1968ء میں اس وقت کے وقف بورڈ نے اسے غیر اوقافی اراضی قرار دیتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔ اس قرارداد کی اصلیت کے بارے میں مختلف شبہات پائے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT