Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / ہوپرچم بلندحق کے اظہارکا

ہوپرچم بلندحق کے اظہارکا

شہر حجازکو اس لئے تقدس حاصل ہے کہ وہاں اسلام کا عظیم روحانی مرکز بیت اللہ شریف ہے جہاں مسلمان ایمانی کیفیات سے سرشارکشاں کشاں کھنچ کر چلے آتے ہیں، جس کی طرف سارے عالم کے مسلمان رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں،یہ دنیا کی پہلی عبادت گاہ ہے جوبرکتوں سے معمورہے،ارشادباری ہے: ’’بے شک وہ مکان جو سب سے پہلے انسانوں کیلئے مقررہواہے وہ یہی ہے جومکۃ المکرمہ میں واقع ہے جو برکت والا اوردنیا والوں کیلئے ہدایت کا علمبرارہے‘‘(آل عمران :۹۶)بیت اللہ کا وجود انسانوں کے وجود کا ضامن ہے’’جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس‘‘(المائدۃ:۹۷)اس لئے اللہ کا یہ بابرکت گھر بڑا مقدس اورقابل تکریم وتعظیم ہے۔اس پاک گھر کے مادی فوائد بھی ہیں اورروحانی منافع بھی،اسلام کے آفاقی پیغام پر ایمان ویقین رکھنے والے ہر دوفوائدومنافع سے متمتع ہوتے ہیں، گنبدخضرا ’’علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام‘‘ بھی اسی ارض مقدس میں ہے جو ایسا بقعہ نور ہے جس سے اسلام کی نورانی شعائیں سارے عالم میں پھیل رہی ہیں ،ہر دومراکز مہبط وحی رہے ہیں جہاں سے اسلام اورایمان کا نور سارے عالم میں پھیلا،اس طرح ارض مقدس سے نکلنے والی نورہدایت کی شعائیں سارے عالم کو روشن کرگئیں ۔ہدایت کی ان نورانی شعائوں سے جن انسانوں نے اپنے سینوں کو روشن ومنورکرلیاوہ بھی سرتاپا ہدایت کے نورمیں نہاگئے،شمع اسلام جب فروزاں ہوئی توچراغ سے چراغ روشن ہوتے گئے اورباطل کے چراغ بجھ گئے،سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سے ایک عظیم تاریخ ساز انقلاب رونما ہوا،جہاں کفروشرک کا پرچم لہرارہا تھا وہاں پرچم توحید لہرانے لگا،بغض وعناد،عداوت ودشمنی کا ما حول محبت وشفقت،رافت ورحمت ،انس ومروت،یگانگت ورواداری میں تبدیل ہوگیا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل جذبات سے جہاں بے دردی اوربے رحمی سے انسانوں کا قتل وخون ہوا کرتا اورزمین انسانی خون میں نہا جاتی تھی وہاں اسلام کی رحمتوں کے بادل چھاگئے ،احترام انسانی و رحمت ومہربانی کی پھواربرسنے لگی ۔انسانی عظمت وحرمت کے گل وگلزارلہلہانے لگے،منتقمانہ مزاج کے خوگرعفوودرگزرکا پیکر بن گئے،خودغرضی میں جینے والے اخلاص وایثارکا مرقع بن گئے ،غروروتکبرکو باعث عزووقارجاننے والے تواضع وانکساری اختیارکرکے شان رفعت پاگئے، ذلت ورسوائی کے عمیق غاروں سے نکل کر دین اسلام کی برکت سے وقاروعظمت کے آسمان پر حق کی معرفت کے چاند وسورج بن کر جگمگانے لگے۔

اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کرنے والے رشدوہدایت کا مینارئہ نوربن گئے ،علم وعمل ،رفتاروگفتار،اخلاق وکرداراوراپنے ظاہر وباطن کواسلام کے آئینہ میں ڈھال کر اسلام کا عملی پیغام دیتے ہوئے دین ودنیا میں سرخ رو ہوگئے۔رسول اکرم سیدعالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی اورآپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے نورانی گوشوں سے ایسے مستنیر ہوئے کہ آسمان ہدایت کے روشن ستارے بن گئے،بارگاہ نبوی ﷺ سے’’اصحابی کالنجوم فبایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘کے تمغہ افتخارسے مشرف ہوگئے۔اورعالم کے چپے چپے میں پھیل کر ہدایت کا نوربکھیرتے چلے گئے،اس طرح کفروشرک اورظلم وجورکے اندھیارے کافورہوتے گئے۔الغرض اسلام وہ دین حق ہے جس نے عالم انسانیت کی کایاپلٹ دی،حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد تابعین عظام رضی اللہ عنہم اسلام کا عملی پیکر بن کر دین حق کی روشنی پھیلاتے رہے ،ان کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ،حق کی روشنی پھیلتی رہی اولیاء کرام وائمہ ذوی الاحترام ہر دورمیں یہ فرض پوراکرتے رہے ،خیر امت ہونے کا جو شرف عظیم اس امت کو اللہ سبحانہ نے اپنے بے پایاں فضل وکرم سے عطا فرمایاہے اسکی ذمہ داری نبھاتے رہے۔الحمد للہ یہ سلسلہ جاری وساری ہے اورقیامت تک جاری وساری رہے گا،حق پرستوں کی ایک جماعت اس اہم فریضہ کو پورا کرتی رہے گی۔اس وقت امت مسلمہ کی ایک معتدبہ تعداد مغربی تہذیب کی زدمیں ہے ،مسلم ممالک میں نمایاں مملکت سعودی عربیہ کی ہے جو کبھی مملکت حجاز کہلاتی تھی ،اللہ سبحانہ نے اسکو جہاں روحانیت کا عظیم مرکز بنایا ہے وہیں اس سرزمین کو عظیم مادی خزانوں سے بھر دیا ہے،تیل کے ذخائرنے اس مملکت کی اہمیت میں مادی اعتبارسے اور اضافہ کردیا ہے،روحانی اعتبارسے اس کا تقدس ابدالاباد تک قائم رہے گا،لیکن اس مملکت میں رہنے والے اصحاب اقتدارہوں کہ علماء ذی وقار، اصحاب ثروت ہوں کہ اصحاب تنگدستی وغربت سب کے سب اس لئے خوش نصیب ہیں کہ ارض مقدس یا اس کے جوار میں سکونت پذیر ہیں ،خاص طورپراس مسلم مملکت کے نوجوان جن سے اہل اسلام کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں ہونا تو یہی چاہیئے کہ مملکت کے علماء وصلحاء ،وزراء ورؤساء بزرگ عام شہریوں کے ساتھ خاص طورپر نوجوان جوپیغام اسلام کے امین ہیں وہ اس امانت کو گوشے گوشے تک پہونچانے اورکرئہ ارض پر پھیلے ہوئے کفروشرک اورظلم وجورکا خاتمہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ۔انسانیت جو کفروشرک کے اندھیاروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے اسکو حق کی روشنی دکھا تے ،ظالموں کے خلاف صف آرا ہوتے اور مظلوموں کا سہارا بنتے، بے یارومددگار مصیبت زدہ انسانیت کی غمخواری ودلجوئی کرتے،نا انصافی کے ظالمانہ غیر انسانی ماحول میں اسلام کا پرچم عدل نصب کرتے،عمومی حیثیت سے امت مسلمہ کا آئینہ دل مادیت کی محبت سے جو گردآلود ہوگیا ہے

اس کو پوچھ پاچھ کر صاف وشفاف کرتے،تہذیب نوکے تاثرات سے اسلامی ثقافت کی روح جومجروح ہوگئی ہے اسکی مرہم پٹی کرکے پھر سے اسلامی ثقافت کو حیات نو بخشتے۔مغربی باطل افکارکی یلغارکااسلامی افکارواعتقادات کی اشاعت سے بھر پور مقابلہ کرتے،اسلام کی آفاقی آسمانی تعلیمات سے غیراقوام کو روشنا س کرواتے۔ظاہر ہے یہ سارے کام سیرت وکردار کو پاکیزہ ،ظاہر وباطن کو اسلام کا آئینہ داربنانے سے انجام پاتے ہیں،لیکن افسوس یہ ہے کہ امت کے اکثر نوجوان ’’اوخودگمشتہ است کرارہبری کند‘‘کے مصداق بے راہ روی کا شکار،پیغام اسلام سے بے خبرہیں۔رسمی طورپراسلام کاعلم ضرور تھامے ہوئے ہیں لیکن اہل کتاب اورمشرک اقوام نے باطل کا جو جال بنا ہے اس میں الجھے ہوئے ہیں،اسلام کے جو طوروطریق دل ونگاہ کو روشن کرتے ہیں ان سے دانستہ یا نا دانستہ چشم پوشی کئے ہوئے ہیں،دین حق کے تقاضوں سے رشتہ توڑکر باطل طوروطریق رشتہ جوڑ ے ہوئے ہیں۔حق پسندانہ اسلامی حقائق کو پس وپشت ڈال کر غیر حقیقت پسندانہ رسم ورواجات کا شکار بن گئے ہیں۔اس وقت سارا عالم اپنا قومی پرچم بلندسے بلندرکھنے کی رسم اداکررہاہے لیکن جہاں ملک وقوم کی ترقی اوراسکے تحفظ کے اعلی اہداف کی بات آتی ہے تو وہاں ملک کے سربراہ اپنے ملک کا پرچم بلندرکھنے کا معنوی کردارنبھانے سے قاصر ہیں،پرچم کی بلندی جس بات کی متقاضی ہے اس کی تکمیل میں اکثر نا کام ہیں،ملک وقوم کی بھلائی وخیر خواہی کے مخلصانہ جذبات کے بغیر صرف رسمی طورپر پرچم بلندکرلینے سے ملک ترقی نہیں کرلیتا۔حکومت سعودیہ سے متعلق میڈیا میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ چند دن قبل اس نے اپنا ۸۷؍واں یوم وطن منا یا ہے،ملک میں عام تعطیل کا اعلان ہوا ،سرکاری وخانگی سطح پر حب الوطنی کے مختلف پروگرام منعقد ہوئے ،سعودی باشندگان کے ساتھ مختلف ممالک کے افراد بھی بڑے جوش وخروش سے اس میں شریک ہوئے ،سعودی نوجوانوں نے اس موقع سے اپنی مملکت کے حکمرانوں سے محبت وتجدید وفاداری کے اظہار کے طورپر اپنی مملکت کے پرچم کو بلندکرنے کے بجائے مملکت کے قیام کے ۸۷؍سال کی مناسبت سے سمندرکی ۸۷؍میٹرگہرائی میں پہونچ کر اسکو نصب کیا، ایسا انوکھا طریقہ اختیارکر نے کی وجہ ’’گنیزریکارڈ آف ولڈبک ‘‘میں اسکے اندراج کا اعزاز ان کو حاصل ہوا۔سعودی حکومت کے پرچم پر کلمہ اسلام ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘لکھا ہوا ہے ،ایسے پرچم کا حق یہ تھا کہ اس پر لکھے پاک کلمہ کی روح کے وہ نوجوان امین بنتے اوراس پیغام کی روح کو سارے عالم کے جسدکی جان بناتے اوراپنا نام ’’آخرت کے دفتر‘‘ میں درج کرواتے ۔اس کلمہ کا احترام اس بات کا تقاضہ کررہاہے کہ سارے عالم میں ایمان ویقین کی فضاء بنائی جائے،احترام انسانیت کا درس دیا جائے ،فساد وبگاڑسے دست کش ہوکرامن وآمان قائم کیا جائے،روحانی اقدارکا امین بن کر ارض مقدس کی لاج رکھی جائے،دشمنان اسلام کے کیدومکرکا شکارہونے سے اپنے آپ کو بچایا جائے،دشمنوں کی سازش کی وجہ اس وقت مسلم ممالک اورخاص کر سعودیہ کی کشتی کشت وخون کے گرداب میں پھنسی ہے اسکو فراست ایمانی اورحکمت عملی سے نکالا جائے۔ اپنے کام کی وجہ اپنا نام بنایا جائے ،ملک وقوم کے وقارکو بلندکیا جائے، اس طرح اپنی دنیا کے ساتھ آخرت کو سنوارجائے،حدیث پاک میں واردہے ’’انکم خلقتم للآخرۃ ‘‘
آج ایمان و اخلاق وکردار کا
ہو پرچم بلند حق کے اظہار کا
سعودی مملکت ہو یا مسلم ممالک یا جمہوری طرز کی حکومتیں سب کی سب مادیت کے سیلاب میں بہہ رہی ہیں،رسول پاک ﷺ کا ارشادگرامی برحق ہے ’’ اللہ سبحانہ کی قسم مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ تم فقروافلاس سے مارے جاؤگے لیکن مجھے اس بات کا ڈرہے کہ تم پر دنیا کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی تھی ،پھر تم بھی اس کے جال میں پھنس کر ویسے ہی ہلاک ہوجاؤگے جیسے تم سے پہلے لوگوں کواس نے ہلاک کیا تھا‘‘(صحیح البخاری:۲۹۸۸)
ملت اسلامیہ کے اکثرنوجوان ایمانی فراست اورقلبی بصیرت سے محروم ہیں،روحانی تربیت جس بات کی متقاضی ہے وہ عنقاء ہے۔ گلشن اسلام کی آبیاری کیلئے ایسے تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے جواصحاب صفہ کے صحیح معنی میں جانشیں بنیں ،کفروشرک کے ظلمت کدوں کو اسلام کے نورسے روشن کریں ،حق کی طاقت وقوت کی حرارت اپنے اندرپیداکرکے باطل کی مادیت ومغرب زدگی سے متاثرہ ایوانوں کو زمیں دوز کریں ۔قرآن پاک میں باطل اقوام کی جوخونچکا ں داستان عبرت بیان کی گئی ہے اس سے نصیحت حاصل کریں،اپنی عاقبت کے ساتھ ساری انسانیت کے انجام کی فکرکریں،دین اسلام کے اساسی اصول وقوانین پر خود مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے امت مسلمہ کو اس پرقائم رکھنے کی دل سوزی کے ساتھ جدوجہدکریں اور فروعی وجزوی مسائل کی تنگنائیوں سے نکال کرامت کی شیرازہ بندی کریں۔

TOPPOPULARRECENT