Monday , August 21 2017
Home / مضامین / ’’ہپی دیوالی‘‘ تو یاد رہا لیکن یوم تعلیم بھول گئے ہم

’’ہپی دیوالی‘‘ تو یاد رہا لیکن یوم تعلیم بھول گئے ہم

محمد احتشام الحسن مجاہد
آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔اکثر ہم مضمون کا آغاز ایسے ہی کسی جملے کے ساتھ کرتے ہیں لیکن اب اگر یہ کہا جائے کہ اس جملے ’’آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد تعارف کے محتاج نہیں ہیں‘‘ میں صداقت نہیں تو اعتراض ممکن ہے۔لیکن ہمارا سوال یہ کہ کیا واقعی مولانا ابوالکلام آزاد تعارف کے محتاج نہیں ہیں؟ دیانتداری سے کہا جائے تو اغیار توکیا ہم مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت بھی ان حقائق سے لاعلم  ہے کہ آخر مولانا ابوالکلام آزاد کون تھے؟ہرسال 11 نومبر کو یوم تعلیم یا آزاد ڈے کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور کچھ کلچرل پروگرامس کا اہتمام بھی کیا جاتاہے اور محسن قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس سال راقم الحروف نے محسوس کیا کہ ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام پر 11 نومبر کو کچھ متحرک تو ضرور جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کام ہنوز باقی ہے جن کے شاید خود مولانا بھی خواہاں تھے۔ اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل کچھ تلخ حقائق کو بیان کرنا بھی ضروری ہے ۔11 نومبر کی صبح جب ہم نے ابتدائی امور کی انجام دہی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر کافی مایوسی ہوئی کہ مسلم طبقہ جس میں نوجوانوں کے علاوہ تعیلم یافتہ اور صحافت سے وابستہ افراد کا ایک بڑا حصہ اپنے ’’وال‘‘ پر دیوالی کے تہوار کے پیش نظر ’’ہپی دیوالی‘ ہپی دیوالی ٹو آل انڈین‘ہپی دیوالی ٹو آل مائی فرینڈس اور اس طرح کے پیغامات تحریر کررہے تھے لیکن افسوس کے اسی دیوالی کے دن یہ دیوالیہ تھا کہ فیس بک کے کسی بھی مسلم صارف کے وال پر ’’ہپی ایجوکشن ڈے یا یوم تعیلم ہندوستانیوں کو مبارک ہو کا کوئی پیغام نہیں تھا۔ہم نے دیوالی کو تو یاد رکھا لیکن یوم تعلیم  بھول گئے  ۔ مولانا بے شک ہندوستان کی تاریخ اور اردو ادب سے تعلق رکھنے والے حلقوں کے لئے تعارف کے محتاج نہیں ہیں لیکن نوجوان نسل  کی اکثریت مولانا کے نام اور انکے عہد کو بھی نہیں جانتی ہے۔ اسکول اور کالج کے طلبہ سے جب سوال کیا گیا کہ  ابوالکلام آزاد کون تھے تو انکا جواب تھا کہ وہ ہندوستان کے صدر تھے اور وہ میزائیل میان بھی  تھے جن کا حالیہ دنوں میں انتقال ہوا ہے۔ یہ جواب دراصل مولانا ابوالکلام آزاد نہیں بلکہ طلبہ اور نوجوانوں کا اشارہ ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً‘ اے پی جے عبد الکلام) ہندوستان کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنسداں کی سمت تھا۔ اس میں نوجوانوںکا  قصور بھی زیادہ نہیںکیونکہ اول تو ان دو شخصتیوں کے ناموں میں  ابوالکلام اور عبدالکلام کی یکسانیت ہے اور فرق ہے تو ’’ابو‘‘ اور ’’عبد‘‘ کا ہے لیکن حقیقت میںان دو شخصیتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔دوسرا یہ کہ ہم اپنے اسلاف کے کارناموں سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو واقف نہیں کرواتے ہیں۔ ابوالکلام 11 نومبر 1888 کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے جو کہ مجاہدی آزادی تھے جبکہ عبدالکلام  15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے۔یہاں ہم ان دو شخصیتوں کا تقابلی مطالعہ کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد سے نئی نسل کو واقف کروانے اور ان کی ہمہ گیر شخصیت کے دو اہم پہلوؤں ’’ڈسپلین اور تعلیم‘‘ کی ہندوستان میں آج اس مخالف مسلم ماحول کے تناظرمیں اپنانے پر زور دینا چاہتا ہیں۔جو مولانا ابوالکلام آزاد کی عظیم شخصیت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آپ ڈسپلین کے کافی پابند تھے۔ واقعہ مشہور ہے کہ ’’عبدالرزاق ملیح آبادی رقم طراز ہیں کہ ’’ایک دن ایسا ہوا کہ کوئی پانچ بجے شام گاندھی جی اچانک آپہنچے، میں نے ان کا استقبال کیا اور دوڑ کر مولانا کو اس کی خبر دی۔ انھوں نے سنا، مگر جیسے سنا ہی نہیں۔ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ فرمایا ’’ان سے کہہ دیجئے کہ میں اس وقت ان سے ملنے سے معذور ہوں۔ کل نو بجے تشریف لائیں‘‘ عرض کیا ’’غور فرمالیجئے، کیا یہی پیغام پہنچادوں؟‘‘ کسی قدر تیکھے تیوروں سے فرمایا ’’اور کیا؟ ۔یہ ایک واقعہ ہی کافی کہ جس زمانہ میں گاندھی جی کی ہندوستان میں طوطی بولتی تھی اس زمانے میں گاندھی سے مولانا نے ملاقات سے معذرت کرلی اور کہہ دیا کہ بعد میں تشریف لائیں کیونکہ وہ مولانا کا مطالعہ کا وقت تھا۔ مولانا آزاد جو ہر کام وقت اور منصوبہ سے کرتے تھے لہذا انہوں نے بغیر اطلاع کے پہنچنے والے اپنے وقت کہ ایک اور بڑے لیڈر سے اس لئے ملاقات نہیں کہ وہ وقت مولانا کے مطالعہ کا وقت تھا۔ذرا آج ہم اپنی زندگیوں کا احتساب کریں کہ کس طرح ہم اپنے کام انجام دیتے ہیں؟نہ وقت کی کوئی پابندی اور نہ مصروفیات کے لئے اوقات کا تعین ہمارے پاس ہے۔جب جی میں جو آیا کردیا اور جب چاہا کچھ بھی تبدیل کردیا۔مولانا آزاد کی شخصیت کا دوسرا پہلو جو آج ہماری رہنمائی کرے گا وہ تعلیم ہے۔کانگریس پارٹی میں مولاناآزادکو جو مقام حاصل تھا وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کے رعب اور دبدے کا یہ عالم تھا کہ اچھے اچھوں کا پتا ان کے آگے پانی ہوتا تھا اور ولبھ بھائی پٹیل اور گووند ولبھ پنت جیسے بڑے کانگریسی رہنماؤں کی بولتی ان کے سامنے بند ہوجاتی تھی۔ انتہا تو یہ تھی کہ جب وہ وزیر تعلیم تھے توہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو تک ان سے وقت طے کرکے ملاقات کیا کرتے تھے۔ نہرو کا خود ماننا تھا کہ  ’’مولانا کے علم اور مطالعے کے سامنے مجھے اپنا علم دریا کے سامنے پانی کا ایک قطرہ دکھائی دیتا ہے۔وزارت تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد 18  فروری 1947کی پریس کانفرنس میں مولانا آزاد نے تعلیم کے تعلق سے اپنے بنیادی نظریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحیح طور پر آزادانہ اور انسانی قدروں سے بھرپور تعلیم ہی لوگوں میں زبردست تبدیلی کا باعث ہوسکتی ہے اور انہیں ترقی کی طرف لے جاسکتی ہے۔‘‘ چنانچہ تعلیم وثقافت کے ضمن میں مولانا نے جو کام کئے ان میں سب سے اہم کوشش لکھنؤ میں دینی مدارس ، مکاتب اور دارالعلوم کے سربراہوں کی کانفرنس تھی، جس میں انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید معلومات اور ترقی یافتہ صورت کو اپنے نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا تھا، مولاناچاہتے تھے کہ مشرقی ومغربی علوم میں ہم آہنگی پیدا ہو، یہ ترقی پذیر ہندوستان کے لئے ان کا ایک پرخلوص جذبہ وکوشش تھی، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’تعلیم کا واحد مقصد روزی اور روٹی کمانا نہیں ہونا چاہئے بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جائے اور یہی تعلیم کا سب سے مفید پہلو ہے اور اسی سے معاشی وتمدنی نظام بھی بہتر ہوسکے گا۔‘‘بحثیت وزیر تعلیم مولانا آزاد نے جو کارنامے انجام دئیے وہ ہندوستان پر احسانات کے مترادف ہیں مولانا کی وجہ سے ہی بچوں کو مفت تعلیم کا نظریہ ملا۔ یونیورسٹوں میں اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے یو جی سی کا قیام بھی مولانا کی مرہون منت ہے۔ ہندوستان کو آزادی ملنے کے بعد گاندھی جی کی شفارش کے باوجود مولانا نے تعلیم کے عہدہ کا انتخاب کیا کیونکہ مولانا کی دور اندیشی یہ دیکھ چکی تھی کہ ترقی تعلیم کے خزانہ میں مضمر ہے۔ اب ذرا ہمارے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو اول  پتہ چلتا ہیکہ مولانا نے وزیر اعظم کی راہ کو ٹھاکرتے ہوئے جس راستہ کا انتخاب کیا تھا ہم میں اکثریت نے اس راستہ کو ہی ترک کردیا اور جہالت کے اندھیروں کو اپنا مسکن بنالیا ہے۔ دوسرا یہ کہ جو نوجوان نسل اسکولوں‘کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہی ہے ان کا واحد مقصد ڈگری اور ملازمت کا حصول ہے جبکہ کہ مولانا نے کہہ دیا تھا کہ تعلیم روزی روٹی کا آلۂ کار تک محدود نہ رہے بلکہ تعلیم سے شخصیت اور ذہن سازی کی جائے۔مضمون کا حصل یہ ہے کہ مولانا کے ان دو پیغامات  ڈسپلین اور تعلیم کو نہ صرف نوجوان نسل تک پہچانا ہماری اہم ذمہ داری ہے بلکہ گھروں ‘اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر موقع در موقع انہیں مولانا کی ڈسپلین سے سجی زندگی سے واقف کروانا‘ تعلیم کے اس اصل مقصد سے واقف کروانا بھی وقت کا تقاضہ ہے  جو آدمی کو  انسان بناتی  ہے۔ سال میں ایک مرتبہ 11 نومبر کو یوم تعلیم یا آزاد ڈے منانا اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن نوجوان نسلوں میں مولانا آزاد جیسے قدآور نہ سہی کم ازکم انہیں اپنا آئیڈل بناتے ہوئے قابل‘تعلیم یافتہ اور باصلاحیت  افراد کو تیار کرنا وقت کا تقاضہ ہے تاکہ مسلم معاشرہ کو ایک نئی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT