Saturday , September 23 2017
Home / Mera Column / ہیرا کبھی پتھر ہے کبھی ہے انمول

ہیرا کبھی پتھر ہے کبھی ہے انمول

میرا کالم             سید امتیاز الدین
ہم کو بچپن سے ہی رات جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ہے ۔ ابھی بھی ہم رات دس بجے بستر پر لیٹ جاتے ہیں اور صبح پانچ بجے اُٹھ جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم بہت گہری نیند سوتے ہیں۔ کوئی ہم کو اٹھائے بھی تو نہیں اٹھتے۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جلوس رات دیر گئے ہمارے گھر کے سامنے سے گزرا۔ جلوسیوں کو نہ جانے کیا سوجھی کہ عین ہمارے گھر کے سامنے پڑاؤ ڈال دیا اور انتہائی بلند اور کرخت آواز میں باجہ بجانے لگے ۔ شور اتنا تھا کہ چھوٹے بچے بھی نیند سے بیدار ہوگئے لیکن ہم بدستور سوتے رہے ۔ ہمارے اہل خانہ کو تشویش ہوئی کہ کہیں یہ ابدی نیند تو نہیں چنانچہ گھر میں کسی نے ہماری ناک پر انگلی رکھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ سانس کی آمد و رفت جاری ہے یا رفت پر آکر ٹک گئی ہے ۔ اس تمہید کا مقصد صرف یہ بتلانا ہے کہ ہم وقت پر سوجاتے ہیں اور گہری نیند سوتے ہیں۔ 8 نومبر منگل کی رات ہم حسب معمول بستر پر لیٹے اور نیند کی وادی میں جانے کی تیاریوں میں تھے کہ ہماری بیوی نے ہمیں جگایا  یہ کہنے کیلئے کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ منسوخ ہورہے ہیں اور رات کے بارہ بجے کے بعد ان کا چلن ختم ہوجائے گا ۔ہم نے ان کی بات کو ایک بھونڈا مذاق سمجھا اور بادل ناخواستہ اُٹھ کر ٹی وی تک آئے ۔ اس وقت ہمارے پردھان منتری نریندر مودی جی ہم سے مخاطب تھے۔ انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی حیثیت رات کے بارہ بجے کے بعد محض کاغذ کے ٹکڑوں کی ہوجائے گی اور بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں نئے نوٹ ہوں گے ۔ ہم نے سوچا کہ نئے نوٹ جب آئیں گے تب آئیں گے لیکن اس وقت جن ہاتھوں میں پرانے نوٹوں کی گڈیاں ہیں ان ہاتھوں کے طوطے یقیناً اڑگئے ہوں گے ۔ ہم کو یاد آیا کہ خود ہمارے پاس پانچ دس ہزار کے پانچ سو کے نوٹ پڑے ہیں اور خوش قسمتی سے سو روپئے کے ساتھ یا آٹھ نوٹ موجود ہیں ۔ اس طرح ایک دو دن کا گزارا تو یوں بھی ہوجائے گا۔ مودی جی نے شاید یہ بھی کہا کہ ہماری قومی زندگی کا یہ ایک اہم موڑ ہے اس لئے ہر ہندوستانی کو دوچار دن کی یہ عارضی تکلیف برداشت کرنی چاہئے ۔ ہم نے سوچا کہ عارضی تکلیف برداشت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم پھر سے سوجائیں۔ اب جو بھی ہوگا خواب میں دیکھا جائے گا ۔ ابھی ہم بستر پرلیٹ ہی رہے تھے کہ ہمارے گھر پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ہمارے ایک دوست کھڑے تھے ۔ موصوف اپنے ہاتھ میں پانچ سو کے چار نوٹ لئے تھے ۔ ہمیں یاد آیا کہ ہمارے یہ دوست ہم سے دو ہزار روپئے ایک سال پہلے دو دن میں واپسی کے وعدے کے ساتھ لے گئے تھے اور تقاضے کے باوجود اپنی خستہ حالی کے بہانے ٹال مٹول کر رہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ تمہارے دو ہزار واپس کرنے کیلئے آیا ہوں۔ ہم نے کہا تشریف آوری کا شکریہ لیکن ان نوٹوں کا چلن بند ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھئی آج کل انسانوں کا چال چلن ٹھیک نہیں ہے ، تم نوٹوں کے چلن کی کیا بات کر رہے ہو۔ ابھی یہ نوٹ دو گھنٹوں تک کام میں آسکتے ہیں ۔ ویسے بھی تم چاہو تو ریلوے اسٹیشن جاکر ٹکٹ خریدلو اور سفر کرو یا کسی دواخانے میں شریک ہوجاؤ۔ دونوں جگہ یہ نوٹ چلیں گے ۔ بہرحال تم خود سمجھ دار ہو میں نے تو واجب الادا قرضہ ادا کردیا ۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے رخصت ہوگئے ۔

اگلی صبح جب ہم گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ عجیب افراتفری کا عالم تھا ۔ ہوٹلوں ، سبزی اور کرانے کی دکانوں ، جنرل اسٹورس ، غرض ہر جگہ چھوٹے چھوٹے بورڈ لگے ہوئے تھے کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ نہیں لئے جائیں گے۔ پٹرول پمپ پر پانچ سو کا پٹرول لینے پر پانچ سو کا نوٹ چل سکتا تھا لیکن اسکوٹر اور موٹر سیکل چلانے والے مصر تھے کہ ہم کو دو سو کا پٹرول دو اور تین سو واپس کرو اس پر تلخ کلامی اور جھگڑے کی نوبت آگئی ۔ لوگ سو روپئے کے نوٹ کو آنھوں سے لگا رہے تھے اور پانچ سو اور ہزار روپئے کے نوٹ کو حقارت سے دیکھ رہے تھے ۔ ہم نے ٹی وی لگایا تو دیکھا کہ امریکی پریسیڈنٹ کے الیکشن کو بہت کم اہمیت دی جارہی تھی بلکہ ہلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ لگ رہے تھے ۔ ہسپتالوں کا نقشہ اور عجیب تھا ۔ لوگ اپنے عزیزوں کو ڈسچارج کرانے کیلئے آئے تھے لیکن ہسپتال بل کی ادائیگی کے بغیر مریضوں کو ڈسچارج کرنے پر آمادہ نہیں تھا ۔ دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک ضعیف العمر صاحب کہہ رہے تھے کہ اُن کو پانی کا بوتل خریدنے میںبھی دشواری پیش آرہی تھی۔
اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت کا فیصلہ درست ہے لیکن عام آدمی بے خبری میں پکڑا گیا ہے ۔ اگر کچھ وقت دیا جاتا تو لوگ کچھ انتظام کرلیتے ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر باقاعدہ مہلت دی جاتی تو دوسری طرح کی مشکلات پیش آسکتی تھیں۔ اس پرہم کو ایک بہت پرانی فلم یاد آئی جس کانام تھا It is a mad, mad, mad world اس کی کہانی مختصراً یہ تھی کہ ایک شخص مرنے سے پہلے یہ کہہ کر مرجاتا ہے کہ فلاں جگہ ایک خزانہ گڑھا ہوا ہے ۔ لوگ یہ سنتے ہی دیوانہ وار مرنے والے کے بتائے ہوئے پتے کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ اس فلم میں لوگوں کا دوڑنا دوسروں کی دولت کیلئے تھا  لیکن آج ہم جو افراتفری دیکھ رہے ہیں وہ اس اعتبار سے عجیب ہے کہ لوگ اپنے ہی پیسے کیلئے حواس باختہ ہیں۔ بعض لوگ اس بات سے بھی باخبر تھے کہ خود اُن کے گھر میں غیر محسوب آمدنی ہے جس کی اُن کو خبر نہیں ہے ۔ کئی سلیقہ مند بی بیاں ایسی بھی ہیں کہ شوہر کی آمدنی سے یا گھر کے خرچوں میں سے کچھ نہ کچھ بچاتی ہیں اور صندوقوں ، الماریوں ، مختلف ڈبوں اور مٹی کے غلوں میں پیسے چھپاکر رکھتی ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی خود ان کو اپنے خزانوں کا پتہ یاد نہیں رہتا۔ اُن کی نیت پر کوئی شبہ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ  سارے جتن اس لئے کرتی ہیں کہ بُرے وقت کا کوئی ساتھی نہیں۔ ا گر کبھی کوئی ضرورت آن پڑے تو اُن کی جمع پونجی کام آئے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرور نہ پڑے ۔ آج کتنی ایسی سگھڑ عورتیں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے آگے اپنا سرمایہ کھول کر بیٹھی ہوں گی کہ اب تک اس کشتی میں میں اکیلے سوار تھی ۔ اب کشتی بھنور میں ہے اس لئے تم بھی سوار ہوجاؤ۔ حکومت نے پرانے نوٹوں کی منسوخی کی تین وجوہ بتائی ہیں۔ رشوت خوروں کا پیسہ باہر لانا، جعلی نوٹوں سے نجات حاصل کرنا ، دہشت گردوں کا حقہ پانی بند کرنا۔ ظاہر ہے کہ یہ ساری باتیں واجبی ہیں۔ جہاں تک رشوت خور لوگوں کا سوال ہے۔ اُن کو بھی ہر قسم کے ہتھکنڈوں سے پوری واقفیت ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ ایسے لوگ Cash میں رشوت لینے کی بجائے Kind میں رشوت لیں گے۔ ہم نے ایک رشوت خور افسر کا قصہ سنا تھا ۔ وہ کسی گاؤں کے دورے پر گیا تو وہاں کے سرپنچ نے اسے چاول کا ایک تھیلہ نذر کیا ۔ افسر نے کہا میں رشوت نہیں لیتا تم اس تھیلے کی کوئی قیمت مقرر کرو میں ادا کروں گا ۔ سرپنچ نے عرض کیا ۔ حضور اس کی قیمت دس روپئے دے دیجئے ۔ افسر نے بیس روپئے کا نوٹ نکالااور کہا دو تھیلے میرے گھر گھیج دو۔

جعلی نوٹ بنانے والوں کا کام آسان نہیں ہوتا۔ ہم نے سنا تھا کہ ایک جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے والے نے غلطی سے پندرہ روپئے کے نوٹ بنادیئے ، پندرہ روپئے کے نوٹوں کا بنڈل لے کر وہ ا پنے ایک دوست کے پاس گیا جس کا حسن اتفاق سے یہی پیشہ تھا ۔ اس دوست نے پندرہ روپوں کا بنڈل لیا اور گھر کے اندر گیا اور ساڑھے سات روپئے کے دو بنڈل لے کر نکلا اور انہیں پندرہ ر وپئے والے دوست کے حوالے کیا۔
سنا ہے کہ 8 نومبر کی رات بہت سی جگہوں پر سونے کی دکانیں کھلی رہیں۔ سونا اپنی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت پر بکا۔ اس طرح کالا دھن رکھنے والے کالے دھن کو پیلے دھن میں تبدیل کر کے خوش خوش واپس ہوئے ۔ پتہ نہیں کہاں تک سچ ہے۔ بعض جگہوں پر پانچ سو کے پر انے نوٹ چار سو میں اور ہزار کے نوٹ آٹھ سو میں خریدے گئے ۔ دوسری طرف نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے بعض شادیاں ملتوی بھی ہوگئیں۔ ایسی آپا دھاپی اور نفسا نفسی کے وقت ایک اچھی خبر یہ بھی سننے کو ملی کہ ایک شادی کے انتظام میں دلہن والوں کو مشکل پیش آرہی تھی تو نوشہ اور اس کے ماں باپ نے سادگی سے شادی کو مقررہ تاریخ پر ہونے دیا لیکن ملتوی ہونے سے بچالیا۔
ابھی ہم کو پانچ سو اور دو ہزار کے نئے نوٹوں کا دیدار نصیب نہیں ہوا۔ امید ہے کہ یہ نئے نوٹ کیل کانٹے سے لیس ہوں گے ۔ ہمارا مطلب ہے کہ حکومت کو ایسے نوٹ چھاپنا چاہئے کہ مشاق سے مشاق مجرم بھی جعلی نوٹ نہ بناسکے۔
جب بھی حکومت کوئی نیا فیصلہ لیتی ہے یا نیا قدم اٹھاتی ہے تو ہمہ قسم کے تاثرات سامنے آتے ہیں۔ حکومت کی ہم نوا پارٹیاں تعریف و توصیف کرتے تھکتی نہیں ہیں جبکہ مخالف پارٹیاں مذمت کرنے لگتی ہیں۔ بہرحال یہ ایک دلیرانہ تجربہ ہے ۔ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کی رونق ، اس کی شان و شوکت محض عارضی ہوتی ہے ملک کا سکہ جس کی مدد سے حکومت کا اور عوام کا استحکام ہوتا ہے خود کوئی مستحکم چیز نہیں۔ کبھی دولت مند آدمی فقیر بن جاتا ہے اور کبھی فقیر خوشحال ہوجاتا ہے۔ کبھی دولت مند دانے دانے کو محتاج ہوجاتا ہے ۔ نہ جانے کتنے لاکھ کروڑ کے کرنسی نوٹ آج کاغذ کیلئے حیثیت ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ ہم کو ایسے میں یاس یگانہ چنگیزی کی ایک رباعی یاد آرہی ہے جس کے آخری دو مصرعے آج کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم اپنے قارئین کیلئے پوری رباعی لکھ دیتے ہیں۔
گنجینۂ راز اندھی نگری میں نہ کھول
ہاں فکر رسا دیکھ بڑا بول نہ بول
جس کی جتنی ضرورت اتنی قیمت
ہیرا کبھی پتھر ہے کبھی ہے انمول

TOPPOPULARRECENT