Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہیضہ کی وباء سے عوام میں خوف و دہشت

ہیضہ کی وباء سے عوام میں خوف و دہشت

حیدرآباد و سکندرآباد میں دست و قئے کی شکایات میں اضافہ، محکمہ صحت کی چوکسی ضروری
حیدرآباد۔13 جولائی (سیاست نیوز ) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں محکمہ بلدیہ و صحت کو فوری چوکنا ہوتے ہوئے صحت عامہ کی حفاظت کے لئے اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے ۔ شہر میں ہیضہ سے متاثر مزید تین مریضوں کی شناخت کے بعد عوام میں شدید خوف و دہشت کا عالم پایا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں میں حالیہ عرصہ کے دوران دست و قئے کی شکایات کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں حفظان صحت پھر عدم توجہی حالات کو مزید ابتر کرنے کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے محکمہ صحت کی جانب سے صحت عامہ کے تحفظ کیلئے کم از کم شعور بیداری مہم کا آغاز کیا جانا چاہئے تاکہ شہریوں کو وجوہات سے واقف کروایا جا سکے۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں ہیضہ کی وباء کے اثرات پر محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ موسمی وبائی امراض ہیں جو کہ موسم کی تبدیلی کے سبب پھیل رہے ہیں جبکہ خانگی ڈاکٹرس اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ حالیہ عرصہ میں جو مریض دواخانوں سے رجوع ہوئے ہیں ان میں ایسی علامات پائی جا رہی ہیں جو ہیضہ کے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فوری طور پر سڑک کے کنارے ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت کئے جانے والے اشیائے خورد و نوش کی تحقیق نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ دونوں شہروں میں ٹھیلہ بنڈی کے علاوہ بیشتر مقامات پر فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کے متعلق خود بلدی عہدیدار مطمئن نہیں ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ کئی مقامات پر غیر معیاری اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود مجلس بلدیہ کے فوڈ انسپکٹرس کی تساہلی و لاپرواہی کے سبب دونوں شہروں میں غیر معیاری اشیائے خورد و نوش کی فروخت عام ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں میں ہیضہ کی علامات کو دیکھتے ہوئے صرف یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ ان تمام غذاؤں سے اجتناب کیا جائے جن غذاؤں کے تاخیر سے استعمال کی صورت میں پیٹ میں گڑبڑ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں اور سڑک کے کنارے دستیاب اشیائے خورد و نوش سے کچھ دن کیلئے پرہیز کیا جانا چاہئے تاکہ اس طرح کی کوئی شکایت پیدا نہ ہونے پائے۔ محکمہ صحت و ضلع انتظامیہ اگر فوری شعور بیداری مہم کا آغاز کرتا ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور حفظان صحت کے معاملہ میں یہ بہترین پیشرفت ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT