Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کئی تاجرین اور کمپنیوں کی رقومات ہڑپ کر گئے : ہیلاری کلنٹن

ٹرمپ کئی تاجرین اور کمپنیوں کی رقومات ہڑپ کر گئے : ہیلاری کلنٹن

ٹرمپ کو سیکوریٹی معلومات مشروط طور پر فراہم کرنے اوباما کا مشورہ، چھوٹے تاجرین معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

واشنگٹن ۔ 5 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کی مقبولیت میں ہر گذرنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے وہیں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ان کے ریپبلکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی یہ واضح ہوتا جارہا ہیکہ موصوف امریکی صدر بننے کے اہل نہیں۔ لاس ویگاس میں ایک انتخابی ریالی کے دوران ہلاری کلنٹن نے کہا کہ اب اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ ٹرمپ نہ تو صدارتی عہدہ پر فائز ہونے اور نہ ہی کمانڈرانچیف بننے کے اہل ہیں جس کیلئے صبروتحمل کا ہونا بیحد ضروری ہے ورنہ وہ امریکہ کو کہیں نیوکلیئر جنگ میں نہ جھونک دیں۔ اسی لئے امریکی صدر بارک اوباما نے بھی کہا ہیکہ انہیں (ٹرمپ) ملک کو درپیش سیکوریٹی کے اہم خطرات اور عالمی بحران کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا لیکن انہیں یہ سب معلومات خفیہ رکھنا ہوگی۔ اوباما نے کہا کہ ہم قانون کے مطابق کام کریں گے۔ اگر کوئی صدارتی امیدوار ہے تو انہیں سلامتی سے متعلق تمام اطلاعات حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صدر بننے کی صورت میں وہ تمام چیلنجز سے نمٹنے تیار رہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر انتباہ دیا کہ سیکوریٹی کے متعلق معلومات کو ہر حال میں خفیہ رکھا جائے۔

اوباما نے ٹرمپ سے یہ خواہش بھی کی کہ اگر وہ صدر بننا چاہتے ہیں تو انہیں صدر کی طرح سوچنا بھی چاہئے۔ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری اور ان کے نائب صدر کے امیدوار سلامتی سے متعلق اجلاس میں شریک ہونے کے اہل ہیں۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے چند قائدین نے ہلاری کو سیکوریٹی کی معلومات دیئے جانے کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ انہوں نے وزیرخارجہ کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے اپنے خانگی ای ۔ میل کا استعمال خفیہ سرکاری معلومات کیلئے کیا تھا۔ بہرحال کلنٹن کو ان سب حالات کے باوجود ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے جس کا قطعی فیصلہ  امریکی عوام کو 8 نومبر کے روز کرنا ہے۔ ہلاری نے اٹلانٹک سٹی کے دورہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انہوں نے چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں جیسے پلمبرس، پینٹرس، شیشے کا کام کرنے والے، سنگ مرمر کاکام کرنے والے گویا تقریباً ہر شعبہ کے ورکرس سے ملاقات کی جو ٹرمپ کے ریسارٹس پر کام کرتے ہیں۔ کام کرنے کے بعد جب اپنا بل پیش کرتے ہیں تو ٹرمپ کے ’’چمچے‘‘ ان سے  کہتے ہیں کہ بل کی ادائیگی نہیں ہوسکتی۔

اس لئے نہیں کہ ہم بل ادا نہیں کرسکتے بلکہ اس لئے کہ ہم بل ادا نہیں کرتے۔ ٹرمپ اس طرح اپنا کام مفت میں نکالتے ہیں۔ نوئیڈا کی ایک کپڑا پینٹ کرنے والی کمپنی کو ٹرمپ 400,000 ڈالرس واجب الادا ہیں اور اتنی خطیر رقم نہ ملنے پر کمپنی کو اپنی فیاکٹری بند کرنا پڑی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد متاثر ہوئے۔ کیا اب وہ سینکڑوں افراد ٹرمپ کو ووٹ دیں گے؟ ٹرمپ یہ نہیں سمجھتے کہ کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں چھوٹے چھوٹے کاروبار اہم رول ادا کرتے ہیں۔ انہیں ہم معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کرتے ہیں اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنا خون پسینہ بہا کر اپنے چھوٹے موٹے کاروبار کو دن دونی اور رات چوگنی ترقی عطا کرتے ہیںوہ لوگ قابل احترام ہیں جبکہ ٹرمپ کی نظروں میں ایسے لوگوں کی کوئی وقعت نہیں۔ ہلاری نے کہا کہ یہ ایک بہت مشہور مقولہ ہے کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے قبل اس کی مزدوری (اجرت) دے دینی چاہئے لیکن ٹرمپ پر یہ مقولہ صادق نہیں آتا۔

ہیلار ی کو کلنٹن پر 15 فیصد کی زبردست سبقت

واشنگٹن 5 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلاری کلنٹن نے اپنے ریپبلیکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف 15 فیصد کی شاندار سبقت حاصل کرلی ہے ۔ ایک تازہ ترین سروے میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ دو متواتر کنونشنوں کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ عرصہ میں جو ریمارکس کئے ہیں ان کے بعد ہیلاری کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور انہیں قومی سطح پر اہل رائے دہندوں میں 48 فیصد کی تائید حاصل ہے جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ 33 فیصد کے پسندیدہ امیدوار ہیں۔ مک کلاتھی ۔ ماریسٹ سروے میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ یہ سروے ماریسٹ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین نیویارک کی جانب سے کیا گیا ۔ گذشتہ مہینے کلنٹن کو 42 فیصد کی اور ٹرمپ کو 39 فیصد کی تائید حاصل تھی ۔ ڈائرکٹر اسنٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک کنونشن کے بعد ہیلاری کی مقبولیت میں مزید اضافہ ممکن ہوسکتا ہے ۔ وال اسٹریٹ جرنل / این بی سی نیوز کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اور سروے میں ہیلاری کو ٹرمپ سے نو پوائنٹ آگے دکھایا گیا ہے ۔ وال اسٹریٹ جرنل اور این بی سی نیوز کے سابقہ سروے میں ہیلاری کو ٹرمپ پر پانچ پوائنٹس کی سبقت دکھائی گئی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ کلنٹن کو خواتین میں ‘ افریقی امریکنوں میں ‘ تمام غیر سفید فام ووٹرس میں ‘ نوجوان رائے دہندوں میں اور سفید فام رائے دہندوں میں ڈونالڈ ٹرمپ پر واضح سبقت حاصل ہے ۔ سینئرس رائے دہندوں اور سفید فام باشندوں میں پسندیدگی کے اعتبار سے ڈونالڈ ٹرمپ کو ہیلاری کلنٹن پر سبقت حاصل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT