Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / ہیڈلی کی بیوی کا جواب دینے سے انکار

ہیڈلی کی بیوی کا جواب دینے سے انکار

ممبئی حملہ کیس میں ہندوستانی تحقیقاتی ادارہ کو پیشرفت میں دھکا
نئی دہلی ۔ /14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) لشکر طیبہ سے وابستہ امریکی دہشت گرد اور 26/11 ممبئی دہشت گرد حملوں کے ایک اصل سرعنہ ڈیوڈ کو لمین ہیڈلی کی امریکی بیوی اور اس کے سابق تجارتی پارٹنر نے شخصی رازداری کا عذر بتاتے ہوئے این آئی اے کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے ۔ نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے ) تحقیقات کے ضمن میں ہیڈلی کی بیوی شاذیہ اور اس کے بزنس پارٹنر ریمنڈسینڈرس سے امریکی محکمہ انصاف کے توسط سے رجوع ہوئی تھی تاکہ 55 سالہ خطرناک دہشت گرد سے متعلق چند سوالات پر جوابات حاصل کئے جائیں ۔ ہیڈلی ممبئی اور ڈنمارک دہشت گرد حملوں میں اپنے رول پر فی الحال امریکی جیل میں 35 سال کی سزائے قید بھگت رہا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ ان دونوں (ہیڈلی کے بزنس پارٹنر اور بیوی) نے شخصی رازداری کی وجہ بتاتے ہوئے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے ۔ یہ دونوں چونکہ اس مقدمہ میں ملزم نہیں ہیں ۔ چنانچہ امریکی قانون کے مطابق انہیں کسی بھی بیرونی قانون نفاذ کرنے والی ایجنسی کی جانب سے جرح کی جانے والی جرح کی درخواست قبول یا مسترد کرنا کا اختیار حاصل ہے ۔ تحقیقات کنندگان ان د ونوں سے اس لئے رجوع ہوئے تھے کہ ان کا احساس تھا کہ ہیڈلی نے اپنے خاندان سے متعلق معلومات کا انکشاف نہیں کیا ہے علاوہ ازیں ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں اور ممنوعہ لشکر طیبہ سے اپنے روابط کے بارے میں بھی تفصیلات کا واضح اظہار نہیں کیا ہے ۔ این آئی اے کی 106 صفحات پر مشتمل دستاویز کے مطابق ہیڈلی نے ہندوستانی تحقیقات کنندگان سے کہا تھا کہ وہ اس کے خاندان سے متعلق کوئی سوال نہ پوچھیں ۔
2010 ء میں ہیڈلی سے تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد یہ دستاویز تیار کی گئی تھی ۔د ستاویز میں ہیڈلی کے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ ’’ 1999 ء کے دوران میں نے پاکستان میں شاذیہ گیلانی سے شادی کی تھی ۔ میں میرے سسرالی رشتہ داروں کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ میری سرگرمیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شکاگو کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق ہیڈلی کی بیوی شاذیہ نے ممبئی میں جاری دہشت گرد حملوں کو ٹیلی ویژن پر دیکھ کر خفیہ الفاظ میں ستائش کی تھی ۔ شاذیہ نے ممبئی حملوں کے بارے میں کہا تھا کہ ’’میں کارٹونس دیکھ رہی ہوں ‘‘ ہیڈلی نے معاون ملزم پاکستانی نژاد کینڈین تہور رانا کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے چوتھے دن یعنی /27 مئی 2011 ء کو شکاگو عدالت میں کہا تھا کہ حملوں کے دوران شاذیہ نے اس (ہیڈلی) کے نام اپنے ای میل پیام مبارکباد میں لکھا تھا کہ ’’ میں دن بھر ٹیلی ویژن پر یہ کارٹونس (حملے) دیکھتی رہی ۔ شاذیہ نے اپنے پیام مبارکباد میں یہ بھی لکھا کہ وہ اس (ہیڈلی) کے گریجویشن (حملوں میں کامیابی) پر فخر کرتی ہے ۔ ہیڈلی نے وکیل صفائی پیٹرک ڈبلیو بلگانی سے کہا کہ ممبئی حملے شروع ہونے کے بعد شاذیہ کے علاوہ کئی افراد نے اس کو مبارکباد دی تھی ۔ ڈنمارک میں حملوں سے متعلق اس (ہیڈلی) کے منصوبوں سے بھی شاذیہ واقف تھی اور حتی کہ اس کے لئے ڈنمارک تا فرینکفرٹ تا دبئی و پاکستان فضائی ٹکٹ بھی بک کروائی تھی ۔ ریمنڈسینڈرس جو شکاگو کے ڈیون ریونیو میں فرسٹ ورلڈ ایمگیریشن سرویس ادارہ کا مالک تھا ۔ ہیڈلی کے لئے ہندوستان میں ہمہ مرتبہ داخلہ کا ویزا دلایا تھا اور اس نے ممبئی میں بھی ایمگریشین سرویس کی ایک ایجنسی قائم کیا تھا ۔ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی  ایک پاکستانی شہری اور محکمہ اطلاعات و نشریات کے ایک سابق اعلیٰ افسر مسلم شخص اور امریکی ماں کا بیٹا اس کا اصل نام سید داؤد گیلانی ہے ۔ اس کے دو سوتیلے بھائی سید حمزہ اور سید دانیال گیلانی حکومت پاکستان کے اعلیٰ افسران ہیں ۔ ہیڈلی کے والد سید سلیم گیلانی کو امریکی نشریاتی ادارہ وائس آف امریکہ میں تعینات کیا گیا تھا ۔ اُس وقت انہوں نے ایک سفید فام امریکی خاتون سے شادی کی تھی جنہیں داؤد (ہیڈلی) پیدا ہوا تھا ۔ ہیڈلی نے 2010 ء میں این آئی اے سے کہا تھا کہ اس کے ایک سوتیلے بھائی دانیال اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دفتر میں انفارمیشن آفیسر تھے ۔ ہیڈلی کے والد سلیم گیلانی کو 1970 ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کا ڈائرکٹر جنرل بھی بنایا گیا تھا ۔ وہ سفارتی عہدوں پر بھی فائز رہے تھے ۔ ان کا سلسلہ نصب بھی یوسف رضا گیلانی کے آباء و اجداد کے نصب سے ملتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT