Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ہ55 ہزار کروڑ بینکس میں جمع، اجرائی صرف 15 ہزار کروڑ روپئے

ہ55 ہزار کروڑ بینکس میں جمع، اجرائی صرف 15 ہزار کروڑ روپئے

100 ،50 ، 20 اور 10 روپئے کے صرف 4.16 فیصد نوٹس
حیدرآباد ۔ 10 ڈسمبر (سیاست نیوز) نوٹ بندی کے بعد تلنگانہ میں کرنسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ آر بی آئی نے ابھی تک ریاست کو 15,902 کروڑ روپئے کی نئی کرنسی جاری کی ہے، جس میں 95.84 فیصد 2000 روپئے کی نوٹ ہے۔ عوام نے منسوخ شدہ 55 ہزار کروڑ روپئے بینکوں میں جمع کرچکے ہیں۔ آر بی آئی کی جانب سے 2000 ہزار کی نوٹ زیادہ جاری کرنے کی وجہ سے ریاست میں چلر کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے بار بار نمائندگی کرنے کے باوجود آر بی آئی چھوٹی نوٹ سربراہ کرنے کے معاملے میں تساہلی سے کام لے رہی ہے۔ 8 نومبر سے 8 ڈسمبر تک آر بی آئی نے تلنگانہ کو 15,902 کروڑ روپئے کی کرنسی روانہ کی ہے، جس میں 15,241 کروڑ روپئے 2000 روپئے کی نوٹ پر مشتمل ہے۔ 240 کروڑ روپئے 500 کی نوٹ، 376 کروڑ روپئے 100 روپئے کی نوٹ، 219 کروڑ روپئے 10 روپئے کی نوٹ پر مشتمل ہے۔ آر بی آئی کی جانب سے روانہ کردہ رقم میں 95.84 فیصد بڑی نوٹ ہے۔ صرف 4.16 فیصد چھوٹی نوٹس ہیں، جس سے اشیائے ضروریہ کی خریدوفروخت کیلئے چلر کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ایک ماہ کے دوران 55 ہزار کروڑ روپئے کے منسوخ شدہ نوٹ بینکوں میں جمع ہوئے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد ریاست میں ڈیجیٹل لین دین کی طرف عوام کا رجحان بڑھا ہے۔ باوجود اس کے ایک ماہ کے دوران صرف 10 فیصد ہی ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کی گئی ہے۔ APPS اور پے ٹی ایم کے استعمال میں کسی قدر اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ میں سوائپنگ مشینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 30 اکٹوبر تک ریاست میں 34.677 سوائپنگ مشین تھے جس کی تعداد بڑھ کر 50,951 ہوگئی ہے جبکہ ریاست کو نقد رقمی لین دین سے پاک بنانے کیلئے پہلے مرحلہ میں 15 لاکھ سوائپنگ مشینوں کی طلب ہے۔

TOPPOPULARRECENT