Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / یاتریوں کی بس نے سکیوریٹی اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی

یاتریوں کی بس نے سکیوریٹی اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی

SRINAGAR, JULY 11 (UNI)- Jammu and Kashmir Chief Minister Mehbooba Mufti meeting with injured Amarnath Pilgrims at a hospital in Srinagar on Tuesday. Pilgrims were injured when terrorists attacked their bus in Anantnag on Monday night, in which seven pilgrims were killed and 21 injured. UNI PHOTO-60u

شام 7 بجے کے بعد روانگی ۔ بس میں تکنیکی خرابی سے تاخیر ہوئی ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی

سرینگر 11جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں گذشتہ رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس نے سیکورٹی اداروں کے امرناتھ یاتریوں کیلئے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف ذرائع نے اس کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یاتریوں کوشام سات بجے کے بعد کشمیر شاہراہ پر سفر کرنے سے اجتناب کرنے کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا ‘سیکورٹی اداروں کی طرف سے پہلے ہی بیان جاری کیا گیا تھا ۔ اس میں یاتریوں کو تاریکی میں سفر سے گریز کرنے کہا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیر شاہراہ و دیگر راستوں پر روڈ اوپننگ پارٹیز کی تعیناتی شام سات بجے کے بعد ہٹالی جاتی ہے ۔سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل (آپریشنل) ذوالفقار حسن نے منگل کی صبح حملے کے مقام کا دورہ کرکے شاہراہ پر سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا ‘اس کی تحقیقات ہوگی کہ یاتریوں سے بھری بس کو شام سات بجے کے بعد شاہراہ پر چلنے کی اجازت کیونکر دی گئی’۔ تاہم چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بس میں جموں کی طرف روانگی کے دوران کچھ تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے ضلع اسپتال میں زیر علاج زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے کہا کہ اس حملے میں سات یاتری ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین کی تعداد6 ہے ۔ ان کی گاڑی خراب ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کی جموں روانگی میں تاخیر ہوئی ۔ ریاستی پولیس نے21 جون کو جاری کردہ بیان میں کہا تھا ‘یاتریوں اور ان کی گاڑیوں کی محفوظ نقل وحرکت کو یقینی بنانے فیصلہ لیا گیا ہے کہ یاترا گاڑیوں کو ہر روز صرف سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جواہر ٹنل کراس کرنے کی اجازت ہوگی۔یاتریوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ اس حوالے سے ٹریفک پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں سے تعاون کریں ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ ہلاک و زخمی یاتریوں کا تعلق گجرات سے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی زد میں آنے والی گاڑی امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔ پولیس ترجمان نے کہا ‘جنگجوؤں نے ابتدائی طور پر بٹنگو میں پولیس کے ایک بلٹ پروف بنکر پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ ابتدائی فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی’۔ انہوں نے کہا ‘اس کے بعد جنگجوؤں نے کھنہ بل میں ایک پولیس ناکے پر فائرنگ کی۔پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ سیاحوں (یاتریوں) کی ایک بس فائرنگ کی زد میں آگئی اور نتیجتاً 18 سیاح زخمی ہوگئے ۔ ان میں سے 7 سیاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔

 

یاترا پر حملہ فرقہ وارانہ خلیج بڑھانے کی کوشش‘ بایاں بازو
نئی دہلی 11 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں امرناتھ یاتریوں پر بزدلانہ اور غیر انسانی حملہ کی مذمت کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ اس حملہ کا مقصد در اصل فرقہ وارانہ خلیج کو مزید فروغ دینا تھا ۔ ان پارٹیوں نے مطالبہ کیا کہ خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچایا جانا چاہئے ۔ ان جماعتوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ ہی اس یاترا کو اپنے ورثہ کا حصہ سمجھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ فرقہ وارانہ امن اور ہم آہنگی برقرار رہے ۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی اس بزدلانہ حملہ کی مذمت کرتی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ یہ حملہ در اصل عسکریت پسندوں میں مذہبی تخریب کاری میں اضافہ کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کا مقصد فرقہ وارانہ خلیج کو مزید فروغ دینا تھا ۔ سی پی آئی کے نیشنل سکریٹری ڈی راجہ نے حکومت سے کہا کہ وہ اس سنگین اور غیر انسانی حملہ کے خاطیوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یاترا ہر سال ہوتی ہے ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ انٹلی جنس اور سکیوریٹی اقدامات کو مزید چوکس کردے ۔ کل رات ہوئے اس حملہ میں جملہ سات یاتری ہلاک ہوگئے تھے جن میں چھ خواتین شامل تھیں۔

TOPPOPULARRECENT