Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / یادو خاندان کی برسرعام لڑائی ، شیوپال نے اکھلیش سے مائیک چھین لیا

یادو خاندان کی برسرعام لڑائی ، شیوپال نے اکھلیش سے مائیک چھین لیا

LUCKNOW, OCT 24 (UNI) Police trying to control supporters of Uttar Pradesh Chief Minister Akhilesh Yadav and Shivpal Singh Yadav(SP state president) in front of party office, in Lucknow on Monday,during a serious party meeting of senior party leaders including legislatures and MPs. UNI PHOTO -126U

الزامات اور جوابی الزامات ، امرسنگھ اور شیوپال کو ملائم سنگھ کی تائید ، باپ بیٹے میں تلخ الفاظ کا تبادلہ، چیف منسٹر خطاب کے دوران رو پڑے
لکھنو ۔ 24 اکتوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اُترپردیش کی حکمراں سماج وادی پارٹی میں داخلی لڑائی آج منظرعام پر آگئی جہاں پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے اپنے چھوٹے بھائی شیوپال یادو اور دوست امرسنگھ کی کھل کر حمایت کی۔ انھوں نے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن بحیثیت چیف منسٹر برطرفی کا امکان مسترد کردیا۔ اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی میں پھوٹ کی قیاس آرائیوں کے دوران آج سماج وادی پارٹی سربراہ کے خاندان میں جاری لڑائی جلسہ عام میں پہونچ گئی۔ ملائم سنگھ یادو نے پارٹی ارکان اسمبلی ، پارلیمنٹ اور دیگر قائدین کا اجلاس طلب کیا تھا جہاں اکھلیش یادو مختلف موڈ میں دکھائی دیئے۔پہلے تو انھوں نے جذباتی ہوکر مستعفی ہونے کی پیشکش کی لیکن بعد میں امرسنگھ اور اُن کے قریبی ساتھیوں پر خود اُن کے اور والد کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا۔ اُس وقت اکھلیش اور ملائم کے مابین تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا اور ملائم سنگھ نے اکھلیش کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ اُترپردیش کی سیاست میں اکھلیش کی کوئی اہمیت نہیں۔ انھوں نے پوچھا ، تم میں کیا صلاحیت ہے ؟ کیا تم انتخابات جیت سکتے ہو ؟ یہ صورتحال آج اس وقت پیش آئی جبکہ اس سے پہلے اکھلیش اور اُن کے چچا شیوپال یادو ریاستی صدر سماج وادی پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف بعض اقدامات کے ذریعہ ماحول کو گرمادیا تھا ۔ چیف منسٹر نے شیوپال اور اُن کے قریبی دیگر تین وزراء کو برطرف کردیا تھا۔ ملائم سنگھ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنے بھتیجے رام گوپال یادو ، رام گوپال رکن راجیہ سبھا کو چھ سال کیلئے پارٹی سے خارج کردیا ۔ یہ شیوپال کے خلاف لڑائی میں اکھلیش کی تائید کررہے ہیں ۔ اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے نئی پارٹی کے قیام کا امکان مسترد کردیا ، لیکن شیوپال نے اس دعویٰ پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے اور ’’گنگاجل ‘‘ کی قسم کھاکر کہنے کیلئے تیار ہیں کہ خود چیف منسٹر نے اُن سے کہا کہ وہ نئی پارٹی قائم کرنے والے ہیں۔ یہ صورتحال اُس وقت دھماکہ خیز شکل اختیار کرگئی جب اکھلیش نے راجیہ سبھا رکن امرسنگھ پر جو حال ہی میں پارٹی میں واپس ہوئے ، ایک سرکردہ انگریزی روزنامہ میںکہانی شائع کروانے کا الزام عائد کیا جس میں انھیں ’’اورنگ زیب‘‘ اور ملائم سنگھ کو ’’شاہجہاں‘‘ کہا گیا ہے ۔ مغل بادشاہ شاہجہاں کو اُن کے فرزند اورنگ زیب نے قید کردیا تھا ۔ اس وقت شیوپال کو جو وہیں قریب کھڑے ہوئے تھے اکھلیش سے مائیک چھینتے ہوئے دیکھا گیا اور انھوں نے کہا کہ اکھلیش جھوٹے ہیں۔ شیوپال نے ملائم سنگھ یادو سے حکومت سنبھال لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ اکھلیش اپنے خطاب کے دوران ایک مرحلے پر رو پڑے ، انھوں نے کہا کہ نیتاجی (ملائم سنگھ) جسے چاہیں چیف منسٹر منتخب کرسکتے ہیں ۔ وہ نئی پارٹی کیونکر قائم کریں گے ؟ انھوں نے سماج وادی پارٹی سربراہ کو اپنے ’’پتا‘‘ (باپ) اور ’’گرو‘‘ (استاد) کہا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کئی لوگ اُن کے خاندان میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایک مرحلہ پر اکھلیش نے صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ رتھ بھی چلے اور پارٹی بھی مستحکم رہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ وہ 5 نومبر کو رتھ یاترا شروع کرتے ہوئے پارٹی کی سلور جوبلی تقاریب میں شریک نہیں ہوں گے ۔ جب ملائم سنگھ کی باری آئی تو انھوں نے کہاکہ پارٹی اس وقت مشکل صورتحال سے گذر رہی ہے ۔ ارکان کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑائی نہ کریں لیکن اُس وقت اُن کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ افراتفری پھیل چکی تھی اور شہ نشین پر تلخ الفاظ کا تبادلہ شروع ہوگیا جس کی وجہ سے اجلاس ختم کرنا پڑا ۔ دونوں باپ بیٹے کو ایک دوسرے کے خلاف چیختے ہوئے دیکھا گیا ۔ ملائم سنگھ نے اکھلیش سے کہا کہ وہ امر اور شیوپال کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کیلئے تیار نہیں ۔ امرسنگھ نے مجھے جیل جانے سے بچایا ، اُس نے میری کافی مدد کی ۔ اگر امر سنگھ نہ ہوتے تو وہ آج جیل میں ہوتے ۔ وہ میرے بھائی کی طرح ہے ۔ شیوپال یادو کے کام کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انھوں نے اپنے بھائی کو ایک عوامی مقبول لیڈر قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT