Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / یادو طبقہ میں مویشیوں کی تقسیم میں دھاندلیوں کا الزام

یادو طبقہ میں مویشیوں کی تقسیم میں دھاندلیوں کا الزام

 

ضلعی انتظامیہ کوالیٹی سے زیادہ اپنی مقدار پوری کرنے میں مصروف ۔ ٹی جیون ریڈی

جگتیال 6 اگسٹ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے یادو طبقہ کی فلاح بہبود اور ان کے پیشہ کی ترقی کے لئے انہیں سبسیڈی 25% فیصد ادا کرنے اور باقی 75% حکومت کی جانب سے ادا کرتے ہوئے یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں حکومت کی جانب سے بکروں کی جو کوالیٹی بتائی گئی اس کے برخلاف مادہ مینڈ بھی کم از کم 1 1/2 سال کی عمر اور اس کا وزن 25 کیلو اور نر بکرا ایک سال اور اس کا وزن 30 کیلو ہونا چاہئے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اب تک جو یونٹس تقسیم کئے گئے اس میں کمزور اور کم عمر کے مویشیوں کی تقسیم عمل میں آئی ہے ۔ جس کی وجہ سے یادو طبقہ کے چرواہوں کو نقصان کا سامنا ہے اور تقسیم کردہ بکرے بیماریوں کا شکار ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی جگتیال مسٹر جی جیون ریڈی نے آج شام اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آل انڈیا اینیمل ہسبینڈری کے اصول کے مطابق 5 ہزار بکروں کو ایک ڈاکٹر ہونا چاہئے ۔ ریاستی حکومت 6.20 لاکھ یونٹ قائم کرنا چاہتی ہے اس کے مطابق 75 لاکھ بکرے ہور ہے ہیں ۔ اس لحاظ سے 5 ہزار ڈاکٹرس درکار ہیں حکومت اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رائیکل منڈل کا دورہ کرنے پر وہاں پر بکروں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اور وہ جسمانی متعدی امراض کا شکار ہیں کوئی پرسان حال نہیں اور بکروں کا وزن بڑی مشکل سے 10 کیلو ہے ۔ دوسری ریاستوں کے بکروں کو حاصل کیا جا رہا ہے جہاں پر 3 تا 4 ہزار کا بکرا زیادہ قیمت میں چھ ہزار میں فروخت کیا جا رہا ہے جس سے چرواہوں پر بوجھ پڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع انتظامیہ ٹارگیٹ کے بجائے کوالیٹی پر توجہ دے ۔ اور تقسیم کئے جانے والے مویشوں کی ویڈیو گرافی کی جائے ۔ اور بیمار بکروں کے لئے ویاکسن کا انتظام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو بھی اسکیمات ہوئے ہیں اس میں ضلعی عہدیداران کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی عوامی نمائندوں کو مدعو کرے لیکن بکروں کی تقسیم میں نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی بکرے تقسیم کئے گئے وہ بہت ہی کم وزن اور کم عمر کے ہیں جس نے ان کے تعداد میں اضافہ کے لئے کافی وقت درکار ہوگا جس سے چرواہوں پر مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ انہوں نے ریاستی چیف منسٹر کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاکہ بکروں کی تقسیم کی ویڈیو گرافی اور ٹارگیٹ کے بجائے کوالیٹی پر توجہ دی جائے ۔ اور ان کے تحفظ کے لئے ڈاکٹرس کا تقرر عمل میں لایا جائے اور حکومت کے اصول کے مطابق کیا جائے ۔ اس موقع پر چیرپرسن بلدیہ ٹی وجیہ لکشمی ‘ ایم پی پی مانامہ ‘ بنڈہ شنکر اور دیگر سرپنچ وغیرہ موجود تھے ۔

 

 

TOPPOPULARRECENT