Monday , August 21 2017
Home / Mera Column / یادیں ایک خوشگوار شام کی

یادیں ایک خوشگوار شام کی

میرا کالم             سید امتیاز الدین
22 جولائی 2016 ء جمعہ کی شام ہماری روز کی شاموں سے مختلف تھی ۔ بات یہ تھی کہ اُس دن نواب شاہ عالم خاں صاحب نے اپنی قیامگاہ پر اردو کے مخلص خدمت گزار احمد رشید شروانی صاحب کو اردو کے مسائل پر گفتگو کیلئے مدعو کیا تھا ۔ دراصل احمد رشید شروانی کچھ عرصہ سے حیدرآباد میں میں مقیم ہیں۔ مجتبیٰ حسین صاحب کو خیال ہوا کہ نواب صاحب کی ملاقات شروانی صاحب سے کروائی جائے۔ انہوں نے نواب صاحب سے کہا کہ آپ وقت دیں تو یہ ملاقات آپ کے گھر یا فیکٹری پر ہوسکتی ہے ۔ نواب صاحب نے ان سے کہا کہ ’’مختصر سی ملاقات جس میں دو تین لوگ شریک ہوں، چائے پئیں اور رخصت ہوجائیں تو نہ اس میں کچھ مزہ آئے گا اور نہ سیر حاصل گفتگو ہوگی ۔ میں چاہتا ہوں کہ حیدرآباد کے کچھ ادیب و شاعر بھی ہوں۔ کالج کے پروفیسرس اور صحافی بھی ہوں ۔ شروانی صاحب چند حیدرآبادیوں سے بھی ملیں، اظہار خیال ہو تو یہ محفل یادگار بن سکتی ہے‘‘۔ مجتبیٰ حسین صاحب نے کچھ نام دیئے، نواب صاحب نے کچھ نام تجویز کئے ۔ اس طرح کم و بیش پندرہ بیس ناموں کی ایک فہرست تیار ہوگئی۔ 22 جولائی 2016 ء شام کے ساڑھے سات بجے محفل کے آغاز کا وقت طئے پایا ۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں اس محفل کی نظامت کروں۔ خیر صاحب وقت مقررہ سے کچھ پہلے مجتبیٰ حسین صاحب اُن کے فرزندہادی حسین اور یہ خاکسار نواب صاحب کے دولت خانے پہنچے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ نواب صاحب نے اپنے مکان کے ایک حصے میں مہمانوں کی نشست کا نہایت عمدہ انتظام کیا تھا ۔ ویڈیو ریکارڈنگ اور تقاریر کیلئے حسب ضرورت پبلک ایڈریس سسٹم موجود تھا۔ ایک طرف بہت بڑا ڈائننگ ٹیبل سجا ہوا تھا ۔ نواب صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ سارا دلکش انتظام ان کے منجھلے فرزند قادر عالم خاں صاحب کے فرزند انور عالم خاں صاحب کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں پروفیسر بیگ احساس ، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال ، ڈاکٹر اکبر علی خاں ، محترمہ لکشمی دیوی راج ، تراب الحسن صاحب ، نسیمہ تراب ا لحسن ، آنند راج ورما ، ظہیرالدین علی خاں صاحب مینجنگ ایڈیٹر سیاست، افتخار حسین فدا علی ، مظہرالدین صاحب پرنسپل انوارالعلوم کالج ، پروفیسر ستیہ نارائنا انوارالعلوم گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے پروفیسرس ، ٹائر ڈیلر محمد میاں صاحب ان کے فرزند حبیب میاں سارو ربرورکس کے پروپرائٹر حسن میاں اور کئی اہم مہمان شخصیتیں جن میں نواب صاحب کے فرزند قادر عالم خاں صاحب ، احمد عالم خاں صاحب، مجاہد عالم صاحب محفل میں موجود تھے ۔ مجھے نام اور چہرے یاد نہیں رہتے۔ اگر کچھ نام چھوٹ گئے ہوں تو معذرت خواہ ہوں۔

مہمان خصوصی احمد رشید شروانی صاحب اور اُن کی اہلیہ نصرت شروانی صاحبہ بھی ٹھیک وقت پر تشریف لائے اور تھوڑی بہت آپسی گفتگو کے بعد محفل کا آغاز ہوا ۔ ابتداء میں نواب شاہ عالم خاں صاحب نے مہمان خصوصی اور دیگر مہمانان کا استقبال کیا ۔انہوں نے خیر مقدمی کلمات میں فرمایا کہ سن وسال کے اعتبار سے  میں آپ سب سے عمر میں بزرگ ہوں لیکن علم و ادب کی فضیلت کے اعتبار سے میں آپ سب کو اپنے سے بلند تر سمجھتا ہوں ۔ احمد رشید شروانی کی حیدرآباد میں آمد کی اطلاع سے میں بہت خوش ہوا اور میں نے چاہا کہ موصوف اہلِ حیدرآباد سے ملیں اور حیدرآباد کی چند علمی اور ادبی ہستیاں اُن کی صحبت سے فیضیاب ہوں۔ یہی اس محفل کی غرض و غایت ہے۔
ممتاز مزاج نگار مجتبیٰ حسین نے احمد رشید شروانی کا تعارف کراتے ہوئے اُن سے اپنے دیرینہ روابط کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ احمد رشید شروانی اردو کے کاز کیلئے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ ایک اہم سرکاری میٹنگ میں انہوں نے اردو کی درسی کتب کی عدم دستیابی پر اس وقت کی متعلقہ وزیر کے سامنے ایسا احتجاجی لہجہ اختیار کیا تھا کہ تین مہینے کی قلیل مدت میں اردو کی تیس کتابیں چھپ کر تیار ہوگئیں۔

مجتبیٰ صاحب نے مزید کہا کہ اگرچہ احمد رشید شروانی صاحب کا تعلق یو پی سے ہے لیکن ان کے نامی گرامی خاندان سے تعلق رکھنے والے اصحاب مثلاً پروفیسر ہارون خاں شروانی اور حبیب الرحمن خاں شروانی نے قدیم ریاست حیدرآباد کیلئے بے لوث خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر نواب شاہ عالم خاں صاحب کی علم دوستی اور اہل علم کی پذیرائی کے لئے خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر بحیثیت ناظم جلسہ ہمیں یہ بات یاد آگئی کہ حبیب الرحمن شروانی جو حیدرآباد میں ناظم امورِ مذہبی تھے، ان سے مولانا ابوالکلام آزاد کے اتنے قریبی مراسم تھے کہ مولانا آزاد کی معرکہ آراء کتاب غبار خاطر کے تمام خطوط حبیب الرحمن شروانی سے موسوم ہیں۔
مدیر شگوفہ ڈاکٹر مصطفی کمال نے اپنی مختصر تقریر میں حیدرآباد کی تہذیب اور شائستگی کا ذ کر کیا اور نواب شاہ عالم خاں کو اس تہذ یب کا جیتا جاگتا نمونہ قرار دیا ۔ انہوں نے ا حمد رشید شروانی کی خاندانی روایات اور خود ان کی اردو کیلئے خدمات کا تحسین آمیز تذکرہ کیا ۔انہوں نے جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور میں ہارون خاں شروانی کی گراں بہا خدمات کو یاد کیا۔
پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ نواب شاہ عالم خاں اور احمد رشید شروانی میں ایک طرح کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ دونوں ادب دوست اور ادب نواز ہونے کے ساتھ ساتھ معروف صنعتکار بھی ہیں ۔ شاہ عالم صاحب کی سگریٹ فیکٹری عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ احمد رشید صاحب کا خاندان ٹارچ انڈسٹری اور شوگر فیکٹری کیلئے مشہور ہے ۔ شاہ عالم صاحب حیدرآباد کی قدیم تہذیب اور مہمان نوازی کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔

مہمان خصوصی احمد رشید شروانی صاحب  نے اردو کے لئے اپنی کاوشوں کا مختصر مگر جامع خاکہ پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ جب اُن کا آفس دہلی میں کناٹ پیالس کے قریب تھا تو ان سے ایک مدرسہ کے انتظام اور مینجمنٹ کی نگرانی سنبھالنے کی درخواست کی گئی ۔ مدرسہ کا نام تھا اینگلو عربک اسکول۔ انہیں بتایا گیا کہ سر سید احمد خاں اس اسکول کے طالب علم تھے ۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب کو اس اسکول میں پروفیسری کی دعوت دی گئی تھی ۔ غالب پالکی میں سوار ہوکر گئے لیکن چونکہ وہاں کا انگریز پرنسپل ان کی پیشوائی کے لئے حاضر نہیں ہوا ، اس لئے غالب ناراض ہوکر اُلٹے پاؤں لوٹ آئے۔ (اُلٹے لوٹ آئے درکعبہ اگر وانہ ہوا)  ڈاکٹر ذاکر حسین اُس مدرسہ کی سوسائٹی کے فاؤنڈر ، ممبر تھے ۔ جب احمد رشید شروانی کو ایسے تاریخی حقائق کا علم ہوا تو انہوں نے مدرسہ کے مینجر کا عہدہ قبول کرلیا ۔ یہ جون 1975 ء کی بات ہے ۔ احمد رشید شروانی سے اسکول کے پرنسپل نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے دن گیارہ بجے کچھ فائیلیں لے کر حاضر ہوں گے ۔ دوسرے دن ساڑھے گیارہ بج گئے لیکن پرنسپل کا کوئی پتہ نہیں تھا ۔ شروانی صاحب نے فون کیا تو پتہ چلا کہ پرنسپل صاحب اسکول ہی نہیں آئے۔ پرنسپل کے گھر کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ رات پولیس پرنسپل صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی کیونکہ راتوں رات ایمرجنسی لگ گئی تھی اور پرنسپل کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور جماعتِ اسلامی ممنوعہ تنظیم قرار دی گئی تھی ۔ احمد رشید شروانی کی کوششوں کے باوجود پرنسپل صاحب رہا نہیں ہوسکے۔
احمد رشید شروانی نے کہا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن خود مسلمان ہیں۔ اگر ہم میں شعور بیدار ہو اور ہم اپنے آپ کو علم و ہنر سے آراستہ کریں تو کوئی طاقت ہمیں دبا نہیں سکتی اور اگر ہم پسماندگی اور مایوسی کا شکار رہیں تو کوئی ہمیں پستی سے بلندی کی طرف نہیں لے جاسکتا۔ یہی حال اردو کا ہے ۔ اردو کے اصلی قاتل ہم خود ہیں ۔ اردو والے خود اپنے بچوں کو اردو پڑھانا نہیں چاہتے ورنہ تعلیمی وظائف کی سہولتیں موجود ہیں جیسے مولانا آزاد فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کی تعلیمی اسکیمات جو اقلیتی طلباء کے لئے بھی موجود ہیں لیکن کوئی اُن سے فائدہ اٹھانے والا نہیں۔ شروانی صاحب نے اپنی طالب علمی کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ الہ آباد میں اسکول کے طالب علم تھے تو اردو میڈیم کے طلباء کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی ۔ ایک مرتبہ ہندی میڈیم کھولنے کی تجویز ہوئی تو طالب علموں کی مقررہ تعداد بتلانے کیلئے بعض اردو میڈیم کے بچوں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی مادری زبان ہندی لکھوادیں۔ جب ہندی کے طلبہ کی ضروری تعداد مل جائے گی انہیں واپس اردو میڈیم بھیج دیا جائے گا ۔ آج معاملہ اُس کے برعکس ہے، حالانکہ اردو بولنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی ۔ شروانی نے کہا کہ ماننا پڑے گا کہ اردو بڑی سخت جان زبان ہے کہ بے مہری ، احباب کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔

آخری میں احمد رشید شروانی نے کہاکہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے انہیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا۔ اس کے ساتھ وہ اس بات کیلئے بھی شکر گزار ہیں کہ اللہ نے انہیں ہندو اکثریتی ملک بھارت ورش میں پیدا کیا جہاں آج بھی رواداری باقی ہے ۔ انصاف کی بالادستی ہے ۔ ازادیٔ تحریر و تقریر ہے۔
احمد رشید شروانی نے کہا کہ جب وہ سات برس کے تھے ، اس وقت ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا ۔ اُن کے بڑے بھائی نے اُن کی پرورش کی ۔ زندگی کے ہر موڑ پر اُن کے بڑے بھائی نے اُن کی پشت پناہی کی۔ عرصہ ہوا اُن کے بڑے بھائی بھی گزر گئے اور اب وہ خود بزرگ خاندان سمجھے جاتے ہیں لیکن آج بھی اُن کو اپنے بڑے بھائی کی کمی محسوس ہوتی ہے جو ان کی رہ نمائی کرے ۔ احمد رشید شروانی نے کہا کہ جب میں نواب شاہ عالم خان صاحب سے ملا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے میرا بڑا بھائی مل گیا ۔ اس پر حاضرین نے تالیاں بجاکر اُن کی اس بات کا خیرمقدم کیا ۔ جلسے کے اختتام پر آنند راج ورما نے حاضرین جلسہ ، مہمان خصوصی اور نواب صاحب کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے بعد نہایت پرتکلف عشائیہ ترتیب دیا گیا جس نے اس خوشگوار شام کو اور بھی یادگار بنادیا۔

TOPPOPULARRECENT