Tuesday , October 17 2017
Home / Mera Column / یاد رفتگان محمد علی

یاد رفتگان محمد علی

میرا کالم            مجتبیٰ حسین
23 فروری 1983 ء کو انڈین ایکسپریس کے صفحہ اول پر آسام میں کئی افراد کے ہلاک ہونے کی خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔ کچھ دنوں سے آسام کے پس منظر میں ایسی خبروں کو پڑھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ روز روز ایسی خبریں پڑھ کر آدمی کی زندگی کے عملی و جذباتی معمولات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس خبر کو معمول کے طور پر پڑھنے کے بعد میری نظر جب اس اخبار میں چھپی ایک مختصر سی خبر کی سرخی پر پڑی ’’کرناٹک کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ محمد علی کا انتقال‘‘ تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ خبر اخبار کے سارے صفحے پر پھیل گئی ہو اور اچانک یوں لگا جیسے اس خبر کے پڑ ھنے سے پہلے دنیا جیسی تھی ویسی اب باقی نہیں رہی ہے ۔ موت کا ا حساس کتنا داخلی اور شخصی ہوتا ہے اس کا اندا زہ اسی روز ہوا۔
اموات آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ صدیوں سے یہی ہورہا ہے مگر بعض اموات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صدیوں کے اس سلسلے سے الگ رکھنے کو جی چاہتا ہے ۔

محمد علی صاحب جیسی شخصیتیں بار بار پیدا نہیں ہوتیں۔ انہیں میں نے اپنے بچپن میں گلبرگہ میں دیکھا تھا ۔ وہ میرے بڑے بھائیوں محبوب حسین جگر، عابد حسین اور براہیم جلیسؔ کے ملنے والوں میں سے تھے ۔ ان کی بزرگی کے پیش نظر میں صرف سلام کر کے خاموش ہوجایا کرتا تھا ۔ برسوں یہی سلسلہ جاری رہا ۔ ان سے بات چیت کرنے یا تبادلہ خیال کرنے کا مرحلہ اسی وقت آیا جب میں نے مزاح نگاری شروع کی ۔ میری مزاح نگاری کے ابتدائی دور میں جن شخصیتوں نے میری سب سے ز یادہ حوصلہ افزائی کی ان میں محمد علی صاحب بھی شامل ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 1972 ء میں جب میں دہلی منتقل ہوا تو محمد علی صاحب کے پاس دہلی کا میرا پتہ نہیں تھا ۔ ایک بار دہلی آئے تو میرے پتے کی تلاش میں آل انڈیا ریڈیو میں سلام مچھلی شہری کو فون کیا اور کہا ’’ہمارے گلبرگہ کا ایک ادیب مجتبیٰ حسین ہے ، مجھے اس کا پتہ چاہئے ‘‘۔
سلام مچھلی شہری نے کہا ’’مجتبیٰ مجھ سے روز ہی کافی ہاؤس میں ملتے ہیں۔ میں انہیں آپ کی آمد کی اطلاع دے دوں گا‘‘۔ محمد علی صاحب بولے ’’صرف اطلاع دینے سے کام نہیں بنے گا ، آپ اسے لے کر کل شام کرناٹک بھون آجائیے اور میرے ساتھ ہی رات کا کھانا کھائیے‘‘۔
دوسرے دن میں اور سلام مچھلی شہری اُن کے ہاں پہنچے تو بہت خوش ہوئے ۔ اُن دنوں وہ کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ تھے۔ وہ اپنی سیاسی اور سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں اکثر دہلی آتے رہتے تھے اور آتے ہی مجھے فون کرتے تھے اور حکم ہوتا تھا کہ بس اسی وقت چلے آؤ۔ ان سے ملنے کے لئے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ ایسے مسائل زیر بحث آتے تھے جن میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی ۔ میں جانے کی اجازت مانگتا تو کہتے ’’دوپہر کا کھانا کھاکر جا ؤ‘‘۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں پھر جانے کی اجازت چاہتا تو کہتے ’’رات کا کھانا کھا کر جاؤ‘‘۔ غرض وہ مجھے زیادہ سے زیادہ وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ جب بھی کوئی ان سے ملنے کے لئے آتا تو میرا تعارف فخریہ انداز میں کراتے تھے ’’یہ اردو کا بڑا مزاح نگار ہے، ہمارے گلبرگہ کا ہے‘‘۔ میرے تعارف کے سلسلہ میں وہ ’گلبرگہ‘ کو ضرور شامل رکھتے تھے ۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ میرا نہیں گلبرگہ کا تعارف کرانا چاہتے ہوں۔ مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے میں انہیں نہ جانے کونسی خوشی محسوس ہوتی تھی ۔ مرکزی حکومت کے وزراء اور عہدیدار جب انہیں کھانے پر بلاتے تو کہہ دیتے تھے ’’میرے ساتھ گلبرگہ کا ادیب مجتبیٰ حسین بھی رہے گا‘‘۔
محمد علی صاحب جامعہ عثمانیہ کی پیداوار تھے ۔ اردو تہذیب کے دلدادہ اور پرستار تھے۔ ادیبوں اور فنکاروںکی جتنی قدردانی انہوں نے کی اتنی کسی سیاسی لیڈر نے نہیں کی ۔ ہندوستان کے کئی سربرآوردہ ادیبوں کو وہ دعوت دے کر بنگلور بلاتے تھے اور اپنے ہاں مہمان رکھتے تھے۔ ادیبوںکو وہ اپنے فارم ہاؤس پر ضرور بھیجتے تھے  جو بڑی خوبصورت جگہ واقع ہے ۔ کرشن چندر اُن کی مہمان نوازی کا اکثر مجھ سے ذکر کرتے تھے۔ کرشن چندر کی بہن سرلا دیوی کا انتقال دہلی میں ہوا تو اتفاق سے محمد علی صاحب اس کے دوسرے دن دہلی آئے۔ میں نے جب اس سانحہ کا ذکر ان سے کیا اور دہلی میں کرشن چندر کے موجود ہونے کی اطلاع دی تو اپنی دیگر مصر وفیات کو منسوخ کر کے کرشن چندر کو پرسہ دینے کے لئے نکل پڑے ۔ کرشن چندر جب بھی بیمار ہوتے تو یہ ان کی مزاج پرسی کیلئے بمبئی ضرور جاتے تھے ۔

کچھ برس پہلے بنگلور میں اردو اساتذہ کی کانفرنس ہونے والی تھی ۔ کانفرنس کے منتظمین نے مجھ سے خواہش کی کہ میں محمد علی صاحب کو لکھوں کہ وہ کانفرنس کے مندوبین کی سرپرستی فرمائیں۔ اردو اساتذہ بنگلور پہنچے تو محمد علی صاحب نے اردو اساتذہ کیلئے اپنی طرف سے بسوں کا انتظام کروادیا۔ انہیں میسور کی سیر بھی کرائی اور کئی ضیافتیں کیں۔
محمد علی صاحب اگرچہ کرناٹک کے لیڈر تھے لیکن ان کا اثر و رسوخ سارے ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ ان کے چاہنے والے ہندوستان کے ہر شہر میں تھے ۔ فخرالدین علی احمد صاحب کے صدر جمہوریہ بن جانے کے بعد جب انہیں فخرالدین علی احمد کی جگہ کانگریس کی مجلس عاملہ کا رکن منتخب کیا گیا تو یہ بہت بڑے اعزاز کی بات تھی ۔ بالخصوص جنوبی ہند کے کسی مسلمان لیڈر کو یہ رتبہ شاید اب تک نہیں ملا تھا ۔ مجلس عاملہ کے رکن کی حیثیت سے ان کی مصروفیات اب ریاستی نہیں بلکہ قومی ہوگئی تھیں۔ مگر دہلی آتے ہی حسب معمول مجھے یاد کرتے تھے ۔ کئی ریاستوں کے لیڈر ان سے ملنے کے متمنی رہتے تھے ۔ بہار کے اُس وقت کے وزیر امداد باہمی محمد حسین آزاد میرے دوستوں میں سے تھے ۔ ایک دن مجھ سے کہا ’’میں بہار میں اردو کے طنز و مزاح نگاروں کی کانفرنس کرنا چاہتا ہوں بشرطیکہ آپ محمد علی صاحب کو اس کانفرنس کی صدارت کیلئے راضی کرائیں۔ میں نے محمد علی صاحب سے محمد حسین آزاد کی ملاقات کرائی ۔ محمد حسین آزاد نے ان سے کہا ’’ہم لوگ پٹنہ میں اردو مزاح نگاروں کی کانفرنس منعقدکرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ آپ اس کی صدارت کریں۔ بولے ’’میں اس کانفرنس کی صدارت کیلئے پٹنہ ضرور آؤں گا بشرطیکہ آپ ہمارے گلبرگہ کے دو مزاح نگاروں سلیمان خطیب اور مجتبیٰ کو بلائیں‘‘۔

چنانچہ پٹنہ میں اردو کے مزاح نگاروں کا عظیم ا لشان اجتماع عمل میں آیا جس کی صدارت محمد علی صاحب نے کی  اور چیف منسٹر بہار جگناتھ مشرا نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ سلیمان خطیب کو وہ بے حد عزیز رکھتے تھے۔ کبھی انہیں ان کے نام سے نہیں پکارتے تھے بلکہ صرف ’شاعر‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ جشن سلیمان خطیب کے پیچھے بھی ان کا ہاتھ تھا ۔ سلیمان خطیب کے انتقال کو کئی برس بیت گئے مگر وہ ہر موقع پر انہیں یاد کرتے تھے ۔
اگرچہ وہ کرناٹک کے وزیر تھے لیکن حیدرآباد کی اردو سرگرمیوں میں عملاً حصہ لیتے تھے ۔ ادبی ٹرسٹ کے مشاعروں کی انہوں نے ہمیشہ سرپرستی فرمائی۔ روزنامہ ’سیاست‘ سے انہیں خاص دلچسپی تھی ۔ ان کے کچھ بندھے ٹکے معمولات تھے ۔ بنگلور سے حیدرآباد آتے ہی پہلا کھانا عابد علی خاں صاحب ایڈیٹر ’سیاست‘ کے گھر کھاتے تھے ۔ اس کے بعد دوسرے پروگرام طئے کرتے تھے ۔ ان کے اس معمول میں کبھی فرق نہیں آیا۔
میں اس کا اہل نہیں ہوں کہ ان کی سیاسی زندگی پر کچھ روشنی ڈال سکوں، مگر ایک بات میں نے یہ محسوس کی کہ سیاست میں اتنے برس رہنے کے باوجود ان میں بے پناہ خلوص باقی تھا ۔ موجودہ سیاست ایسی ہے کہ آدمی ایک بار سیاستداں بن جائے تو خلوص سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ دوست تو دوست دشمن بھی ان کے کردار کی تعریف کرتے تھے ۔ محمد علی صاحب نے سیاست داں ہونے کے باوجود اپنی انا اور اپنی کج کلاہی کو باقی رکھا جو بڑے دل گردے کا کام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کئی برس تک اقتدار کی کرسی سے محروم رہے ۔ اقتدار کے حصول کیلئے انہوں نے کبھی بھی انا اور خودی کا سودا نہیں کیا ۔ اکثر لیڈر اقتدار سے ہٹ جانے کے بعد ا پنا اثر و رسوخ کھودیتے ہیں۔ محمد علی صاحب کے ساتھ یہ بات نہیں تھی ، اقتدار پر نہ رہ کر بھی وہ حکمرانی کرتے تھے ۔ یہ بہت بڑی بات ہے ۔ ہر حلقہ میں وہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔ یہ بات میں نے بہت کم لیڈروں میں دیکھی ۔ سیکولرازم کی بات ہر کوئی کرتا ہے لیکن محمد علی صاحب سیکولرازم کا جیتا جاگتا پیکر تھے ۔ ان کے عمل کو دیکھ کر سیکولرازم کے معنی سمجھ میں آتے تھے ۔
پچھلے چار برسوں سے وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے تھے مگر ملکی سیاست پر ان کی نظر بہت گہری تھی ۔ کبھی ہم لوگ ان سے دوبارہ عملی سیاست میں سرگرم ہونے کی خواہش کرتے تو کہتے ’’عملی سیاست میں ہوشیاری سے حصہ لینا اتنا اہم نہیں ہونا جتنا کہ ہوشیاری سے عملی سیاست سے کنارہ کش ہوجانا اہم ہوتا ہے‘‘۔ وہ موجودہ سیاست کی روش سے بد دل ہوگئے تھے ۔ انہوں نے دو تین سال پہلے جو سیاسی پیشن گوئیاں کی تھیں وہ اب سچ ثابت ہونے لگی ہیں۔

ان کی حس مزاح بہت تیز تھی۔ کوئی لطیفہ پسند آجاتا تو اپنے ملنے والوں کو کئی کئی بار سناتے تھے ۔ لیڈروں کے بارے میں جب میں کوئی لطیفہ بناتا تو انہیں ضرور سنادیا کرتا تھا ۔ بہت محظوظ ہوتے تھے ۔ مگر بعد میں میں نے لیڈروں کے لطیفے انہیں سنانے ترک کردیئے تھے ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ اس لطیفہ کو نہ صرف اس لیڈر تک پہنچادیتے تھے بلکہ میرا حوالہ بھی دے دیتے تھے ۔ کئی بار تو ان لیڈروں کی موجودگی میں مجھ سے ان کے لطیفے سنانے کی فرمائش کر بیٹھتے تھے ۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ میری کیا حالت ہوتی ہوگی ۔ لطیفہ کے بعد متعلقہ لیڈر کو دلاسہ دینے کے انداز میں طنز و مزاح کی اہمیت سے آگاہ کرتے تھے اور یہ بھی کہتے تھے کہ اپنے آپ پر ہنسنا دنیا کا شریف ترین کام ہے ۔
کھیلوں سے انہیں خاص دلچسپی تھی ۔ کالج کے زمانے میں ہاکی کے بہترین کھلاڑی رہ چکے تھے اور اپنے کھیل کا ذکربڑے فخر سے کرتے تھے ۔ ریڈیو پر جب کرکٹ یا ہاکی کی کامنٹری آتی تھی تو اسے بہت غور سے سنتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ کانگریس کی مجلس عاملہ کیلئے جب انہوں نے انتخاب میں حصہ لیا اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو میں اس وقت ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کا کسی ملک کی کرکٹ ٹیم سے مقابلہ ہورہا تھا اور ریڈیو پر کامنٹری آرہی تھی ۔ میں اور نذیر احمد صدیقی (جو بعد میں کرناٹک کے وزیر بھی بنے) تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفہ سے ماؤلنکر ہال جاتے تھے تاکہ انہیں ملنے والے ووٹوں کی تعداد معلوم کرسکیں۔ ہم لوگ کرناٹک بھون واپس آکر انہیں ان کے ووٹوں کا اسکور بتاتے تھے اور وہ جواباً ہمیں کرکٹ کا اسکور بتاتے تھے ۔ انہیں اپنے ووٹوں کے اسکور سے کہیں زیادہ کرکٹ کا اسکور جاننے کی بے چینی تھی۔ رات میں جب ووٹوں کی گنتی ختم ہوئی اور یہ جیت گئے تو ہم لوگ خوشی خوشی انہیں خوش خبری سنانے کیلئے پہنچے ۔ بہت اداس بیٹھے تھے ۔ ہم نے انہیں انتخاب کی خوش خبری سنائی تو بولے ’’میں تو خیر جیت گیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم ہار گئی ‘‘۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان پر اعتراض کرتے رہے کہ اس نے آخری لمحے میں کچھ غلطیاں کیں ورنہ ہماری ٹیم جیت جاتی ۔ سیاسی ہار جیت کو انہوں نے کبھی بھی جذباتی انداز میں قبول نہیں کیا ۔
اردو کے مسائل سے انہیں گہری دلچسپی تھی۔ خود بھی بہت اچھی اردو لکھتے تھے ۔ دہلی میں ایک بار کسی مسئلہ پر اردو کے ایک صحافی کو اپنا ایک طویل بیان لکھوادیا۔ یہ بول رہے تھے اور صحافی لکھ رہا تھا ۔ بیان ختم ہوا تو مجھ سے بولے ’’تم بھی اسے پڑھ لو۔ شاید روانی کے ساتھ بولنے میں کوئی غلطی رہ گئی ہو‘‘۔ میں نے یہ بیان پڑھا تو حیرت میں پڑگیا کہ ایسی شستہ اور صاف ستھری اور پاکیزہ زبان لکھنے کیلئے ہمیں کئی بار سوچنا پڑتا ہے ۔ اردو کے مسائل کے بارے میں انہوں نے ہمیشہ بیباکی کا مظاہرہ کیا ۔ گوگاک کمیشن کی رپورٹ جب آئی اور اس میں انہیں اردو کے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آئی تو انہوں نے نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ حکومت کے ایوانوں میں بھر پور نمائندگی کی۔

اب محمد علی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کی سینکڑوں باتیں یاد آ رہی ہیں ۔ محمد علی صاحب نے ہزاروں لوگوں کے مسائل حل کئے ، ان کی مشکلوں کو دور کیا مگر کبھی اس بات کا ذکر زبان پر نہیں لاتے تھے ۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی ۔ ایسا دردمند دل رکھنے والا لیڈر اب کہاں دکھائی دے گا ۔
حیدرآباد آتے تو سب سے پہلے عابد علی خاں صاحب کو اطلاع دیتے تھے ۔ میں حیدرآباد میں ہوتا تو اپنے ساتھ گلبرگہ ضرور لے جاتے تھے ۔ میرے دوستوں محمد میاں(تہور علی عطا اللہ) اور بہاء الدین بابر کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ ان کا اصرار ہوتا تھا کہ ہم لوگ ان کے ساتھ گلبرگہ چلیں۔ پتہ نہیں کتنی بار ان کے ساتھ گلبرگہ جانے کا موقع ملا۔
ان کے انتقال سے صرف ایک دن پہلے ان کے دوست کے کے شریفؔ نے ٹرنک کال پر اطلاع دی کہ محمد علی صاحب اگلے ہفتہ دہلی آنے والے ہیں ۔ مجھے ان سے بہت سی باتیں کرنی تھیں۔ کئی مسئلے  ان کے سامنے پیش کرنے تھے ۔ مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ دہلی آنے کی بجائے ایک لمبے سفر پر روانہ ہوجائیں گے ۔
محمد علی صاحب کے انتقال کی خبر پڑھ کر جہاں مجھے اپنی بے سہارگی کا احساس ہوا وہیں یہ احساس بھی ہوا کہ اب شاید میں گلبرگہ کا ادیب باقی نہیں رہا ۔ اب کون فخر کے ساتھ کہہ سکے گا کہ میں گلبرگہ کا ادیب ہوں ۔ لوگ مجھے پھیلانا چاہتے تھے اور وہ مجھے سمیٹ کر گلبرگہ میں رکھنا چاہتے تھے ۔
مت سہل انہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
(مارچ 1983)

TOPPOPULARRECENT