Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / یاقوت پورہ کے روزہ دار آلودہ پانی سے پریشان

یاقوت پورہ کے روزہ دار آلودہ پانی سے پریشان

پانی خرید کر پینے کی تلقین ، بے حس عوامی نمائندے
حیدرآباد۔13جون (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے کئی علاقوں میں آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایات کے باوجود محکمہ آبرسانی کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی والے رویہ سے عوام کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یاقوت پورہ ‘ بڑا بازار‘ املی بن کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں آلودہ پینے کے پانی کی سربراہی ابتداء رمضان سے کی جا رہی ہے لیکن محکمہ آبرسانی کے عہدیداران اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی عدم توجہی کے سبب مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے لیکن اب جبکہ مانسون کی آمد ہوچکی ہے تو نلوں کے ذریعہ اس علاقہ میں سربراہ کئے جانے والے پینے کے پانی میں آلودگی میں مزید اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔پرانے شہر کے متعدد علاقوں کی موصول ہونے والی ان شکایات کے متعلق منتخبہ نمائندوں کو بھی اندازہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس سلسلہ میں اقدامات کے بجائے مسئلہ کو ٹالنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں جس کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور جب کارپوریٹر وغیرہ کو اس جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹھنڈا ‘ صاف پینے کا پانی باضابطہ ایک روپیہ لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے وہ خریدکر استعمال کریں اور پانی کی فروخت کے یہ مراکز شہر کے بیشتر علاقوں میں لگائے گئے ہیں اور ان پانی کی فروخت کے مراکز سے حالیہ دنوں میں پانی کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں صاف پینے کا پانی سربراہ کرنے کے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن بعض علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کو دور کرنے کے لئے طویل مدتی پراجکٹ شروع کرنا پڑ سکتا ہے اسی لئے یاقوت پورہ سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آلودہ پانی کی وجوہات دریافت کئے جانے کے بعد ہی مسئلہ کا حل کیا جاسکے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ یاقوت پورہ کے جن علاقوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں ان علاقوں میں آبی سربراہی کی پائپ لائن کا جائزہ لینے کی ہدایت دی جا چکی ہے ۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ نلوں سے جو پانی آرہا ہے اس پانی میں ڈرینیج کا پانی ملا ہوا ہے جو کہ ناقابل استعمال ہے اسی لئے محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کو متعدد مرتبہ توجہ دلوائی گئی لیکن شکایات و توجہ دہانی کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس کے سبب عوام نہ صرف پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں بلکہ بعض علاقوں میں تو آلودہ پانی ہی گرم کرتے ہوئے استعمال کیا جا رہاہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونے کے خدشات ہیں کیونکہ آلودہ پانی کا استعمال مختلف عوارض کا سبب بن سکتا ہے۔ یاقوت پورہ ‘ املی بن‘ ناگا باؤلی اور اطراف کے علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے وہ اس پانی کا استعمال ترک کرچکے تھے لیکن حالیہ دنو ںمیں شفاف پانی کی سربراہی کا آغاز ہوا تھا لیکن اب دوبارہ آلودہ پانی کی سربراہی عوام کو تشویش میں مبتلاء کئے ہوئے ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT