Wednesday , September 27 2017
Home / فیچر نیوز / یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

طلاق ثلاثہ محض بہانہ … شریعت اصل نشانہ
مذہبی قیادت بے اثر… یکساں سیول کوڈ پھر موضوع بحث

رشیدالدین
’’لا تبدیل لکلمٰت اللہ‘‘ قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان صبح قیامت تک کیلئے ہے اور دنیا کی کسی بھی طاقت کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں ترمیم یا تبدیلی کرے۔ یہ کوئی انسان کا بنایا ہوا دستور نہیں کہ 100 سے زائد مرتبہ جس میں ترمیم کی جائے ۔ شرعی احکام قرآن و حدیث کے ماخذ ہوتے ہیں، جن پر عمل پیرا ہونا ہر مسلمان پر لازمی ہے ۔ ایسے افراد ہر دور میں رہے جنہوں نے رب چاہی زندگی پر من چاہی زندگی کو ترجیح دی۔ ایسے افراد کیلئے شریعت کو چیلنج کرنے عدالتوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے۔ سلمان رشدی ، تسلیمہ نسرین ، طارق فتح اور بعض دوسرے آزاد خیال اور بے دین شریعت کی مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں ۔ عدلیہ نے بھی وقفہ وقفہ سے شرعی قوانین کے خلاف فیصلے صادر کئے لیکن سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے نے ہندوتوا طاقتوں اور دین بیزار افراد کیلئے موقع فراہم کردیا ہے ۔ انہیں شریعت کے خلاف گستاخی اور مخالفت کا ہتھیار مل چکا ہے ۔ طلاق ثلاثہ ملک میں کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے لیکن بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس مسئلہ کو ہوا دی گئی ، آخرکار عدالت کے فیصلہ کے بعد ملک میں یکساں سیول کوڈ کے حق میں بحث چھڑ چکی ہے اور یہی سنگھ پریوار کا ایجنڈہ بھی ہے۔ سپریم کورٹ کے جس فیصلہ کی آڑ میں سنگھ پر یوار اور ان کے ہمنوا بغلیں بجا رہے ہیں، دراصل یہ فیصلہ خود متفقہ نہیں ہے ۔ 5 کے منجملہ 3 اور 2 ججس کی رائے مختلف رہی ۔ عدالت نے ایک طرف اعتراف کیا کہ انہیں شریعت میں مداخلت کا اختیار نہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ تین طلاق کو غیر شرعی ، غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دے دیا اور مرکز کو اندرون 6 ماہ قانون سازی کا مشورہ دے دیا ہے ۔ فیصلہ میں یہ تضاد ججس میں اتفاق رائے کی کمی کا ثبوت ہے۔ دستور ہند نے ہر شہری کو مذہبی آزادی کا اختیار دیا ہے ۔ اس طرح مختلف مذاہب کے قوانین کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ طلاق ثلاثہ تو محض بہانہ ہے اور شریعت اصل نشانہ ہے۔ کیا مسلمانوں کو شریعت کا درس اب عدالتوں اور نام نہاد دانشوروں سے لینا ہوگا؟ کیا ہمارے علماء اور دینی ادارے غیر کارکرد ہوچکے ہیں اور مسلمانوں کی رہنمائی کے موقف میں نہیں ہے ؟ وہ دین بھی ہم نے دیکھا جب شرعی مسائل سے متعلق مقدمات کا فیصلہ صادر کرنے سے قبل ججس نے علماء اور مفتیان کرام کی رائے حاصل کی تھی لیکن افسوس کہ آج ہماری مذہبی شخصیتیں اور ادارے عدلیہ سے شریعت سیکھنا چاہتے ہیں۔ مخالف شریعت فیصلہ کے باوجود مصلحت پسندی کا شکار ہوکر فیصلہ کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ اسے مسلمانوں کی بے حسی کہئے یا پھر خدا کا امتحان کہ وہ قیادت آج نہیں رہی جس نے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس وقت کی مرکزی حکومت کو دستوری ترمیم کیلئے مجبور کردیا تھا ۔ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے پانچ ججس کی رائے ایک نہ ہوسکی تو پھر ملک کے 125 کروڑ عوام کو کس طرح ایک رائے کیا جاسکتا ہے ۔ مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں میں بیشتر گروپ ایسے ہیں جن کے عقائد مختلف ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں میں قبائلیوں کے رسوم و رواج کو کسی بھی قانون سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق ثلاثہ پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی رائے یکساں ہیں اور اس کے نفاذ کے سلسلہ میں بعض گروپس کی اجتہادی رائے ہے

لیکن یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ عدالت کو مداخلت کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اسلام میں طلاق انتہائی ناپسندیدہ عمل اور بیک وقت طلاق ثلاثہ گناہ ہے ۔ اس کے باوجود خواتین کو مساویانہ حقوق اور انصاف کے نام پر شریعت میں مداخلت کی کوشش کی گئی ۔ جس طرح مرکزی حکومت نے اس مقدمہ کے سلسلہ میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا ، وہ سب پر عیاں ہے لیکن کیا شمال مشرقی ریاستوں کے قبائل کے خلاف بھی اس طرح کا کوئی فیصلہ حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ مذہبی امور میں مداخلت تو دور کی بات ہے ، حالیہ عرصہ میں ٹاملناڈو کے جل کٹو تہوار کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سپریم کورٹ نے جل کٹو پر پابندی عائد کی تھی جس پر ٹاملناڈو میں کچھ ایسا احتجاج ہوا کہ مرکزی حکومت کو گھٹنے ٹیکنا پڑا اور سپریم کورٹ بھی خاموش ہوگیا ۔ ایک سماجی رسم کو عدالت اور حکومت روک نہیں سکے لیکن شریعت میں تبدیلی کے عزائم ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اطلاق صرف ایسے خاندانوں پر ہوگا جو عدالت کے ذریعہ انصاف حاصل کرنا چاہیں۔ شریعت سے ذرا بھی واقف افراد ہرگز نہیں چاہیں گے کہ غیر شرعی انداز میں فیصلوں کے ذریعہ اپنی آخرت تباہ کرلیں۔ مسلمانوں کی اکثریت عائلی مسائل کو شریعت کی رو سے یکسوئی کے حق میں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکام پر کون اور کس طرح عمل کرے گا ۔ وہ کیا میکانزم ہوگا کہ تین طلاق کو روکا جائے ۔ سزا کے ذریعہ بھی یہ ممکن نہیں ہے ، آپ تین طلاق دینے والے کو سزا تو دے سکتے ہیں لیکن شریعت کی رو سے طلاق تو بہرحال واقع ہوجائے گی۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کیلئے مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے موثر انداز میں پیروی کی کمی کی شکایت کی جارہی ہے ۔ بورڈ کی جانب سے پیش کردہ دلائل میں طلاق ثلاثہ کو ایک طرف گناہ قرار دیا گیا تو دوسری طرف اسے برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ جب کوئی چیز گناہ ہے تو پھر اس کی برقراری کا کیا جواز ہے ؟ بورڈ میں وہ مکاتب فکر بھی موجود ہیں جو طلاق ثلاثہ کو صرف ایک طلاق مانتے ہیں۔ بورڈ ان علماء کی رائے حاصل کرتے ہوئے عدالت میں متفقہ موقف پیش کرسکتا تھا۔ شریعت کے حق میں دائر کی گئی درخواستوں کے بیشتر وکلاء کی بحث میں تضاد کی اطلاعات ملی ہیں، جس کا فائدہ حکومت نے اٹھایا اور عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل ہوئی کہ جب اسلام میں طلاق گناہ ہے تو پھر اسے کالعدم کیوں نہ قرار دیا جائے ۔ بورڈ کے وکیل نے طلاق ثلاثہ کو آستھا یعنی عقیدہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ جس طرح رام جنم بھومی ہندوؤں کی آستھا کا مسئلہ ہے ، اسی طرح طلاق ثلاثہ مسلمانوں کی آستھا سے جڑا مسئلہ ہے ۔ رام جنم بھومی اور طلاق ثلاثہ کو یکجا کرتے ہوئے کیا بورڈ کے وکیل نے رام مندر کے مسئلہ پر سنگھ پریوار کے مسئلہ کو مستحکم نہیں کیا ہے ؟ وکیل کو چاہئے تھا کہ وہ عقیدہ کے بجائے لفظ شریعت کا استعمال کرتے کیونکہ دستور ہند نے ہر شخص کو مذہبی آزادی کا اختیار دیا ہے ۔ ایودھیا تنازعہ سے متعلق مقدمہ میں فریق ثانی اس دلیل کو یہ کہتے ہوئے پیش کرسکتا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے خود تسلیم کرلیا کہ رام جنم بھومی ہندوؤں کی آستھا کا مسئلہ ہے ۔ ویسے بھی الہ آباد ہائیکورٹ آستھا کی بنیاد پر اس تنازعہ کے سلسلہ میں اپنا فیصلہ صادر کرچکا ہے ۔

شرعی معاملات میں مذہبی شخصیتوں کی مصلحت اور کمزوری کا آغاز نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوا ہے ۔ صوفی کانفرنس کے ذریعہ ملک بھر کے نام نہاد مذہبی رہنماؤں کو مودی کا ہمنوا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ بعد میں مسلم راشٹریہ منچ کے نام سے آر ایس ایس نے تنظیم قائم کی ، جس میں اسی طرح کے افراد کو شامل کرلیا گیا جو ہمیشہ اقتدار وقت کی جئے جئے کار کیلئے مشہور ہیں۔ اقتدار کی پھینکی ہوئی ہڈیوں کے لالچ میں ملک بھر میں اس طرح کے مصلحت پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جو صرف لباس سے مذہبی دکھائی دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد قائدین ، علماء اور عام مسلمان تشویش کا اظہار کررہے ہیں لیکن انہیں چاہئے کہ صرف واویلا کرنے کے بجائے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کو 7 رکنی دستوری بنچ پر کس طرح چیلنج کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں صدر جمہوریہ سے نمائندگی کی جاسکتی ہے جو عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد دستور اور قانون کی بالادستی کا عہد کرچکے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے شریعت اسلامی پر جو سوال کھڑے ہوئے ہیں، ایسے وقت مسلم پرسنل لا بورڈ کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بورڈ فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرتا لیکن بورڈ میں موجود افراد کو شائد عیدالاضحیٰ سکون سے منانے کی فکر ہے اور یہی وجہ ہے کہ عام اجلاس کی طرح 10 ستمبر کو اجلاس طلب کیا گیا ۔ مسئلہ کی سنگینی کا بورڈ میں کوئی احساس دکھائی نہیں دیتا۔ بورڈ کے صدر کہاں ہیں، ان کی خیریت بھی بتانے کوئی تیار نہیں ۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ جن افراد کے دامن بابری مسجد کے مسئلہ پر داغدار ہیں، انہیں بورڈ نے اپنا ترجمان مقرر کیا ہے ، ایسے پیشہ ور وکلاء پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ بھی شریعت کے معاملہ میں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی بی جے پی اور سنگھ کے ترجمان ٹی وی چیانلس پر بے دین اور آزاد خیال عورتیں کو لا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلم خواتین جشن منارہی ہیں۔ عورتوں کے جشن کے یہ مناظر فرضی دکھائی دے رہے تھے۔ پتہ نہیں برقعہ کا استعمال کرتے ہوئے یہ سارا ڈرامہ رچا گیا اور کرائے کی عورتوں کے ذریعہ شریعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے اپنے خطاب میں طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اٹھایا ، اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ۔ کیا مودی کو مسلمانوں کا کوئی اور مسئلہ نہیں ملا کہ جس کا ذکر کرتے ۔ یوں بھی مودی اکثر مسلم خواتین کی ہمدردی میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ مسلم ماتاؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو حق دلانے کی جدوجہد کرنے والے مودی سے کوئی چیانل یہ سوال کرنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے کہ ان کی شریک حیات کو انصاف کب ملے گا؟ مخالف شریعت چیانلس کے اینکرس روزانہ گلا پھاڑ کر اسلامی قوانین اور شریعت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں 20 لاکھ 30 ہزار خواتین ایسی ہیں جنہیں طلاق کے بغیر ہی شوہروں نے چھوڑ دیا ہے ، ان میں ہندو خواتین کی تعداد 20 لاکھ ہے جبکہ مسلم خواتین محض دو لاکھ 80 ہزار ہیں۔ اسی طرح کے ایک اور سروے میں انکشاف ہوا کہ 4 بڑی ریاستوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلم خواتین میں طلاق کے واقعات 1307 رہے جبکہ ہندوؤں میں یہ تعداد 16505 ہے۔ علامہ اقبال کی یہ دعاء شائد قبول ہوجائے۔
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپادے

TOPPOPULARRECENT