Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / یا رب دل مسلم کو …

یا رب دل مسلم کو …

محمد مصطفیٰ علی سروری
مئی کی تین تاریخ تھی ، نئی دہلی کے ڈومیسٹک ایرپورٹ کے پولیس اسٹیشن میں ایک 22 سالہ نوجوان داخل ہوتا ہے اور پولیس کے اہلکاروں کو بتلاتا ہے کہ وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے اور ایک پاسنجر نے سفر کے دوران اپنا ہینڈ بیاگ اس کی ٹیکسی میں بھول گیا ۔ وہ اسی بیگ کو پولیس کے حوالے کرنا چاہتا ہے ۔ ڈومیسٹک ایرپورٹ نئی دہلی کے پولیس اسٹیشن کے اہلکار فوری اس نوجوان کو گھیر لیتے ہیں اور اس ہینڈ بیاگ کی تلاشی لیتے ہیں جو وہ حوالے کرنے آیا تھا ، تلاشی لینے پر پتہ چلتا ہے اس بیاگ  میں سونے کے زیورات ، لیاپ ٹاپ ، ایک آئی فون ، ایک کیمرہ کے علاوہ 70 امریکی ڈالر موجود تھے جن کی مجموعی مالیت 8 لاکھ روپئے بتلائی گئی ہے ۔ پولیس کے اہلکار ٹیکسی ڈرائیور سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ جانتا تھا کہ اس بیاگ میں کیا ہے تو اس نے کہا کہ ہاں وہ دیکھ چکا تھا کہ مسافر نے جو بیاگ اس کی گاڑی میں چھوڑا تھا اس میں کیا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کہتا ہے کہ اس کے دل نے گوارا نہیں کیا کہ وہ نامعلوم مسافر کا بیاگ خود رکھ لے۔
کیا ٹیکسی ڈرائیور کو پیسوں کی ضرورت نہیں تھی ؟ اس سوال کا جواب جان کر دہلی پولیس کے اہلکار اور بھی تعجب میں پڑ گئے۔ وہ ٹیکسی ڈرائیور خود قرضوں میں پھنسا ہوا ہے ۔ اس کے والد نے سال 2008-09 ء کے دوران اپنی لڑکیوں کی شادی کے لئے خانگی فینانسر سے ایک لاکھ روپئے قرضہ لیا تھا۔ پانچ فیصد ماہانہ کی شرح سود سے یہ قرضہ ابھی  واپس کرنا ہے ۔ اپنی  ذاتی زندگی میں رقم کی اتنی ساری ضرورت کو رکھتے ہوئے آخر کیسے ایک نوجوان ٹیکسی ڈرائیور نے ایک نامعلوم مسافر کی چھوڑی ہوئی امانت واپس کرنے کی سوچی۔ جب پولیس والوں نے پوچھا تو وہ نوجوان کہنے لگا کہ اس کے والد نے اس کو تعلیم دی ہے کہ ایمانداری پہلے آتی ہے اور ضرورت کا نمبر اس کے بعد آتاہے۔

غریبی میں بھی ایمانداری کا پرچم لہرانے والا نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ دیویندر کاپری ہے۔ اخبار ہندوستان ٹائمز نے بہار کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس غریب نوجوان کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا ۔ کاپری نے اخبار کو بتلایا کہ 17 برس کی عمر میں اپنی ماں کی خراب حالت اور گھر کی دیگر پریشانیوں کو دیکھ کر اس نے پڑھائی چھوڑ کر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اب ٹیکسی چلاکر وہ گھر والوں کی مدد کر رہا ہے ۔ دہلی میں اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ 10X10 سائز کے کمرے  میں رہنے والا کاپری مفت ہاتھ آنے والی دولت پر نہیں بلکہ اپنے دو بازوؤں اور اپنی محنت پر پورا بھروسہ کر کے زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے۔ 8 مئی 2017 ء کو ہندوستان ٹائمز نے “Honesty bigger than needs” کی سرخی کے تحت بہار کے اس نوجوان ٹیکسی ڈرائیور کی تفصیلی اسٹوری شائع کی ۔ دہلی سے ہٹ کر اب ذرا حیدرآباد کے اخبار کی یہ خبر بھی ملاحظہ کریں۔
5 مئی 2017 ء کو اخبارات نے حیدرآباد میں ایک 12 سالہ کم عمر لڑکے کے قتل کی خبر کو شائع کیا تھا ۔ اخبار دکن کرانیکل نے 12 سالہ لڑکے کے قتل کے متعلق لکھا کہ ایک ہفتے قبل چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک کم عمر لڑکے کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی جاتی ہے ۔ بعد ازاں پولیس نے گمشدہ لڑ کے کو قتل کرنے کے الزام میں ایک 25 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا ۔ کرانیکل کی خبر میں بتلایا گیا کہ اس 25 سالہ نوجوان نے اپنے پڑوس کے لڑکے کو اغواء کرنے کے بعد اس کے والدین سے تاوان کی رقم طلب کرنا چاہتا تھا لیکن بجائے رقم کے بدلے بچے کو رہا کرنے کے لڑ کے کو ہی مار کر اس کی نعش کو دفن کردیتا ہے ۔ ایک اخباری اطلاع میں اس 25 سالہ نوجوان قاتل کو بی کام کا طالب علم بتلایا گیا ہے جو ٹیلی ویژن پر کرائم سیرئیلس دیکھ کر اس بات کی منصوبہ بندی کرتا ہے کہ پہلے پڑوس کے لڑ کے کو اغواء کرلیا جائے اور اس لڑ کے کی رہائی کے بدلے میں نقد رقم وصول کی جائے لیکن 12 سالہ لڑکے کے اغواء کے بعد حالات کچھ ایسے بن جاتے ہیں کہ اغواء کر نے والا 25 برس کا نوجوان 12 برس کے لڑکے کے بدلے میں اس کے ماں باپ سے رقم طلب نہیں کرپاتا اور اس کو قتل کردیتا ہے ۔ ایک اور رپورٹ میں بتلایا گیا کہ 25 برس کے نوجوان کو جب پتہ چلا کہ پڑوس کے ہاں بڑی رقم آئی ہے تو اس نے پڑوس کے ہاں سے دولت ہڑپنے کیلئے اُن کے لڑکے کو ہی اغواء کرلیا اور اس سارے واقعہ میں تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ مارے جانے والا کم عمر لڑ کا تو مسلمان تھا ہی لیکن جس نوجوان نے اغواء کیا اور پھر اپنے ہاتھوں سے 12 سال کے معصوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا وہ بھی مسلمان ہے۔ ذرا تقابل کریں ایک  غیر مسلم ہے جو قرضوں میں ڈوبا ہے، ٹیکسی چلاکر گزارا کر رہا ہے ، کسی کا قتل نہیں کرتا ہے بلکہ ایک مسافر اپنی غلطی اور بھول سے ا پنا 8 لاکھ مالیتی بیاگ اس کی ٹیکسی میں بھول کر اتر جاتا ہے اور ٹیکسی چلانے والے 24 برس کے دیویندر کاپرا کیلئے اس 8 لاکھ کے بیاگ کو لینے کیلئے کسی کو قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس بیاگ کو لے کر دہلی سے واپس اپنے گاؤں چلا جاتا تب وہ اپنے خاندان کے قرضے واپس کر کے سکون سے زندگی گزار سکتا تھا مگر اس  غیر مسلم نوجوان کو دیکھئے ، میڈیا کو وہ بتلاتا ہے کہ میرے والد نے مجھے بتلایا ہے کہ ضرورت چاہے کتنی بھی بڑی ہو لیکن ایمانداری سے ہرگز منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے۔ بہار کا یہ  غیر مسلم ڈرائیور کوئی زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں تھا دسویں کی تعلیم اس نے درمیان میں چھوڑدی تھی اور ادھر اس حیدرآباد کے نوجوان کو دیکھئے ایک اخباری (TOI) اطلاع کے مطابق یہ نوجوان بی کام کا طالب علم تھا اور جب اس کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پڑوس کے ہاں کافی دولت ہے تو وہ اس دولت کو حاصل کرنے کیلئے طرح طرح کے پاپڑ بیلنے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر جیل پہونچ جاتا ہے ۔

کیا یہ مسلم والدین کی غیر ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دنیا جہاں کی تعلیم تو دلوا رہے ہیں مگر بنیادی سبق ہی نہیں سیکھا پا رہے ہیںکہ دولت کمانے کیلئے حلال طریقے سے کام کرنا چاہئے۔
3 مئی 2017 ء کو اتر پردیش کے بلند شہر سے ایک خبر آتی ہے کہ وہاں پر دائیں بازوں کے ایک گروپ نے سوہی گاؤں کے 45 سالہ غلام محمد کو مار مار کر ختم ہی کر ڈالا ۔ اخبار ہندو نے Youth elopes with girl, relative beaten to death کی سرخی کے تحت تفصیلی خبر لکھی ہے ۔ خبر کے مطابق 27 اپریل 2017 ء کو سوہی گاؤں کا 19 سالہ یوسف اپنے گاؤں کی ایک ہندو لڑکی کو لیکر بھاگ جاتا ہے جس کی لڑکی کے سرپرست پولیس ا سٹیشن میں شکایت بھی درج کرواتے ہیں اور بعد میں ہندو بنیاد پرستوں کا ایک گروپ یوسف کے رشتے دار غلام محمد کے گھر پہنچتا ہے اور اس کو جان سے مار ڈالتا ہے ۔
مظفر نگر کا فساد ہو یا اس سے پہلے کے فسادات اکثر فسادات کا آ غاز ایسے ہی ہوتا ہے جب کوئی مسلمان لڑ کا دوسری لڑکی کو شادی کیلئے بھگالے جاتا ہے ۔ ہونے کو تو ایک مسلم نوجوان کی شادی ہوتی ہے لیکن اس خود غرضانہ حرکت کا خمیازہ پوری مسلم قوم کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ کیا مسلم والدین اور سرپرستوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے آگاہ کریں کہ کسی ایک غیر مسلم لڑکی کو شادی کیلئے کلمہ پڑھا دینا تبلیغ اسلام کا کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے ۔ بی جے پی حکومت میں ہے طلاق ہو یا شریعت ہر ایک طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس پس منظر میں اس طرح کے واقعات پوری مسلم قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں کہ آخر ہم اپنے بچوں کی تربیت کے تعلق سے کب فکرمند ہوں گے اور ہوش کے ناخن لیں گے۔
The News Minute ڈاٹ کام نے 6 مئی 2017 ء کو ہی پرینکا تریمورتی کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹاملناڈو کے تریپور علاقے میں ایک 13 سالہ لڑکی کو فیس بک پر دوستی کے بعد 22 سال کا ابراہیم نامی نوجوان اپنے ساتھ بھگا کر پڈوچیری لیکر جاتا ہے ۔ پولیس کے حوالے سے ویب سائیٹ نے لکھا کہ ابراہیم کو لڑ کیوں کے ساتھ دوستی کرنے کا شوق ہے اور فیس بک پر بھی اس کے 5 ہزار دوستوں میں سے زیادہ تر دوست لڑکیاں ہی ہے اور ابراہیم فیس بک پر اپنے اصلی نام کے ساتھ نہیں بلکہ “Siva I diot” کی آئی ڈی سے دوست بناتا ہے ۔ ٹاملناڈو پولیس نے 30 اپریل کو ابراہیم کو گرفتار کرلیا اور (Posco) قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔
کیا اس طرح کی حرکات ہندو مسلم بھائی چارگی کو فروغ دیتے ہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اگر اس طرح کے چند واقعات اگر جنوب میں ہوجاتے ہیں تو بی جے پی کو ان واقعات کے ذریعہ نہ صرف اپنی روٹیاں سیکنے کا موقع مل جائے گا بلکہ وہ اقتدار کے زینے پر بھی چڑھ سکتی ہے۔

کیا مسلم والدین کی اور سرپرستوں کی ذ مہ داری نہیں ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو سمجھائیں۔ غیر مسلم لڑکیوں سے نکاح کرنا تبلیغ اسلام کا کوئی واحد طریقہ نہیں ہے۔ بغیر کسی بنیادی اسلامی تعلیم کے صرف کلمہ پڑھاکر نکاح کرلینا نہ تو اسلام کی صحیح تصویر ہے اور نہ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے کسی طرح کی عافیت کا مسئلہ ہے ۔ مسلمان اپنے بچوں کو بی کام پڑھا رہے ہیں، اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں ۔ مسلمان اپنی لڑکیوں کی شادی کیلئے فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں اور اب مسلمانوں کو سمجھ لینا ہوگا کہ بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی فکر ان کی کامیابی کی کوئی   ضمانت نہیں ۔ آخر مسلمانوں سے کیسی چوک ہورہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایمانداری ، اخلاق و کردار سے نہیں سنوار پا رہے ہیں اور پھر بھی جنت کے پلاٹ کا اپنے آپ کو تنہا وارث سمجھتے ہیں۔ مسلمان لڑکیوں کی شادی کی فکر کرنے والے سرپرست اب جان لیں کہ اترپردیش کی یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے یو پی کے 49 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرس میں غریب مسلمانوں کی اجتماعی شادیاں کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ کی حکومت نے بھی  غریب مسلمان لڑکیوں کی شادی کیلئے اسکیمات شروع کر رکھی ہے ۔ یہی نہیں غریب مسلمانوں کیلئے فری میں ریسیڈنشل اسکول کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ اب مسلم سرپرستوںاور والدین کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے بچوں کو دیندار بھی نہیں بناسکتے ؟ کیا اس کیلئے بھی کسی سرکاری اسکیم کا انتظار ہے ؟
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپادے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT