Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / یتیموں کی کفالت اور ان کیساتھ حسن سلوک قرب الٰہی کاذریعہ

یتیموں کی کفالت اور ان کیساتھ حسن سلوک قرب الٰہی کاذریعہ

فیڈ ا ور آئی سی این اے کینیڈا سے یتیم طلبہ کو اسکالرشپ ،غیاث الدین بابو خان اور نفیس خاں کا خطاب
حیدرآباد۔ 25دسمبر(پریس نوٹ)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدائشی یتیم تھے۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا اور آپ کمسن ہی تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ دادا کے زیر سرپرستی آپ کی پرورش ہوئی اور وہ بھی کچھ عرصہ بعد وفات پاگئے۔ اللہ رب العزت نے آپ ؐکو افضل الانبیاء خاتم النبیین مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے سر سے والدین کا سایہ اٹھالیتا ہے تو اس میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ وہ یتیموں اور بے سہارا بچوں کو آگے بڑھنے کے مکمل مواقع فراہم کرتا ہے۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اِن مواقع کا صحیح استعمال کیا جائے اور معاشرہ کے ہمدرد و ذمہ دار اصحاب اِن یتیم بچوں  کی تعلیم و تربیت کی ترقی کے لئے راہیں ہموار کریں، ان کی رہنمائی کریں ان کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ کیوں کہ یتیم کے ساتھ ہمدردی حسن سلوک کی قرآن و احادیث میں تاکید کی گئی ہے۔ اِن خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، فائونڈیشن فار اکنامک اینڈ  ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ اور ICNA کنیڈا کے زیر اہتمام یتیم طلبہ میں مالی امداد کی تقسیم کے لئے منعقدہ جلسہ میں کیا۔ جناب غیاث الدین بابو خان کی صدارت میں منعقدہ اس تقریب میں لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد ذکی، محترمہ نفیس خان (کنیڈا) اور محترمہ عائشہ روبینہ کے علاوہ علیم خان، ضیاء الدین نیر بھی شریک تھے۔ جناب غیاث الدین بابو خان نے اپنی تقریر میں حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ اور فیڈ(FEED) کی کارکردگی سے متعلق بتایا کہ گذشتہ 25برس کے دوران ان دو اداروں کی جانب سے ایک سو کروڑ سے زائد رقم 9لاکھ 55ہزار مستحقین میں مختلف زمرہ جات کے تحت تقسیم کی گئی۔ تعلیم پر تین لاکھ 48ہزار طلبہ میں 67کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے۔ اس وقت 98اردو میڈیم اور تین انگلش میڈیم اسکولس ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جارہے ہیں جن میں 24ہزار طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں اور طالبات کا تناسب 72فیصد ہے۔ گذشتہ 25برس کے دوران یتیم طلبہ کی  اسکالرشپ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ICNA ریلیف کنیڈا گذشتہ 5برس سے کچھ یتیم بچوں کو اسکالرشپ فراہم کررہی ہے۔ 2016ء میں 196 یتیم بچوں میں 36.6 لاکھ روپئے کی رقم تقسیم کی گئی۔ ٹرسٹ اور فیڈ سے ہر سال 10ہزار یتیم بچوں کو اسکول سے لے کر پروفیشنل کورسس کی سطح تک مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس سال 1.60کروڑ یتیم بچوں کی اسکالرشپ پر صرف کی گئی۔ اس کے علاوہ بیوائوں کی بازآبادکاری کے لئے 3.43کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے۔ محترمہ نفیس خان نے کہا کہ جو اصحاب حیثیت ہیں ان کا یہ فریضہ ہے کہ معاشرہ کے مستحقین کی مدد کریں۔ جنہیں اللہ رب العزت نے اپنی مصلحت اور حکمت سے بعض وسائل سے محروم رکھا ہے تو یہ معاشرہ کی اہل ثروت کا فریضہ ہے کہ وسائل فراہم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے امیر طبقہ کی دولت میں غریب طبقہ کا حصہ مختص کردیا ہے۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوںکو تلقین کی کہ وہ بچوں میں سچ بولنے کی عادت ڈالیں‘ تمام مسائل برائیوں کی جڑ جھوٹ ہے۔ لفٹننٹ جنرل ذکی نے کہا کہ انہیں یتیم بچوں سے مل کر قلبی سکون ملتا ہے۔ ناسازگار حالات میں آگے بڑھنے کا جذبہ دوسروں کو بھی نئے جذبوں سے ہمکنار کرتا ہے۔ محترمہ عائشہ روبینہ نے بھی خطاب کیا۔ جناب ضیاء الدین نیر نے کاروائی چلائی۔ جناب جاوید پیرزادہ نے خیر مقدم کیا۔ اس تقریب میں شہر کی نامور ہستیاں شریک تھیں۔

TOPPOPULARRECENT