Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری امداد

یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری امداد

مہاراشٹرا کے بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے کار کا اعتراض
ممبئی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : حکومت مہاراشٹرا نے یتیم خانوں اور بیت الاطفال میں مقیم بچوں سے زیادہ چارہ خانوں ( فوڈر کیمپس ) میں رکھے گئے مویشیوں کے لیے فنڈس مختص کیے ہیں ۔ یہ الزام آج بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے نے عائد کیا جو کہ ضلع امراوتی میں حلقہ اسمبلی مورشی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت فوڈر کیمپس میں ہر ایک مویشی کے لیے یومیہ 70 روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ یتیم خانوں اور اطفال خانوں میں قیام پذیر ایک بچہ پر یومیہ صرف 30 روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بچوں پر مویشیوں کو ترجیح دینے پر اعتراض کیا ۔ کہا کہ یہ شدید نا انصافی ہے کہ ایک مویشی کے لیے 70 روپئے اور بچہ کے لیے صرف 30 روپئے صرف کئے جائیں ۔ بی جے پی لیڈر نے بچوں کے لیے امدادی رقم میں ماہانہ 900 روپئے سے 1500 روپئے اضافہکا مطالبہ کیا ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع لاتور ، عثمان آباد اور بیڑ میں گذشتہ سال اگست سے 255 مویشیوں کے چارہ خانے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور ریاست بھر میں 1,105 چلڈرنس ہومس پائے جاتے ہیں ۔ جس میں 1,062 مختلف غیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں اور حکومت ایک بچہ کے لیے ماہانہ 900 روپئے ادا کرتی ہے ۔ ریاستی محکمہ بہبود اطفال و خواتین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی این جی اوز کو گذشتہ 3 سال سے سرکاری گرانٹ اجراء نہیں کی جارہی ہے ۔ جب کہ محکمہ نے واجب الادا بقایا جات کے لیے 156 کروڑ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں عطیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ۔۔یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری امداد
مہاراشٹرا کے بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے کار کا اعتراض
ممبئی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : حکومت مہاراشٹرا نے یتیم خانوں اور بیت الاطفال میں مقیم بچوں سے زیادہ چارہ خانوں ( فوڈر کیمپس ) میں رکھے گئے مویشیوں کے لیے فنڈس مختص کیے ہیں ۔ یہ الزام آج بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے نے عائد کیا جو کہ ضلع امراوتی میں حلقہ اسمبلی مورشی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت فوڈر کیمپس میں ہر ایک مویشی کے لیے یومیہ 70 روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ یتیم خانوں اور اطفال خانوں میں قیام پذیر ایک بچہ پر یومیہ صرف 30 روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بچوں پر مویشیوں کو ترجیح دینے پر اعتراض کیا ۔ کہا کہ یہ شدید نا انصافی ہے کہ ایک مویشی کے لیے 70 روپئے اور بچہ کے لیے صرف 30 روپئے صرف کئے جائیں ۔ بی جے پی لیڈر نے بچوں کے لیے امدادی رقم میں ماہانہ 900 روپئے سے 1500 روپئے اضافہکا مطالبہ کیا ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع لاتور ، عثمان آباد اور بیڑ میں گذشتہ سال اگست سے 255 مویشیوں کے چارہ خانے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور ریاست بھر میں 1,105 چلڈرنس ہومس پائے جاتے ہیں ۔ جس میں 1,062 مختلف غیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں اور حکومت ایک بچہ کے لیے ماہانہ 900 روپئے ادا کرتی ہے ۔ ریاستی محکمہ بہبود اطفال و خواتین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی این جی اوز کو گذشتہ 3 سال سے سرکاری گرانٹ اجراء نہیں کی جارہی ہے ۔ جب کہ محکمہ نے واجب الادا بقایا جات کے لیے 156 کروڑ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں عطیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ۔۔یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری امداد
مہاراشٹرا کے بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے کار کا اعتراض
ممبئی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : حکومت مہاراشٹرا نے یتیم خانوں اور بیت الاطفال میں مقیم بچوں سے زیادہ چارہ خانوں ( فوڈر کیمپس ) میں رکھے گئے مویشیوں کے لیے فنڈس مختص کیے ہیں ۔ یہ الزام آج بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے نے عائد کیا جو کہ ضلع امراوتی میں حلقہ اسمبلی مورشی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت فوڈر کیمپس میں ہر ایک مویشی کے لیے یومیہ 70 روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ یتیم خانوں اور اطفال خانوں میں قیام پذیر ایک بچہ پر یومیہ صرف 30 روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بچوں پر مویشیوں کو ترجیح دینے پر اعتراض کیا ۔ کہا کہ یہ شدید نا انصافی ہے کہ ایک مویشی کے لیے 70 روپئے اور بچہ کے لیے صرف 30 روپئے صرف کئے جائیں ۔ بی جے پی لیڈر نے بچوں کے لیے امدادی رقم میں ماہانہ 900 روپئے سے 1500 روپئے اضافہکا مطالبہ کیا ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع لاتور ، عثمان آباد اور بیڑ میں گذشتہ سال اگست سے 255 مویشیوں کے چارہ خانے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور ریاست بھر میں 1,105 چلڈرنس ہومس پائے جاتے ہیں ۔ جس میں 1,062 مختلف غیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں اور حکومت ایک بچہ کے لیے ماہانہ 900 روپئے ادا کرتی ہے ۔ ریاستی محکمہ بہبود اطفال و خواتین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی این جی اوز کو گذشتہ 3 سال سے سرکاری گرانٹ اجراء نہیں کی جارہی ہے ۔ جب کہ محکمہ نے واجب الادا بقایا جات کے لیے 156 کروڑ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں عطیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ۔۔یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری امداد
مہاراشٹرا کے بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے کار کا اعتراض
ممبئی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : حکومت مہاراشٹرا نے یتیم خانوں اور بیت الاطفال میں مقیم بچوں سے زیادہ چارہ خانوں ( فوڈر کیمپس ) میں رکھے گئے مویشیوں کے لیے فنڈس مختص کیے ہیں ۔ یہ الزام آج بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے نے عائد کیا جو کہ ضلع امراوتی میں حلقہ اسمبلی مورشی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت فوڈر کیمپس میں ہر ایک مویشی کے لیے یومیہ 70 روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ یتیم خانوں اور اطفال خانوں میں قیام پذیر ایک بچہ پر یومیہ صرف 30 روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بچوں پر مویشیوں کو ترجیح دینے پر اعتراض کیا ۔ کہا کہ یہ شدید نا انصافی ہے کہ ایک مویشی کے لیے 70 روپئے اور بچہ کے لیے صرف 30 روپئے صرف کئے جائیں ۔ بی جے پی لیڈر نے بچوں کے لیے امدادی رقم میں ماہانہ 900 روپئے سے 1500 روپئے اضافہکا مطالبہ کیا ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع لاتور ، عثمان آباد اور بیڑ میں گذشتہ سال اگست سے 255 مویشیوں کے چارہ خانے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور ریاست بھر میں 1,105 چلڈرنس ہومس پائے جاتے ہیں ۔ جس میں 1,062 مختلف غیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں اور حکومت ایک بچہ کے لیے ماہانہ 900 روپئے ادا کرتی ہے ۔ ریاستی محکمہ بہبود اطفال و خواتین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی این جی اوز کو گذشتہ 3 سال سے سرکاری گرانٹ اجراء نہیں کی جارہی ہے ۔ جب کہ محکمہ نے واجب الادا بقایا جات کے لیے 156 کروڑ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں عطیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ۔۔یتیم بچوں سے زیادہ مویشیوں کیلئے سرکاری

امدادمہاراشٹرا کے بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے کار کا اعتراض

ممبئی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : حکومت مہاراشٹرا نے یتیم خانوں اور بیت الاطفال میں مقیم بچوں سے زیادہ چارہ خانوں ( فوڈر کیمپس ) میں رکھے گئے مویشیوں کے لیے فنڈس مختص کیے ہیں ۔ یہ الزام آج بی جے پی رکن اسمبلی انیل بونڈے نے عائد کیا جو کہ ضلع امراوتی میں حلقہ اسمبلی مورشی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت فوڈر کیمپس میں ہر ایک مویشی کے لیے یومیہ 70 روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ یتیم خانوں اور اطفال خانوں میں قیام پذیر ایک بچہ پر یومیہ صرف 30 روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بچوں پر مویشیوں کو ترجیح دینے پر اعتراض کیا ۔ کہا کہ یہ شدید نا انصافی ہے کہ ایک مویشی کے لیے 70 روپئے اور بچہ کے لیے صرف 30 روپئے صرف کئے جائیں ۔ بی جے پی لیڈر نے بچوں کے لیے امدادی رقم میں ماہانہ 900 روپئے سے 1500 روپئے اضافہکا مطالبہ کیا ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع لاتور ، عثمان آباد اور بیڑ میں گذشتہ سال اگست سے 255 مویشیوں کے چارہ خانے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور ریاست بھر میں 1,105 چلڈرنس ہومس پائے جاتے ہیں ۔ جس میں 1,062 مختلف غیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں اور حکومت ایک بچہ کے لیے ماہانہ 900 روپئے ادا کرتی ہے ۔ ریاستی محکمہ بہبود اطفال و خواتین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی این جی اوز کو گذشتہ 3 سال سے سرکاری گرانٹ اجراء نہیں کی جارہی ہے ۔ جب کہ محکمہ نے واجب الادا بقایا جات کے لیے 156 کروڑ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں عطیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT