Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / یشودھا ہاسپٹل میں دو نوجوانوں کو شریک کیا گیا تھا

یشودھا ہاسپٹل میں دو نوجوانوں کو شریک کیا گیا تھا

ایک کے سینے اور دوسرے کے پیٹ میں گولی کے نشان تھے، ڈاکٹر کا بیان قلمبند

حیدرآباد ۔ /20 ڈسمبر (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج ایک اور ڈاکٹر نے نامپلی سشن عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا ۔ ڈاکٹر کے ستیہ نارائن ریڈی جو یشودھا ہاسپٹل ملک پیٹ کے ریسیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) تھے نے سال 2011 ء میں عبداللہ بن یونس یافعی اور عود بن یونس یافعی کو دواخانہ میں شریک ہونے اور ان کے علاج سے متعلق تمام تفصیلات بیان کی ۔ گواہ نے عدالت کو بتایا کہ /30 اپریل 2011 ء کو دو نوجوان صبح 10 بجے دواخانہ لائے گئے تھے اور ان کے جسم پر گولیوں کے گہرے زخم ہونے کے سبب شریک کرلیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ عبداللہ بن یونس یافعی کے سینے پر گولی کا زخم تھا جبکہ عود بن یونس یافعی کے پیٹ میں گولی کے نشان پائے گئے ۔  وکیل دفاع کی جانب سے جرح کے دوران آر ایم او نے بتایا کہ حملے کے دن ڈاکٹر مہیندر ریڈی نے زخمیوں کا علاج کیا تھا اور انہوں نے چندرائن گٹہ پولیس کو یافعی برادران کے دواخانے میں شریک ہونے کی اطلاع دی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ چندرائن گٹہ پولیس نے ہاسپٹل پہونچ کر عبداللہ بن یونس یافعی اور عود بن یونس یافعی کے بیانات قلمبند کئے تھے ۔ وکیل دفاع کی جانب سے سوال کئے جانے پر ڈاکٹر ستیہ نارائن ریڈی نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سی سی ایس یا انسپکٹر نے نوجوانوں کے علاج کے دوران دواخانہ پہونچ کر وہاں کا معائنہ کیا ۔ دواخانہ میں کئے گئے علاج اور زخم سے متعلق سرٹیفکیٹ دواخانہ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دواخانہ کے سرٹیفکیٹس پر ڈاکٹر کے دستخط موجود نہیں ہے ۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج نے کیس کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT