Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / یعقوب میمن کو سزائے موت پر اسد الدین کے بیان پر تنازعہ

یعقوب میمن کو سزائے موت پر اسد الدین کے بیان پر تنازعہ

دہشت گردی کے مسئلہ پر فرقہ پرستی سے گریز کیلئے بی جے پی کا مطالبہ

حیدرآباد۔/24جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی دھماکوں کے مقدمہ میں یعقوب میمن کو دی گئی سزائے موت پر ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ مجلس کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ یعقوب میمن کو اس کے مذہب کے سبب اس انجام پر پہنچنا پڑا ہے ۔ جس کے جواب میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہا کہ عدلیہ کااحترام نہ کرنے والے پاکستان جاسکتے ہیں۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ اسد اویسی، دہشت گردی کے مسئلہ پر فرقہ پرست سیاست میں ملوث ہورہے ہیں اور کہا کہ اس سے بدترین اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔

اویسی نے اس مسئلہ پر تنازعہ پیدا کرتے ہوئے ممبئی دھماکوں کے مقدمہ میں جرم کے واحد مرتکب کو تختہ دار پر بھیجنے سے متعلق حکم پر سوال اٹھایا اور دریافت کیا کہ بابری مسجد کی انہدامی، ممبئی اور گجرات فسادات کے خاطیوں کو ایسی سزا کیوں نہیں دی گئی؟ جو خود بھی ایک اصل گواہ ہے؟ ۔ اس دوران بی جے پی کے ایم پی ساکشی مہاراج نے کہا کہ فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کو ختم کیا جائے۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ یعقوب میمن کو ہم نے نہیں عدالتوں نے سزا دی ہے، دہشت گردی میں دہشت گرد ہی ہوتا ہے ۔ فرقہ پرستی کی سیاست ختم کی جانی چاہیئے۔‘‘ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ ’’ اویسی کو ہر چیز میں مذہب نظر آتا ہے۔ دہشت گردی کے مسئلہ پر فرقہ پرست سیاست کی اس سے بدتر اور کوئی شکل نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ پرکاش جاوڈیکر نے یاد دلایا کہ اویسی نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اگنی، آکاش اور ارجن جیسے دفاعی اسلحہ کے ناموں کو ہندو قرار دیا تھا جس پر وہاں موجود ایک آفیسر نے ان سے کہا تھا کہ ان مزائیلوں کے معمار ممتاز سائنسداں اے پی جے عبدالکلام ہی تھے جو صدر جمہوریہ کے جلیل القدر منصب پر بھی فائز ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT