Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / یعقوب میمن کی درخواست پرسپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کا آج فیصلہ

یعقوب میمن کی درخواست پرسپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کا آج فیصلہ

نئی دہلی ۔ 28 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سزائے موت یافتہ مجرم یعقوب میمن کے حشر کے بارے میں تجسس میں آج مزید اضافہ ہوگیا جبکہ سپریم کورٹ نے ایک تین رکنی بنچ تشکیل دی جبکہ چند گھنٹے قبل ایک دو رکنی بنچ نے یعقوب میمن کی درخواست پر جس نے 30 جولائی کو ان کو پھانسی پر لٹکانے کے حکم پر حکم التواء جاری کرنے کی اپیل کی گئی تھی، منقسم فیصلہ کیا۔ جسٹس اے آر ڈوے اور جسٹس کورین جوزف کے درمیان اس مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا تھا اس لئے معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا ایس ایچ دتو کے سپرد کردیا گیاجنہوں نے تین ججس دیپک مشرا ، پرافلا سی پنت اور امیتوا رائے پر مشتمل ایک وسیع تر بنچ تشکیل دی اور اسے 30 اپریل کی سزائے موت پر حکم التواء جاری کرنے کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ یعقوب میمن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ عدالت کے اجلاس پر تمام قانونی یکسوئی کے وسائل استعمال کرنے سے پہلے ہی اس کی موت کا وارنٹ جاری کردیا گیا ہے ۔

 

یعقوب میمن کی درخواست پر سپریم کورٹ کی بنچ منقسم، فیصلہ چیف جسٹس کے حوالہ

نئی دہلی 28 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کی ایک دو رکنی بنچ نے منقسم فیصلہ یعقوب عبدالرزاق میمن کی درخواست پر سنایا جو 1993 ء کےممبئی دھماکہ مقدمہ کا واحد سزا یافتہ مجرم ہے۔ 30 جولائی کو اُس کی پھانسی مقرر ہے جس نے اُس پر حکم التواء کی درخواست دی تھی۔ درخواست کو چیف جسٹس آف انڈیا کے سپرد کردیا گیا تاکہ وہ اِس کا قطعی فیصلہ سنائے۔ جسٹس اے آر داوے نے درخواست مسترد کردی جبکہ جسٹس کورین جوزف نے سزائے موت کے وارنٹ پر 30 اپریل کو حکم التواء جاری کیا تھا۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی اور دیگر سینئر ایڈوکیٹس بشمول راجیو رامچندرن نے یعقوب میمن کی پیروی کی۔ انھوں نے کہاکہ چونکہ دو ججس میں اختلاف ہے اِس لئے موت کی سزا کے وارنٹ پر التواء جاری کیا جانا چاہئے کیونکہ قانون کے تحت اگر ایک جج التواء جاری کرتا ہے اور دوسرا جاری نہیں کرتا تو ایسا کیا جانا چاہئے۔ بنچ نے معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا ایچ ایل دتو کے سپرد کردیا تاکہ اختلاف رائے کی وجہ سے موت کے وارنٹ پر حکم التواء جاری کرنے کا فیصلہ کریں۔ بنچ نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ ایک مناسب بنچ تشکیل دیں اور معاملہ کی سماعت کل کریں۔ جسٹس داوے نے میمن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ گورنر مہاراشٹرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ درخواست رحم پر موت کے وارنٹ کی تعمیل سے پہلے فیصلہ کریں۔ میمن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اُن کی کیوریٹیو درخواست کا 21 جولائی کو فیصلہ کرتے وقت درست طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔  جسٹس داوے نے جسٹس کورین سے اس معاملہ پر اختلاف رائے ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ موت کے وارنٹ پر جو ممبئی کی ٹاڈا عدالت نے 30 اپریل کو جاری کیا ہے، وہ اِس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کو فیصلہ کرنا چاہئے۔ جسٹس کورین نے کہاکہ وہ جسٹس داوے سے اتفاق کرنے سے قاصر ہیں کیوں کہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT