Sunday , September 24 2017
Home / عرب دنیا / یمنی صدر کا حوثیوں کے خفیہ معاہدہ اور حزب اللہ کے مکتوب کا انکشاف

یمنی صدر کا حوثیوں کے خفیہ معاہدہ اور حزب اللہ کے مکتوب کا انکشاف

انقرہ ۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام)یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے ایک مرتبہ پھر ایران پر حوثی ملیشیاؤں کی فنڈنگ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یہ الزام انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اُردوگان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں دہرایا۔ اس موقع پر اپنے ملک میں ایران کی حالیہ مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے یمنی صدر نے باور کرایا کہ ایران کے لیے اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ملیشیاؤں کو مالی امداد اور اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی حکام نے اپنی جیلوں میں ایرانی ’’پاسداران انقلاب‘‘ اور لبنان کی ’’حزب اللہ‘‘ کی ملیشیاؤں کے ارکان کو قید میں رکھا ہوا تھا۔ ہادی نے انکشاف کیا کہ انہیں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کا ایک مکتوب موصول ہوا جس سے یمن میں باغی ملیشیاؤں کی مدد اور فتنہ بھڑکانے میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کی ایک بار پھر تصدیق ہوتی ہے۔ اس سے ایک بار پھر ملک میں دہشت گردوں کے باہمی تعلق کا کے شواہد ملتے ہیں۔ ہادی نے حوثیوں اور معزول صدر صالح کے درمیان ایک خفیہ معاہدے کا بھی انکشاف کیا۔ انقرہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ “حوثیوں کا سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ عبدالملک الحوثی ان کا مذہبی پیشوا اور معزول یمنی صدر کا بیٹا سیاسی پیشوا ہوگا۔ مزید یہ کہ یہ لوگ لامحدود مدت تک یمن پر حکمرانی کریں گے، تاہم یمنی عوام نے اس کو مسترد کردیا جس پر حوثیوں نے بغاوت کرڈالی۔ ’’حوثیوں کو بتا دیا گیا تھا کہ ایرانی تجربہ یمن میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ اس گروہ کیساتھ ایک سال تک بات چیت کی گئی جس کے دوران یمن کو 60 برسوں سے درپیش تمام مسائل پیش کیے گئے اور حوثیوں نے 11 متنازعہ نکات بھی پیش کئے تاہم ان نقصان پہنچانے والے نکات پر صرف ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کیلئے آمادگی ظاہر کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT