Monday , October 23 2017
Home / مضامین / یمن : امن کی طرف گامزن

یمن : امن کی طرف گامزن

عرفان جابری
یمن میں حوثی باغیوں اور سابق صدر صالح کی ملیشیاؤں(رضاکار جوانوں کی ہنگامی فوجیں) نے مل کر غیرقانونی طور پر حکومت کو ہتھیا کر مملکت کو بے معنی جنگ میں جھونک رکھا ہے اور اس کے سماجی تانے بانے، معاشی اور اقتصادی وسائل اور بنیادی ڈھانچہ کو تباہ کردیا ہے۔ موجودہ صدر مارشل عبدالرب منصور ہادی کی سعی ہے کہ یمن میں امن بحال ہوجائے اور اس کیلئے مملکت کے وسائل، بھاری اور اوسط نوعیت کے اسلحہ اور میزائلوں پر ملیشیاؤں اور فرقہ واری ٹولیوں کے کنٹرول کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ان ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذریعہ وہ یمن، عرب جزیرہ نما اور خلیج کی سلامتی اور استحکام نشانہ بناتے ہیں۔ منصور ہادی کا ماننا ہے کہ یمن میں دہشت گردی اور انتہاپسندی نے سارا ماحول بگاڑ رکھا ہے اور جب تک اس کے عوامل سے نہیں نمٹا جاتا، اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ممکن نہیں۔ اُن کا ادعا ہے کہ حوثی باغی اور صالح کی ملیشیاؤں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی سے طوفان مچا رکھا ہے۔ یمنی عوام کیلئے ان ملیشیاؤں کی مجرمانہ حرکتیں داعش؍ آئی ایس آئی ایل، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی کارستانیوں سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ ان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں عام شہریوں، بچوں اور ضعیف افراد کو تک ہلاک کردینا، اغوا، کسی کو بھی جبری طور پر لاپتہ کردینا، شہروں کا محاصرہ کرلینا، عوام کی آزادیوں پر روک لگانا اور لوگوں پر بے مقصد کی جنگ مسلط کرنا شامل ہیں۔
یمن کی آبادی 27 ملین ہے۔ اس کی سرحدیں سعودی عرب اور عمان سے ملتی ہیں ۔ یمن کو بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے، ایسا چیلنج کہ نہ صرف اس کے سیاسی استحکام، اتحاد اور علاقائی سالمیت بلکہ اس کی مملکت اور سماجی تانے بانے کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ جب سے ایک ملیشیا نے ستمبر 2014ء میں ملٹری بغاوت چھیڑی، یمن کا تبدیلی اقتدار کا پُرامن عمل رک گیا اور ملک خانہ جنگی ، بدامنی کا شکار ہوگیا جہاں ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس سے حکومت کی دہشت گردی اور پُرتشدد انتہاپسندی کے خلاف لڑائی بھی متاثر ہوگئی جس سے خلا پیدا ہوا اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔
تیونس میں ’بہارِ عرب‘ کے فوری بعد جنوری 2011ء میں عوام (بالخصوص نوجوان) اپنی شکایتوں کو لے کر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ یمن میں ہر طرف سے لوگ شامل ہوئے جن میں اوروں کے ساتھ حوثی طبقہ بھی شامل ہوا۔ اُس وقت لوگوں نے حوثیوں سے ہمدردی کی۔ انھیں یمن کے شمالی حصوں کی  تحریک سمجھا گیا جسے کئی برس (2004ء سے 2010ء تک) پرانی حکومت نے نشانہ بنایا تھا۔ کئی ماہ تک دھرنوں اور کئی قربانیوں کے بعد ملک کی نازک صورتحال میں پڑوسی ملکوں کی مدد سے یمنی عوام کو 23 نومبر 2011ء کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی مساعی اور اس کے میکانزم سے کچھ راستہ سجھائی دیا۔ اس مساعی کو آخرکار قبول کیا گیا حالانکہ سابق صدر صالح نے اس میں تاخیر پیدا کرنے کی بہت کوشش کی۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہ تھی۔ عوام کو اس میں یمن کیلئے نئی شروعات نظر آئی جس نے صالح کی 33 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کیا۔

مصالحتی سعی نے دستور کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دو مرحلوں پر مشتمل عبوری مدت کی گنجائش فراہم کی۔ مرحلہ اول میں قومی اتحادی حکومت کی تشکیل اور نئے صدر کا انتخاب ہوگا (جو یمن میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا)۔ اور مرحلہ دوم میں تمام گوشوں کو شامل کرتے ہوئے قومی مذاکرات کانفرنس (این ڈی سی) کا انعقاد، نئے دستور کی تدوین، اور پھر نئے دستور کی مطابقت میں پارلیمنٹ اور صدر کیلئے عام انتخابات کیلئے ماحول تیار کرنا شامل رکھا گیا۔ عبوری دور پُرسکون انداز میں گزر رہا تھا۔ صدر ہادی فبروری 2012ء میں منتخب کئے گئے۔ این ڈی سی جنوری 2014ء میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی جبکہ 10 ماہ تک مذاکرات ہوئے جس کے دوران نہایت مخدوش اور حاشیہ پر ڈال دیئے گئے گروپوں کو تک شامل کیا گیا جن کی ماضی میں کوئی نمائندگی نہ ہوتی تھی۔ کانفرنس نے تمام بڑے مسائل میں 1800 قراردادیں منظور کئے۔ 565 مندوبین (20 فیصد نوجوانان، 30 فیصد خواتین، اور جنوب سے 50 فیصد) نے مہینوں تک نو بڑے مسائل پر مباحث اور غوروخوض کیا جن میں جنوبی تنازعہ اور حوثیوں کا معاملہ شامل ہے۔ نیا دستور مارچ 2014ء میں تشکیل شدہ پورے یمن کی نمائندہ کمیٹی کی جانب سے تدوین کے عمل میں تھا۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم سفارت خانہ جمہوریہ یمن کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2014ء میں حوثیوں نے ایران کی ملٹری اور مالی مدد سے دارالحکومت صنعا کے خلاف اُس وقت تک کا سب سے بڑا خطرہ پیش کرتے ہوئے وہاں سے محض 40 کیلومیٹر شمال میں واقع گورنری امران کی 310 ویں آرمرڈ بریگیڈ پر چند ماہ کی لڑائی کے بعد قبضہ کرلیا ۔ پھر انھوں نے دارالحکومت کی طرف توجہ مبذول کی۔ 21 ستمبر 2014ء کو باغیوں نے صالح کی وفادار فورسیس کی اعانت کے ساتھ فوجی بغاوت کرائی اور دارالحکومت شہر صنعا پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ صدر ہادی نے اُس وقت صورتحال کو کسی بھی طرح بھڑکانے سے گریز کیا تاکہ بہرقیمت عوام کے کئی کارہائے نمایاں اور قربانیاں ضائع نہ ہونے پائیں اور وہ حوثیوں کی آمادگی پر نئی حکومت تشکیل دینے پر راضی ہوگئے تاکہ اقتدار کی منتقلی کی مدت کا کامیاب اختتام کرتے ہوئے طے شدہ وقت میں نئے یمن کی بنیاد رکھی جائے۔ تاہم حوثیوں نے تبدیلی کے عمل کو ناکام بنانے کیلئے صورتحال کو کشیدہ کرنا جاری رکھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر باقاعدہ سیاسی جمہوری عمل شروع ہوجاتا ہے تو جو کچھ انھوں نے طاقت سے حاصل کیا، سب کھونا پڑے گا۔
باغیوں نے 17 جنوری 2015ء کو سکریٹری جنرل این ڈی سی کا اغوا کیا اور دیرینہ نئے دستور کا اولین مسودہ بھی حاصل کرلیا تاکہ اس پر غوروخوض کو روک دیا جائے۔ دو روز بعد 19 جنوری کو صدر اور نئی کابینہ کو حوثیوں نے نظربند کردیا۔ تین یوم بعد صدر اور کابینہ بطور احتجاج مستعفی ہوگئے۔ تب حوثیوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کرلیا کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ دستور کے اعتبار سے پارلیمنٹ کو ملک کا کنٹرول حاصل ہوگا۔ اس کے بعد اندرون ایک ماہ حوثیوں نے پارلیمنٹ کو ہی تحلیل کردیا اور ایک اعلان کے ذریعہ جسے انھوں نے ’’دستوری اعلامیہ‘‘ قرار دیا، ایک انقلابی کمیٹی پر سارے ملک کی نگرانی کی ذمہ داری ڈال دی۔ اس طرح تبدیلی کا عمل پوری طرح رُک گیا۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے 15 فبروری 2015ء کو قرارداد 2201 کے ذریعہ یمن میں بغاوت کی مذمت کی اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور یمن کے حکومتی اداروں پر کنٹرول نیز پُرتشدد حرکتوں کیلئے حوثیوں کی سخت مذمت بھی کی۔ 21 فبروری 2015ء کو صدر ہادی کسی طرح صنعا سے عدن کو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جہاں انھوں نے بعد میں اپنا استعفا واپس لے لیا۔ اس دوران حوثیوں اور صالح کے ملیشیا گروپوں نے اپنی جارحیت جاری رکھی اور بین الاقوامی برادری کی اپیلیں نظرانداز کردیئے۔ ڈسمبر 2014ء سے ڈسمبر 2015ء تک صرف ایک سال میں حوثیوں نے 8458 افراد کو من مانی طور پر محروس کیا جن میں جہدکار اور صحافی شامل ہیں۔ 389 رہائشی مکانات کو محض اس لئے منہدم کردیا گیا کہ وہ ان کے حریفوں کے تھے۔ زدوکوبی کے 1077 معاملے سامنے آئے اور 2706 افراد کو نام نہاد انقلابی کمیٹیوں نے غائب کروا دیا۔ حوثیوں اور صالح کی فورسیس نے صدر ہادی کا عدن تک پیچھا بھی کیا اور نیشنل ایئر فورس کو استعمال کرتے ہوئے وہاں صدارتی محل کو نشانہ بنایا۔ مارچ 2015ء میں صدر ہادی کو سعودی عرب منتقل ہونے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ انھوں نے جی سی سی قائدین سے اعانت کیلئے باقاعدہ اپیل کرتے ہوئے آخری حربہ کے طور پر فوجی مداخلت کی تجویز بھی رکھی ۔ صدر کی اپیل پر سلطنت سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی افواج کی 26 مارچ 2015ء کو تشکیل ہوئی۔

بعدازاں اپریل 2015ء میں سلامتی کونسل نے فیصلہ کن قرارداد 2216 منظور کرتے ہوئے حوثیوں سے فوری اور غیرمشروط طور پر ہر قسم کا تشدد روک دینے اور اپنے تمام قبضوں سے دستبردار ہوجانے کا مطالبہ کیا۔ کونسل نے کہا کہ یمنی باغی تمام ملٹری اور سکیورٹی اداروں اور قانونی حکومت کی اتھارٹی پر اپنا کنٹرول ختم کردے اور تمام تر سیاسی قیدیوں بشمول وزیر دفاع کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھرتی اور ان کے استعمال سے باز آجائے۔ کونسل کی قرارداد نے صالح اور عبدالملک ال حوثی (حوثی باغیوں کا لیڈر) کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
بغاوت کے ابتدائی مرحلوں کے دوران حوثی باغیوں اور صالح کی وفادار فورسیس کا کئی گورنری صوبوں پر کنٹرول تھا۔ اب حکومت کا اتحادی افواج کی مدد سے زائد از 80% یمن پر کنٹرول قائم ہے، جس میں گورنری کے تمام جنوبی علاقے شامل ہیں اور دارالحکومت صنعا کے قریب تک کنٹرول بحال ہوچکا ہے۔ صدر ہادی اب عدن (عبوری دارالحکومت) میں ہیں اور یمن کی مسلح افواج (زائد از 80 بریگیڈز) کی نگرانی اور کمان سنبھال رکھی ہے۔ حوثی باغی اور صالح کی فورسیس اب کئی گورنری علاقوں میں گھر چکے ہیں اور اپنے بعض طاقتور مقامات پر تک اپنا کنٹرول کھو رہے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT