Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / یمن سفارتخانہ پر حملہ کا سعودی عرب پر الزام

یمن سفارتخانہ پر حملہ کا سعودی عرب پر الزام

مشر ق وسطیٰ میں ایران۔ سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
تہران ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران نے آج سعودی جنگی طیاروں پر الزام عائد کیا کہ یہ طیارے دانستہ طور پر یمن میں اس کے سفارتخانہ کو نشانہ بنارہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی میں ایک نئی حد تک تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہیکہ وہ سعودی عرب کے تمام پراڈکٹس کو درآمد کرنے پر پابندی عائد کررہا ہے۔ سعودی عرب نے تہران میں اس کے سفارتخانہ کو نشانہ بنانے اور توڑپھوڑ کرتے ہوئے آتشزدگی کے واقعہ کے بعد ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کرلیا ہے۔ دونوں جانب سفارتی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تہران کا کہنا ہیکہ یمن میں اس کے سفارتخانہ پر کئے گئے سعودی حملہ میں اس کے کئی سفارتی عہدیدار زخمی ہوئے ہیں۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں باغیوں کا کنٹرول ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری کا کہنا ہیکہ سعودی عرب کی یہ دانستہ کارروائی ہے اور یہ حرکت تمام بین الاقوامی کنونشنس کی خلاف ورزی ہے۔ ان کنونشنس کے تحت سفارتخانوں کا تحفظ کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں ایران کے سفارتخانہ کو نقصان پہنچانے کیلئے سعودی عرب ذمہ دار ہے۔ اس معاملہ کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ایران بھی اپنا حق رکھتا ہے۔ ایران نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ایرانیوں کوسعودی عرب کے مقدس شہر مکہ جانے پر پابندی عائد کررہا ہے۔ عمرہ کی غرض سے سعودی عرب جانے کا ارادہ رکھنے والے ایرانی باشندوں کو ویزہ نہیں دیا گیا اور یہ فیصلہ غیرمعینہ مدت تک برقرار رہے گا۔ ایران نے تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانوں پر کئے گئے حملوں کی مذمت کی ہے لیکن پورے خطہ میں احتیاطی اقدامات کے طور پر سعودی عرب کے حلیف ملکوں نے جیسے بحرین، سوڈان اور ڈیجی پوتی نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کرلیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرلئے ہیں جبکہ کویت اور قطر نے اپنے سفیروں کو طلب کرلیا ہے۔ یمن تصادم میں موافق ایران حوثی باغی سعودی اور خلیجی ملکوں کے خلاف سرگرم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT