Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / یمن سے داغے ہوئے اسکڈ میزائل کو روکنے کا سعودی ادعا

یمن سے داغے ہوئے اسکڈ میزائل کو روکنے کا سعودی ادعا

ترکی میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کیلئے سعودی جیٹ لڑاکا طیارے تعینات ‘بروسلز میں فیصلہ
ریاض/ دبئی ۔14فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب نے مملکت کی جانب ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کے یمن سے داغے ہوئے اسکڈ میزائل کا راستہ روک دیا ۔ ریاض زیر قیادت اتحاد نے جو شورش پسندوں سے برسرپیکار ہے سعودی سرکاری خبر رساں ادارہ ایس پی اے سے کہا کہ یہ میزائل سعودی عرب کی فضائی حدود میں دفاعی افواج نے ’’ مقامی وقت کے مطابق ‘‘ 9:45 بجے شب کے قریب کل رات تباہ کردیا ۔ سعودی عرب کی یمن سے متصلہ سرحد سے 100کلومیٹر ( 60میل) کے فاصلہ پر اس میزائل کو تباہ کیا گیا ۔ دریں اثناء حوثی باغیوں نے اپنے ایک بیان میں جو ’ صبا نیوز ڈاٹ نٹ ‘ ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے کہا کہ میزائل کا نشانہ جنوبی سعودی عرب تھا ۔ ابھا علاقائی ایئرپورٹ تھا ۔ یہ میزائل اپنے ہدف پر بالکل درست طریقہ سے لگا ۔کل کا واقعہ تیسرا واقعہ ہے جب کہ سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغے ہوئے میزائل کو مار گرایا گیا ۔ گاڑیوں پر منتقل کئے جانے والے اسکڈ میزائل کا دائرہ کار کافی وسیع ہوتاہے اور یہ بہت طاقتور وار ہیڈ راکٹوں اور موٹر بموں کی بہ نسبت منتقل کرسکتے ہیں جن سے سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے علاقہ میں حملے کئے گئے تھے جن سے 90شہری اور فوجی اتحادی افوج کی یمن میں مداخلت سے اب تک ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے بموجب مارچ میں جنگ کے آغاز سے اب تک 6100سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف شہری تھے ۔ دبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب سعودی عرب نے اپنی جنگی طیارے ترکی فضائی اڈہ پر تعینات کردیئے ہیں تاکہ دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں کارروائیوں میں شدت پیدا کی جائے ۔

ایک سینئر سعودی دفاعی عہدیدار  بریگیڈیئر جنرل احمد الاسیری کے حوالہ سے العربیہ ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ مملکت سعودی عرب کے اب تقریباً تمام جنگی طیارے انسرلک فوجی ہوائی اڈہ ترکی میں تعینات ہیں ۔ وزیر خارجہ ترکی میولت کاوسگلو نے کہا کہ سعودی عرب کے جٹ طیارے انسرلک میں تعینات کئے گئے ہیں۔ دونوں ممالک شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی جنگ میں بھی شامل ہیں ۔ ریاض اور انقرہ دونوں صدر شام بشارالاسد کے مخالف ہیں جن کے وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتہ انتباہ دیا تھا کہ شام میں کوئی بھی زمینی مداخلت جارحیت کے مترادف ہوگی اور اس کی مزاحمت کی جائے گی ۔ اسیری نے کہا کہ طیاروں کی تعیناتی کا فیصلہ جن کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی بروسلز میں امریکہ زیر قیادت مخالف دولت اسلامیہ اتحاد کے ارکان نے کیا تھا جس کے بموجب شام اور عراق میں جہادیوں کے خلاف جنگ میں شدت پیدا کی جائے گی ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ سعودی عرب نے اتحاد کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا اور زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اتحادی افواج میں زمینی کارروائی کی ضرورت پر اتفاق رائے ہوچکا ہے اور سعودی عرب اس فیصلہ کی پابند ہے ۔ اسیری نے کہا کہ فوجی ماہرین کا ایک اجلاس جلد ہی منعقد کیا جائے گا جس کی تفصیلات طئے کی جارہی ہیں ۔ ترکی نے کہا تھا کہ کُرد اور شامی سرکاری فوج کے مورچوں پر شمالی شام میں حملے کئے جائیں گے اس سے خانہ جنگی کے خاتمہ کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوگئی ہیں ۔ شام کی خانہ جنگی میں اب تک 2,60,000سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT