Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / یمن میں القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ پر دو بم حملے ، 11 ہلاک

یمن میں القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ پر دو بم حملے ، 11 ہلاک

ایک فوجی اور دوسری صیانتی چوکی پر بیک وقت مکلا کے قریب خودکش بم حملے
عدن ۔ 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) خودکش بم برداروں نے آج دو فوجی چوکیوں پر القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ جنوب مغربی یمن میں حملہ کرتے ہوئے 11 افراد کو ہلاک کردیا۔ حملہ آور اپنی بموں سے لدی ہوئی لاری کے ساتھ مغربی ضلع حضرموت کے صوبائی دارالحکومت مکلا کی ایک چوکی پر پہنچے تھے۔ صیانتی عہدیداروں کے بموجب دوسرے حملہ آور نے اسی وقت اپنی گاڑی کو ایک فوجی چوکی پر جو قصبہ حجر کے قریب قائم تھی، دھماکہ سے اڑا دیا۔ یہ چوکی مکلا کے مغرب میں 15 کیلو میٹر کے فاصلہ پر تھی۔ حضرموت کے دوسرے فوجی علاقہ میں جنرل فراز سلمین نے قبل ازیں کہا تھا کہ دوسرا بم حملہ شہر کے وسط میں ہوا۔ اس حملہ کا ذمہ دار انہوں نے دہشت گردوں کو قرار دیا تھا۔ 11 افراد ہلاک اور دیگر 18 ان بم حملوں میں زخمی ہوگئے۔ ریاض جریری صدر محکمہ صحت مکلا نے کہا کہ مہلوکین میں چار شہری بھی شامل ہیں۔ کسی بھی گروپ نے تاحال حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مکلا اور مضافاتی قصبہ القاعدہ کے ایک سال تک زیرقبضہ رہے جبکہ حکومت حامی افواج نے سعودی زیرقیادت مخلوط اتحاد کی تائید سے اپریل میں شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ مارچ میں امریکہ کے فضائی حملے القاعدہ کے ایک تربیتی کیمپ پر قصبہ حجر میں کئے گئے جن سے 70 جہادی ہلاک ہوگئے تھے۔ یمن ایک تباہ کن خانہ جنگی میں مبتلا ہے جس میں مارچ 2015ء سے شدت پیدا ہوگئی جبکہ سعودی عرب زیرقیادت ایک مخلوط اتحاد نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں باغیوں پر فضائی حملے کرتے ہوئے شہر کے شمالی اور وسطی علاقوں پر بشمول دارالحکومت صنعا قبضہ کرلیا۔ امریکہ کے محکمہ دفاع کے بموجب ماہ مئی میں امریکی فوجیوں کی ایک مختصر سی تعداد مکلا میںحکومت حامی فوج کی مدد کیلئے تعینات کی گئی تھی۔ امریکہ سمجھتا ہیکہ یمن میں قائم القاعدہ جزیرہ نمائے عرب کا القاعدہ نیٹ ورک ہے اور مہلک ترین شاخ ہے۔ ڈرون حملے کئی بار گذشتہ سال یمن پر امریکہ کی جانب سے کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT