Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / یمن میں جلوس جنازہ پر فضائی حملے ‘ 140سے زیادہ ہلاک

یمن میں جلوس جنازہ پر فضائی حملے ‘ 140سے زیادہ ہلاک

اتحادی افواج کی حملہ میں ملوث ہونے کی تردید ‘ اقوام متحدہ کے رابطہ کارکی شہریوں پر حملے فوری بند کردینے کی اپیل

امریکی تائید سادہ چیک نہیں  :  سعودی عرب کو انتباہ

صنعا ۔ 9اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن میں ایک جلوس جنازہ پر فضائی حملوں سے 140سے زیادہ افراد ہلاک اور 525 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے کہا کہ اس حملہ کیلئے حوثیوں نے سعودی زیر قیادت اتحادی افواج کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ اتحاد پر بین الاقوامی جانچ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس سے فضائی حملوں سے ہلاک ہونے والوں میں اکثریت شہریوں کی ہے ‘ تاہم حملہ کیلئے ذمہ داری قبول کرنے سے سعودی زیر قیادت اتحاد نے انکار کردیا ۔ المسیرہ ٹی وی پر تمیم الشال نے کہا کہ رات بھر میں فضائی حملوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ 520سے زیادہ زخمی اور 100سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں ۔ وہ وزارت صحت یمن کے ترجمان ہیں ۔ یہ اتحادی افواج کا اب تک کا سب سے مہلوک ترین فضائی حملہ تھا ۔ مارچ 2015ء سے سعودی زیرقیادت اتحاد حوثی باغیوں پر بمباری کررہا ہے ۔ سعودی عرب کے کلیدی حلیف امریکہ نے سعودی زیرقیادت اتحاد کی تائید پر فوری نطرثانی کا آغاز کردینے کا انتباہ دیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ صیانتی تعاون ’’ کوئی سادہ چیک ‘‘ نہیں ہے ۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادیوں پر رابطہ کار برائے یمن جامی میک گولڈ ریک نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو صدمہ پہنچا ہے اور وہ ان فضائی حملوں پر برہم ہیں کیونکہ دارالحکومت صنعا میں برادری ہال پر حملہ درحقیقت سوگواروں کے اجتماع پر ایک حملہ تھا ۔ انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شہریوں کے تحفظ کیلئے زور دیتے ہوئے ا س بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ یمن میں شہریوں پر تشدد فوری بند کردیا جائے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد اور رابطہ کار اسٹیفن اوبرائن نے بروقت کارروائی اور حملوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ شہریوں کی حفاظت کریں اور دھماکو ہتھیار یا فضائی بمباری شہری آبادی کے علاقوں میں کرنا ترک کردیں ۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شہری حملوں سے محفوظ رہیں ۔ یہ ہولناک اور گھناؤنا حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ستمبر 2015ء میں اتحادی افواج نے مبینہ طور پر فضائی حملے کر کے شادی کی ایک برات کے قریب بحراحمر کے شہر موکھا میں 131 شہریوں کوہلاک کردیا تھا ‘ اُس وقت بھی سعودی زیرقیادت اتحاد نے اس حملہ میں ملوث ہونے کی تردید کردی تھی ۔ جاریہ سال مارچ میں اتحادی افواج کے فضائی حملہ میں 119 افراد بشمول 106شہری اور 24بچے شمالی صوبہ حجہ میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ کل ہنگامی خدمات کارکنوں نے کم از کم 20 جل کر خاکستر ہوئیں نعشیں اور اعضاء جسمانی جنوبی صنعا کی شعلہ پوش ہوجانے والی عمارت کے ملبہ سے برآمد کی ہے۔ زندہ بچ جانے والو ں کی تلاش ہنوز جاری ہے ۔ کئی زخمی جن کی ٹانگیں چیردی گئی ہیں زیرعلاج ہیں ۔ اتحادی افواج نے ماضی میں جنوبی یمن میں مذہبی اجتماعات پر حملہ سے گریز کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT