Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / یمن میں جھڑپیں ، 40 افراد ہلاک

یمن میں جھڑپیں ، 40 افراد ہلاک

Armed men loyal to the Houthi movement ride on a vehicle during a protest against the Saudi-backed exiled government deciding to cut off the Yemeni central bank from the outside world, in the capital Sanaa, Yemen August 25, 2016. REUTERS/Mohamed al-Sayaghi

عدن ۔ /15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) حوثی باغیوں اور حکومت حامی فوج میں جنوب مغربی یمن کے شہر تاعز میں جھڑپیں ہوگیئں ۔ کرنل صادق الحسینی وفاداری فوجوں کے ترجمان نے کہا کہ 27 حوثی باغی اور 13 حکومت حامی جنگجو باغیوں کے جارحانہ حملے میں ہلاک ہوگئے جو شہر کے محاصرے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں پسپا کردیا گیا ۔ خبررساں اداروں کو آزادانہ طور پر اموات کی تصدیق کا موقعہ نہیں ملا ۔ باغی پہاڑی علاقے میں جہاں سے دفاعی اہمیت کے باب المندب کھاڑی پر نظر رکھی جاسکتی ہے جو بحر احمر کا باب الداخلہ سمجھا جاسکتا ہے لڑائی جاری ہے ۔ اس علاقے کی حفاظت اتحادی افواج کرتی ہیں جو سعودی عرب کی زیرقیادت یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یمن کی خانہ جنگی میں مارچ 2015 ء سے اب تک 6600 سے زیادہ افراد جن میں سے بیشتر شہری تھے ہلاک اور دیگر 30 لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں ۔ اگست کے اوائل میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے شروع کردہ امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد جنگ میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت کی تائید سعودی عرب زیرقیادت اتحاد کررہا ہے ۔ دارالحکومت صنعا پر باغیوں کے قبضے کے بعد صدر عبدالرب فرار ہوکر سعودحی عرب میں جلاوطن حکومت قائم کرچکے ہیں ۔

سعودی عرب میں چوکی پر قبضہ، یمنی باغیوں کا ادعا

صنعاء 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) یمن کے حوثی باغیوں اور اُن کے حلیف فوجیوں نے سعودی عرب کی ایک فوجی چوکی پر جو سرحدی علاقہ جیزان میں قائم تھی، قبضہ کرلیا ہے۔ باغیوں کے فوجی عہدیداروں کے بموجب حوثی باغیوں اور اُن کے حلیفوں نے چوکی پر توپ خانے، راکٹوں اور ہلکے ہتھیاروں سے 11 ستمبر کو حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ سعودی فوج کے ترجمان نے اِس ادعا کو جھوٹی باتیں قرار دے کر مسترد کردیا۔ تاہم 15 منٹ کی ویڈیو جھلکی میں جو سماجی ذرائع ابلاغ کے نیٹ ورک پر شائع کی گئی اور چہارشنبہ کے دن دیر گئے حوثیوں نے اُس کا ادعا کیا تھا ، المصیرہ ٹی وی میں پہاڑی چوٹی پر قائم فوجی چوکی پر شلباری کرتے  ہوئے بتایا گیا ہے۔ فوجیوں کے حملے کی جھلکیاں جو سعودی مفرور فوجیوں کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کا جو وہ چھوڑ کر گئے تھے معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حملہ آور فوج کے ایک رکن نے کہاکہ ہم اُن کے ساتھ اُن ہی کے ہتھیاروں سے جنگ کریں گے۔ جھلکی میں سعودی فوجیوں کو قلعہ بند مورچوں سے فرار ہوتے ہوئے اور زخمی فوجیوں کو بکتر بند گاڑیوں کے عقبی حصہ میں منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حملہ آور فوج نے چوکی پر ایک سعودی گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا۔ جیزان جنوبی سعودی علاقوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں یمنیوں کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ صدی میں ان علاقوں کو غیر قانونی طور پر اپنی مملکت میں شامل کرلیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جیزان کی چوکی پر حملہ اور قبضہ کہیں باغیوں کی اس علاقہ کے دیگر سعودی حصوں پر قبضہ کرنے کی وسیع تر مہم کا ایک حصہ تو نہیں ہے۔

 

 

TOPPOPULARRECENT