Saturday , August 19 2017
Home / عرب دنیا / یمن میں سعودی اتحاد کی مدد کیلئے فوجی مشیروں کی تعداد میں کمی

یمن میں سعودی اتحاد کی مدد کیلئے فوجی مشیروں کی تعداد میں کمی

سعودی عرب کی درخواست پر امریکہ کا فیصلہ ۔ عہدیداروں کی موثر تعیناتی کا دعوی
ریاض 20 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی فوج نے یمن میں سعودی زیر قیادت اتحاد کی فضائی جنگ کی راست مدد کرنے والے انٹلی جنس مشیروں کی تعداد میں کمی کردی ہے ۔ امریکی بحریہ نے آج یہ بات بتائی ۔ پانچویں بیڑے کے ترجمان لیفٹننٹ ایان مک کوناگھے نے بتایا کہ فی الحال سعودی عرب سے انٹلی جنس مشیروں کی تعیناتی کی درخواست موصول نہیں ہورہی ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان مشیروں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ ماہ جون سے شروع ہوا ہے ۔ یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب نے 17 مہینے قبل فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر اسے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ امرکی عہدیداروں نے بھی مشرق وسطی میں اپنے سب سے بڑے حلیف سے کئی مرتبہ خواہش کی ہے کہ وہ یمن میں لڑائی سے دور رہنے والوں کو نقصانات سے بچانے اقدامات کرے۔ لیفٹننٹ کوناگھے نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے مشیروں کی تعداد میں کمی کے باوجود اس کی سعودی عرب کی مدد کرنے کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی وسائل کو مزید موثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد سعودی عرب سے ملنے والی درخواستوں کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے ۔ کوناگھے نے کہا کہ اب تک سب سے زیادہ مشیران جو مقرر کئے گئے تھے ان کی بحرین اور سعودی عرب میں تعداد 45 تھی جو اب گھٹ گئی ہے ۔ یہ مشترکہ سیل گذشتہ سال مارچ میں یمن کے باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے موقع پر قائم کیا گیا تھا ۔ فضائی حملوں کا آغاز کرنے کے بعد عرب اتحادی ممالک نے یمن کو زمینی افواج بھی روانہ کی تھیں تاکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت عبدالرب منصور ہادی کی حکومت کی مدد کی جاسکے کیونکہ یہاں حوثی باغیوں اور ان کے حلیفوں نے یمن کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ حوثی باغیوں کو ایران کی تائید و حمایت حاصل ہے ۔ اتحادی افواج کا یہ بھی دعوی ہے کہ وہ یمن میں صرف نشاندہی کردہ مقامات کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں اور حتی المقدور عام شہریوں کی ہلاکتوں سے گریز کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT